بائیس جولائی ناروے کا سیاہ دن

بائیس جولائی ناروے کا سیاہ دن

 

بائیس جولائی ناروے کا سیاہ دن
کالم نگار،احسان شیخ
اوسلو
بائیس جولائی ناروے کا سیاہ دن ہے۔جب ایک مذہبی جنونی نے دیکھتے ہی دیکھتے  69  انہترنوجوانوں کی جانیں اس انداز سے لیں کہ جس کو دیکھ کر انسانیت بھی دہل گئی۔دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد گرداننے والوں نے دیکھا  مذہبی اور سماجی منافرت  کے ایک پیروکار نے ناروے کو کس انداز سے داغدار کیا۔اس سانحے میں قربان ہونے والوں کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک ایسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جو کثیرالثقافتی معاشرے پر یقین رکھتی ہے۔یہ نوجوان ناروے کے مختلف شہروں سے اور اوت او یّا جزیرے  میں اپنے سالانہ اجتماع کے سلسلے میں اکٹھے ہوئے تھے۔یہ وہ نوجوان تھے جو ناروے کی بڑی سیاسی جماعت کی ذیلی شاخ کے ارکان تھے  اور جنہوں نے مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنی تھی۔ان میں نسلی نارویجن اور دیگر ممالک کے پس منظر کے حامل  نوجوان شامل تھے۔ وہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق سرگرمیوں میں مشغول تھے کہ اچانک منافرت حسد اوردہشت گردی کے جذبات سے مغلوب قاتل نوجوان نے ان پر فائر کھول دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے   69 قیمتی جانیں لقمہء اجل بن گئیں۔یہ وہ جانیں تھیں جو اپنے مستقبل کے لیے سنہرے خواب دیکھ رہی تھیں۔ان کے خوابوں کا محور انسانی اقدار پرکھڑے اس اصلاحی معاشرے کو نسلی،مذہبی،سماجی اور معاشرتی پس منظر سے بالاتر ہو کر مضبوط بناناتھا۔دنیا کے اس پر سکون اور پر امن معاشرے کے آنگن کو یکایک بے گناہوں کے خون سے تر کر دیا گیا۔ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کا قتل کس بات کی غمازی کرتا ہے؟ شائید اس کے اندر بیٹھے ہوئے خوف کا نتیجہ ہے یا کسی سازش کا نتیجہ ہے  !!!جس میں انسانیت دشمن عوامل اس پر سکون اور پر امن ملک کو بے سکونی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔اس بات کا فیصلہ تو تاریخ بعد میں کرے گی۔فی الوقت تو یہاں کی  عدلیہ اس بات کا تجزیہ کر رہی ہے۔عین ممکن ہے کہ وہ اس خونخوار کیفیت کو اس کی دماغی خلل کا نتیجہ قرار دے کر اس کو علاج کے لیے نفسیاتی ادارے میں بھیج دے یا ہو سکتا ہے کہ وہ اس کو عمر قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دے۔کیونکہ ناروے میں سزائے موت نہیں ہے۔لیکن ایک بات واضع ہے کہ یہ سفاک شخص اس معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا ہے۔اس سلسلے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے میڈیسن کی تیسرے سال کی طالبہ اریبہ شیخ نے کہا مجھے ناروے کی عدالت اور ذمہ داران پر مکمل اعتماد ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ گناہگار نے جو ، معرکہ ، سر انجام دیا ہے  اس کے بارے میں انساف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔میری نظر میں نارویجن قانون بہت ذیادہ انسان دوست قانون ہونے کے ناطے انسانی بنیادوں پر مبنی ہے جس سے انسانیت کے دشمنوں کو فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے۔سانحہء اوت اویّاکے مرکزی کردار کی مثال اس بات کا ثبوت ہے۔
نارویجن قوم کے اس واقعہ کے بعد کا رد عمل اور طرز عمل ایک مثالی اوتاریخی اہمیت کا حامل ہے۔  اس قوم نے جس انداز اور شان سے اتنے بڑے سانحے کا مقابلہ کیا انکا یہ رویہ نارویجن تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کرے گا۔گولیوں کے بجائے انہوں نے اپنے ہاتھوں میں گلاب کے پھول اٹھائے  اور جم غفیرکی شکل میں اکٹھے ہو کر اپنے وطن پہ قربان ہونے والوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ اس سانحہ کا ذمہ دار کوئی اور نہیں انکا اپنا ہی ہے تو انہوں نے ان غیروں کو جو،اب ان کے اپنے ہیںکو بھی ا ظہار یکجہتی میں شامل کرتے ہوئے وہ اعتماد دیا جس کو ختم کرنے کے لیے سفاک قاتل نے 69   بے گناہوں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ہم سلام کرتے ہیں اس قوم کو جس نے اپنی زندگی کی خوشیاں بانٹتے ہوئے اپنے وسائل ہمارے ساتھ شیئر کیے،اور آج ہم خود کو اس معاشرے کا حصہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔اس قوم کی خوشیاں اب ہماری بھی خوشیاں ہیں،ا ور اس کے غم ہمارے غم۔
آج بائیس جولائی ہے اور نارویجن قوم سانحہ ء  جزیرہ ا وت اویّا کی یاد میں  اجتماعی طور پر مختلف تقریبات  کر رہی ہے۔ان تقریبات کے ذریعے وہ اپنی قوم کے لیے قربان ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی  کرنے کے علاوہ اپنی اجتماعیت کا اظہار بھی کرے گی۔اس موقع پر ہمیں بھی ان کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے بھر پور انداز سے حصہ لینا چاہیے کیونکہ اب ہم سب ایک ہیں۔

22.07.2012

 

اپنا تبصرہ بھیجیں