ایک چٹھی لکھ رہا ہوں صدر ِ پاکستان کو

ایک چٹھی لکھ رہا ہوں صدر ِ پاکستان کو

انتخاب اختر چوہدریجناب جبار واصفرحیم یار خان کا حالات حاضرہ پر جگرسوز کلام .

قتل ہوتا دیکھ کر میں جا بجا انسان کو

ایک چٹھی لکھ رہا ہوں صدر ِ پاکستان کو

.صدر جی اِس ملک سے اپنا تو جی اب بھر گیا

ہر بشر جس ملک میں جینے سے پہلے مر گیا….

چار سو اِس ملک میں تاریکیوں کا راج ہے

کل تو بد تر تھا مگر کل سے بھی بدتر آج ہے

.ہر طرف اس ملک میں دہشت سی ہے پھیلی ہوئی

جس طرف بھی دیکھئے وحشت سی ہے پھیلی ہوئی

.کس قدر اِس ملک میں قانون ہے بکھرا ہوا

جس طرف بھی دیکھئے بس خون ہے بکھرا ہوا.

کیا سناں میں تمہیں ان لڑکیوں کی داستاں

کھا گیا جن کی جوانی کو ہوس کا آسماں.

کیا تمہارا جی نہیں کٹتا وہ مائیں دیکھ کرہر طرف

لٹتی ہوئی کم سن ردائیں دیکھ کر.

آ اب تم کو دکھاں ایک ننھی جان ک

وجس نے نوچا رات بھر سوکھے ہوئے اِک نان کو.

پھر وہ ننھی جان کیااحسان ہم پہ کر گئی

مفلسی میں بھوک کے ہاتھوں بلک کر مر گئی.

یہ ستم کچھ اِس لئے تجھ کو نظر آتا نہیں

کیونکہ اِس کی زد کے اندر تیرا گھر آتا نہیں.

صدر جی اِس ملک میں مجھ سے جیا جاتا نہیں

روز اپنوں کا لہو مجھ سے پیا جاتا نہیں.

اب تمہارے سامنے سارے مرے حالات ہیں

تم کو اب معلوم ہے واصف کے جو جذبات ہیں.

میں تو کرتا ہوں تہہ دل سے دعا تیرے لئے

منتظر ہوں میں کہ کیا کرتے ہو تم میرے لئ

 

اپنا تبصرہ بھیجیں