ایک پیالی گَوشت

*******🌸✨🌸✨🌸

بیٹا! یہ ایک پیالی گوشت جمال موچی کو دے آؤ… ‘‘
ابّاجان کا یہ حکم سن کر میں کچھ حیران ہوا… اُس وقت میری عمر بارہ سال کے لگ بھگ تھی اور میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا…… میں نے جواب میں ان سے کہا۔
’’لیکن ابّاجان… آج تو عید کا دن ہے… ہر گھر میں گوشت موجود ہے… سب لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں گوشت پہنچا رہے ہیں… ہم نے قربانی کی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے رشتے دار, دوست اور پڑوسی ہمارے گھر میں گوشت دینے آ رہے ہیں … پھر یہ ایک پیالی سالن آپ اُسے کیوں بھیج رہے ہیں، اُس کے گھر بھی تو اسی طرح لوگ گوشت پہنچا رہے ہونگے؟؟ ۔‘‘

’’بیٹے وہ گھر میں اکیلا ہے … وہ غریب ہے اور اُسے کوئی گوشت نہیں دے گا … کیونکہ غریب کا نہ کوئی رشتے دار نہ کوئی دوست نہ کوئی ہمسائیہ…… ، اُسے کسی گھر میں سے گوشت نہیں ملنے والا… ہاں اگر کہیں سے کوئی بھول چوک سے ہڈی بوٹی آ بھی گئی تو وہ پکا کر کیسے کھائے گا ……؟؟؟؟ ۔‘‘
’’جی اچھا ابّاجان… لائیے… دے آتا ہوں۔‘‘
میں نے پیالی ان سے لے لی اور گھر سے نکل آیا… بازار لوہاراں میں ہماری دکان کے بالکل سامنے سڑک کے کنارے جمال موچی جوتیاں مرمت کرتا تھا… گلی میں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی، وہ اسی میں رہتا تھا، میں پیالی اٹھائے اس کی کوٹھری کے دروازے پر پہنچا تو وہ چولھے پر ہانڈی رکھے ہوئے نظر آیا… ہانڈی کے نیچے آگ جل رہی تھی اور ہانڈی میں کچھ پک رہا تھا…
میں السلام علیکم کہہ کر اندر داخل ہوا تو اس نے میری طرف دیکھا… اِس وقت میں دل ہی دل میں ابّاجان پر اپنا غصّہ اتار چکا تھا اور اپنے آپ سے یہ کہہ رہا تھا کہ بلاوجہ انہوں نے ایک پیالی گوشت بھیجا… یہ تو اچھا بھلا گوشت پکا رہا ہے …

’’آؤ بیٹا!‘‘ جمال چچا نے فوراً کہا: ’’کیا پکا رہے ہیں جمال چچا۔‘‘ … ’’بس بیٹا… پکانا کیا ہے، مسور کی دال پکا رہا ہوں۔‘‘
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا…
میں نے فوراً کہا:
’’جی کیا کہا…دال پکار ہے ہیں… لیکن آج تو عید کا دن ہے اور ہر گھر میں گوشت ہی گوشت موجود ہے، سب لوگ گوشت بھون رہے ہیں۔‘‘

’’صبح سے یہ وقت آگیا بیٹا، کسی نے مجھے گوشت نہیں بھیجا، جب میں انتظار کر کر کے تھک گیا تو بازار سے دال لے آیا اور اب اسے پکا رہا ہوں۔‘‘

’’اوہ… اوہ… یہ لیں ابّاجان نے پکا پکایا گوشت آپ کے لیے بھیجا ہے۔‘‘

’’واہ بیٹا واہ… یہ کام کیا ہے آپ کے ابّا جان نے… چلو میں بھی عید کے دن گوشت کھا ہی لوں گا… ورنہ یہ حسرت رہتی کہ عید کے دن بھی گوشت نہ کھا سکا…… ”

اچھا جمال چچا… میں چلا، پیالی پھر کسی وقت لے لوں گا۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘

میں نے گھر آکر ابّاجان کو مسور کی دال والی بات بتائی تو ابّاجان کے ساتھ امّی اور چھوٹی بہن بھی بہت حیران ہوئے …

امّی نے فوراً کہا: ’’تب تو ایک چھوٹی سی پیالی میں ہم نے بہت کم گوشت بھیجا۔‘‘
’’ہاں بھئی… ایک بڑے برتن میں گوشت اسے دے آؤ… تاکہ وہ خوب پیٹ بھر کر کھا سکے۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘

جلد ہی میں دوبارہ جمال چچا کی کوٹھری میں داخل ہوا۔‘‘

’’جمال چچا… میری والدہ نے یہ گوشت اور آپ کے لیے بھیجا ہے۔‘‘

’’واہ بھئی واہ… مزہ آ گیا… چلو اپنی بھی عید ہو گئی۔‘’
اس نے خوش ہو کر کہا…..

……………………………………….

یہ آج سے 58 یا 59 سال پہلے کا واقعہ ہے.. لیکن یہ واقعہ میرے ذہن میں اس طرح چپکا کہ پھر کبھی ذہن سے مٹ نہ ہو سکا اور خاص طور پر عید قربان کے موقعے پر تو اس کا ذہن میں تازہ ہونا ایک معمول بن گیا ہے…
گھر کے لوگ روایتی انداز میں تمام رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوست احباب کے من چاہے حصّے لگا رہے ہوتے ہیں، میں اپنے محلے اور شہر کے غریب ترین چند افراد کے لیے گوشت الگ کر رہا ہوتا ہوں…

والد صاحب نے بچپن میں جو گوشت کی پیالی مجھے تھمائی تھی… اگرچہ مجھے کوئی سبق دینے کے لیے نہیں تھی… اس وقت ان کی یہ سوچ بھی نہیں ہوگی کہ میرا بیٹا بھی بڑا ہو کر ایسا کرے گا… .. انہوں نے تو ہمدردی کے طور پر جمال موچی کو گوشت کی پیالی بھجوائی تھی، لیکن وہ پیالی میرے لیے ایک سبق بن گئی… ساری زندگی کا سبق اور کبھی نہ بھولنے والا سبق….. بچپن میں جو بات ذہن نشین کردی جایے وہ نقش ہو جاتی ہے…. پھر وہ نکالے بھی نکل نہیں پاتی،.. بھلے اسے کوئی کھرچ کھرچ کر بھی نکالنا چاہے تو بھی نہیں نکلتی… بس وہی پیالی آج بھی میرے دماغ میں موجود ہے… اور آج میں محسوس کرتا ہوں کہ بچوں کو تربیت دینے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے… ورنہ آج کے دور میں فریجوں نے تو دوسروں کا احساس ہی غصب کر لیا ہے… پہلے ہم یہ سوچ لیتے تھے…… فلاں غریب رشتے دار اور ہمسائے کو پہنچا دو… گوشت کام لگا دو تاکہ ضائع نہ ہو… اتنا گوشت کہاں رکھیں گے… خراب ہو جائے گا، کسی بھوکے کو دے دو تاکہ گوشت کسی کے کام تو آ جائے .. اب یہ سوچ ہماری فریجوں کی مہربانیوں سے اڑنچھو ہو گئی ہے… ہم پہلے اپنا پیٹ نہیں، بلکہ اچھا اچھا سا قیمے والا گوشت چُن کر اور سری پائے بنا کر اپنے فریج کا پیٹ بھر لیتے ہیں … پھر جس جس کو منہ دکھانا ہو یا جس سے لالچ ہو یا جس سے رشتہ جڑا ہو اسے پہنچاتے ہیں ،……… آخر میں جو ہڈیاں یا بے کار قسم کی بوٹیاں بچ جاتی ہیں، وہ کسی غریب کو دینے کے بارے میں سوچ لیتے ہیں………. جب کہ عیدِ قربان سے تو ہمیں صرف اور صرف قربانی کا جذبہ اپنانے کا سبق ملتا ہے…….. ہم نے آج یہ سبق بھلا دیا… اس کے ازالے کے لیے اور آئندہ آنے والی نسل کی تربیت کے لیے آپ سب ایک ایک پیالی گوشت اپنے بچوں کے ہاتھوں ضرور کسی غریب کو بھجوانا شروع کر دیں………

اپنا تبصرہ بھیجیں