بادشاہ بولا: کیسا رشتہ؟

 

 

بادشاہ بولا: کیسا رشتہ

عثمان شیر

میں نے پچھلے دنوں ایک تاریخی مضمون ذہنی کشادگی کی شکست  گزرگاہ خیا ل کی نذر کیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ اس کی وجہ سے چند دوستوں کے درمیان کچھ بدمزہ بحث چھڑگئی۔ میرا اپنا خیال ہے کہ ایک پرانا بادشاہ سیاسی تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے اور اسی طرح اج کا صدر موجودہ سیاست کا۔ اور دونوں ہی تاریخ کے قارئین اور عوام کے سامنے مواخذہ کے کٹہرے میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔اور کیوں نہیں؟ وہ انکی اور ان کے باپ دادا کی زندگی پر اثر انداز ہوئے ہیں۔مثال کے طور پر پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور ازاد ہندوستان کے باپو موہن داس کرم چند گاندھی قائد اعظم اور مہاتما ہوتے ہوئے بھی اعتراضوں کی زد میں ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی کسی کے سامنے ولی ہوتا ہے اور وہی کسی کے سامنے شیطان۔ یہ میری اپنی رائے ہے اور اسی طرح ہر کو اپنی رائے کا اختیار ہے۔ اب میں مندرجہ ذیل مضمون یہ بتانے کے لئے لکھ رہا ہوں کہ اورنگزیب کا ایسا کردار کوئی انوکھی بات نہیں تھی، اورہندوستان کے بہت سے مسلمان شاہان یہ سب کچھ کر گزرے ہیں جو اورنگزیب نے کیا تھا۔

جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں کہ جانشینی کے قا نون کے نہ ہونے کی وجہ سے اکثر خون خرابے کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوتا تھا کہ کون بادشاہ بنے۔ یہی نہیں، اکثر کسی کے بادشاہ بن جانے کے بعد بھی دوسرے بھائیوں اور قریبی حق دار اس کے لئے راضی نہ ہوتے تھے اور سازشیں اور بغاوت کرتے رہتے تھے کہ شاہ وقت کو تخت سے دستبردار کر کے خود بادشاہ بن جائیں اور اس کے لئے وہ کسی طرح کے ظلم سے پرہیز نہیں کرتے تھے۔ اسی لئے کالج اور یونیورسیٹی میں تاریخ کے امتحانوں میں مسلمانوں کے دور حکمرانی کے تعلق سے اس کہاوت کی تشریح کرنے کو کہا جاتا ہے کہ تخت رشتہ داری کو نہیں پہچانتی ہے  : “Kingship knows no kinship” ۔

ہندوستان میں مسلمانون کی باضابطہ حکومت کا آغاز ترکی سلطانوں سے ہوا جب وسطی ایشیا کا ایک ترک سلطان معزالدین محمد (شہاب الدین) غوری جس کا مرکز غور میں تھا، اس نے پہلے تو غزنی کو فتح کیا ، اس کے بعد میں ہندوستان پر حملہ اور ہوا۔ پشاور پہنچ کر غزنیوں کے گڑھ کو  میں تباہ کردیااور  میں لاہور پرقابض ہو گیا۔  میں پرتھوی راج چوہان کی سپہ سالاری میں ہندووں کی اجتماعی فوج کو ترائین کی دوسری جنگ میں شکست دے کر خود خراسان واپس چلا گیا اور ہندوستان کی یورش کی باگ اپنے معتمد خاص قطب الدین ایبک کے حوالہ کر دیا۔ قطب الدین نے  میں دلی پہنچ کر اس پر قبضہ کر کے مسلمانوں کی حکومت قائم کر دی۔  میں جب سلطان محمدغوری کو جہلم کے قریب کسی نے قتل کردیا تو قطب الدین ایبک نے سلطان ہند کا لقب اختیار کر کے خاندان غلاماں کی حکومت کی بنیا ڈالی۔

قطب الدین کے داماد شاہ التتمش نے اپنی بیٹی رضیہ سلطان کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا مگر اس  میں اس کے انتقال کے بعد اراکین دربار کو ایک عورت کی حکمرانی قبول نہیں تھی۔ اس لئے التتمش کے بیٹے رکن الدین فیروز شاہ کو بادشاہ بنا دیا گیا۔ مگر نکمہ اور اوباش ثابت ہونے
پراسے معزول کر کے چھ ماہ کے بعد رضیہ سلطان کو تخت نشیں کر دیا گیا۔ چار سال حکومت کرنے کے بعدجب رضیہ سلطان جنگ کے سلسلے میں دلی سے دور تھی تو اس کے بھائی بہرام شاہ نے تخت پر قبضہ کرلیا۔ تخت کو واپس لینے کے لئے جب رضیہ جنگ ہار گئی تو بہرام شاہ نے اپنی جوان  سالہ بہن رضیہ اور بہنوئی کو قتل کروا دیا۔

میں جلال الدین خلجی ہندوستان کا بادشاہ بنا۔ وہ ایک نرم دل حکمران تھا اور اس وجہ سے بہت سے لوگ اس سے خوش نہیں تھے ۔اب اس کے چہیتے بھتیجے اور داماد علا الدین خلجی نے خود بادشاہ بننے کی ٹھان لی۔ اپنے گورنری کے دنوں میں اس نے دکن میں دیوناگری پر حملہ کرکے اور شکست دیکر وہاں سے کافی دولت اکٹھے کر لی۔ اس دولت کے ذریعہ اس نے اکثر درباریوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ جلال الدین خلجی بھتیجے کے کارنامے سے خوش ہو کر اس سے ملنے چلا گیا ۔ بادشاہ کے استقبال کے دوران ہی علا الدین نے اپنے ادمیوں کے ذریعہ جلال الدین خلجی کو قتل کروادیا اور  میں خود تخت نشین ہو گیا۔

بابر کا بیٹا نصیر الدین ہمایون جب  میں دلی کے تخت پر بیٹھا تو گجرات کے بہادر شاہ اوربہار کے شیر شاہ سوری کے علاوہ اس کے تین بھائی، کامران، عسکری اور ہندال نے تخت شاہی کے لئے اسے پریشان رکھا حالانکہ تینوں مختلف جگہوں کے گورنر مقرر کر دئے گئے تھے۔ ایک بار جب ہمایون شیر شاہ کا پیچھا کر رہا تھا تو ہندال دار السلطنت پہنچ کر تخت پر قابض ہو گیا۔ کامران نے کبھی شیرشاہ اور کبھی دوسرے بھائیوں سے ملکر ہمایون کے خلاف سازش کی تاکہ وہ خود ہندوستان کا بادشاہ بن جائے۔ لیکن ہمایون ایک نرم دل انسان تھا، اور اس کے باپ بابر نے بھی اسے نصیحت تھی کہ بھائیوں سے اچھا برتاو رکھے۔ اس لئے ان کے قابو میں اجانے کے بعد بھی ہمایون نے ان کو معاف کردیا۔ اخر میں کامران کوجو سب سے زیادہ سازشی تھا درباریوں کے اسرار پر بھی ہمایون نے قتل نہیں کروایالیکن ان کی ضد کے اگے مجبور ہو کراسے اندھا کروا کر مکہ روانہ کردیا تاکہ آئندہ پھر وہ کوئی سازش نہ کرسکے۔

میں جب شہنشاہ اکبر بستر مرگ پر تھا اس وقت اس میں کسی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ شہزادہ سلیم (جہانگیر)کے علاوہ اور کوئی تخت کا دعویدار ہوگا ۔ مگر سلیم نے تخت کوتقریبا اس وقت کھودیا تھا جبکہ اس کے اپنے سترہ سالہ بیٹے خسرو نے تخت کے لئے بغاوت کر دی۔ دو بہت ہی معتبر دباریوں کا تعاون اسے حاصل تھا: ایک امبر کاراجہ مان سنگھ اور دوسر مرزا عزیز کوکا، خسرو کا سسر۔ لیکن زیادہ تر درباریوں نے خسرو کا ساتھ نہیں دیا۔ اکبر کی موت کے بعد اسی سال جہانگیر تخت نشیں ہوگیا۔  میں جب خسرو کو شاہی فوج کے سامنے ہزیمت اٹھانی پڑی توچناب پار کرتے ہوئے اس کو گرفتار کر کے زنجیروں میں باندھ کرشہنشاہ کے پاس لایا گیا۔ سزا کے طور پر اوراس خدشہ میں کہ وہ آئندہ تخت کا دعویدار نہ بنے جہانگیر کے حکم سے اسے اندھا کر دیا گیا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد اس کی روشنی بحال ہو گئی۔ اس کے بعد اسے شہزادہ خرم (شاہجہاں) کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد خرم نے اسے اپنے راستے کا کانٹا سمجھ کر مروا دیا اور بادشاہ کے سامنے اس کی بیماری کا بہانہ کردیا۔

جہانگیر نے  میں شیر افگن کی بیوہ نورجہاں سے شادی کر لی۔ دربار میں اپنا اثر بڑھانے کے لئے نورجہاں نے اپنے بھائی اصف جاہ کی بیٹی ارجمند (ممتاز محل) کی شادی سب سے بڑے بیٹے شہزادہ خرم (شاہجہاں) سے کر دی۔ بعد میں پہلے شوہر سے اپنی بیٹی کی شادی نورجہاں نے جہانگیر کے دوسرے بیٹے شہریار سے کردی۔ ہم سب کو یہ بات معلوم ہے کہ نورجہاں جہانگیر کے ہر فیصلے پر پوری طرح حاوی
ہوگئی تھی۔ جب وہ شہریار کو تخت کا وارث بنانے کی سازشش کرنے لگی تو خرم نے  میں باپ کے خلاف کھلی بغاوت کردی۔ مختلف علاقوں میں تین برسوں کے تعاقب کے بعد آخر تھک ہار کر اس نے باپ سے مصالحت کرلی۔ بادشاہ نے ضمانت کے طور پر اس کو اپنے دو بیٹوں دارا شکوہ اور ارنگزیب کو اپنے پاس رکھ لیا۔ داستان کا یہ ٹکڑا خون خرابے سے بچ گیا، مگر بعد میں انہیں دونوں تاوانی بھائیوں کی کہانی خون الود رہی جس کا تذکرہ ہو چکا ہے۔

اورنگزیب کا جب انتقال ہوا تو اس کا سب سے بڑا بیٹا معظم کابل کا گورنر تھا۔ خبر سن کر وہ دارالسلطنت کی طرف بھاگا اور پہلے اپنے بھائی معظم کو قتل کیا۔ اس کے بعد وہ دکن کی طرف اپنے دوسرے بھائی کام بخش کو ختم کرنے کے لئے روانہ ہوا۔ اس میں کامیابی کے بعد ہی وہ  میں بہادر شاہ کا لقب اختیار کر کے بادشاہ بنا۔

میں جب بہادر شاہ کا انتقال ہوا تو تو اس وقت تخت کا سب سے بڑا دعویدار اس کا منجھلا لڑکا عظیم ایشان تھا جو اس وقت بہار اور بنگال کا گورنر تھا۔ بادشاہت کا اعلان کرنے کے بعد جب وہ ذوالفقار خان کی کمان میں شاہی فوج سے ہار کر دریائے راوی پار کر رہا تھا تو ریت کے دلدل میں دھنس کر مر گیا۔ ذوالفقار خان کی حمایت سے اور بقیہ دو شہزادوں رفیع الشان اور جہان شاہ کو ختم کردینے کے بعد بہادر شاہ کا سب سے بڑا بیٹاجہاندار شاہ تخت نشین ہوا۔ عظیم ایشان کا بیٹا فرخ سیر جو اپنی فوج لے کر باپ کی مدد کو جا رہا تھا کہ باپ کی موت کی خبر سن کر پٹنہ میں خود کو ہندوستان کا بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا اور پٹنہ کا نام عظیم اباد رکھ دیا۔ لیکن جہاندار شاہ ایک نکمہ اور عیش پرست بادشاہ ثابت ہوا۔ اس سے فایدہ اٹھاتے ہوئے فرخ سیرنے ،جس نے اب تک بنگال اور بہار کی گورنری قائم رکھی ہوئی تھی ، دو درباری سید بھائیوں، سید حسن علی اور سیدحسین علی ، کی مدد سے جہاندار شاہ کو تخت سے بے دخل کر کے بادشاہ بن گیا اور دوسرے ہی سال جہاندار شاہ کو قتل کروا مردہ شاہ کو ، اس کا کٹا ہوا سر ایک ڈنڈے کے اوپر رکھ کر،دلی کی سڑکوں پر پھرایا گیا ۔

فرخ سیر سید برادران کی طاقت کو کم کرنے کے لئے ان ہی کے خلاف سازش کرنے لگا توانہوں نے  میں فرخ سیرکو تخت سے بے دخل کر دیا۔ فرخ سیر کو اندھا کروا کر قید میں ڈال دیا گیا اور بعد میں گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ اس کے بعد فرخ سیر کے چچا زاد بھائی رفیع الدرجات کو سید برادران نے بادشاہ بنا دیا۔

بعد کے عرصہ میں شاید مغل شہنشاہیت کی قدر کم ہو گئی تھی کہ اس کی تمنا کے لئے خون خرابے کی کوئی خاص تصویر نظر نہیں اتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں