ایک مثالی شخصیت

ایک مثالی شخصیت

ڈاکٹرعارف محمود کسانہ  سویڈن

 

بچوں کے لیے خصوصی تحریر جسے بڑوں کو بھی پڑھناچاہیے

آج شمائل بہت خوش تھا۔ سکول سے گھر آتے ہی اپنی امی کے پاس گیا اور سلام کرنے کے بعد بتانے لگا کہ اُسے سکول کے تقریر ی مقابلہ میں اوّل انعام ملا ہے۔ اُس کی امی بھی بہت خوش ہوئیں۔ شمائل کہنے  لگا امی جان نانا جان نے مجھے تقریر کی بہت  اچھی تیاری کرائی تھی اسی وجہ سے مجھے پہلا انعام ملا ہے حالانکہ دس دوسرے سکولوں کے طلباء بھی مقابلہ میں شریک تھے۔ وہ بڑے فخر سے اپنی امی کو انعامی کپ اور سندِ امتیاز دیکھا رہا تھا۔ امی جان ابھی فون کرکے ابو جان کو بھی بتائیں کہ مجھے اوّل انعام ملا ہے اور میں نانا جان کو بتانے جارہا ہوں، یہ کہہ کر وہ  نانا جان کے کمرے کی طرف خوشی خوشی چلا گیا اور جاتے ہی سلام کرنے کے بعد نانا جان کو بھی اپنی کامیابی کا بتایا۔ نانا جان جب میں نے تقریر شروع کی اور کہا جنابِ صدر میری تقریر کا عنوان ہے  مومن کی زندگی  تو سب خاموش ہوگئے اور میری تقریر سننے لگے۔ جب تقریری مقابلہ ختم ہوا اور اوّل انعام کے لیے میرا نام پکارا گیا تو زبردست تالیاں بجائی گئیں۔ مہمانِ خصوصی نے جب مجھے انعام دیا تو کہا بیٹا آپ نے بہت اچھی تقریر کی ہے اور جس طرح مومن کی زندگی کو بیان کیا ہے اگر تم خود اُس پر عمل کرو گے تو ایک مثالی شخصیت بن جاو گے۔ نانا جان کہنے لگے یہ تو انہوں نے بالکل درست کہا ہے اگر مومن کی خصوصیات اپنے کردار میںپیدا کی جائیں تو اس میںکچھ شک نہیں کہ انسان ایک مثالی شخصیت بن سکتا ہے۔نانا جان مثالی شخصیت سے کیا مراد ہے اوروہ کس طرح کی ہوتی ہے۔ شمائل نے سوال کیا۔نانا جان۔ مثالی شخصیت سے مرادایسا شخص جس کابہت اچھا اخلاق اور اعلیٰ کردارہو ۔ اُس کی بہت کامیاب زندگی ہوجس کی سب مثال دیں اور خود اُس جیسا بننا چاہیں ۔شمائل۔ نانا جان دنیا میں کون سی ایسی شخصیت ہے جسے ہم اپنے لیے مثالی شخصیت قرار دے سکتے ہیں۔نانا جان۔ دنیا کی سب سے بڑی مثالی شخصیت ہمارے رسول حضرت محمد ۖکی ہے اورقرآنِ حکیم نے کہا ہے کہ آپۖ کی زندگی        ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔شمائل۔ نانا جان رسولِ پاکۖ کی شخصیت کے بارے میںمزید بتائیں اور یہ بھی کہ صحابہ اکرام کی آپۖ کے بارے میںکیا رائے تھینانا جان۔رسول پاکۖ بہت نرم دل، خوش مزاج، دوسروں کے کام آنے والے، ملنے والوں اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنے والے اور مسکرا کر جواب دینے والے تھے۔آپۖ اچھی اور مناسب گفتگو کیاکرتے تھے۔ رسول اللہۖ بہت ہنس مکھ اور ہشاش بشاش تھے آپۖ سے مل کرلوگ بہت خوش ہوتے تھے۔ آپۖ کی محفل میں بیٹھا کوئی شخص اکتاہٹ محسوس نہیں کرتاتھاآپ ہنسی مذاق پسند کرتے تھے اگر کوئی آپۖ سے خوش طبعی کرتا تو آپ بھی اُس کا ساتھ دیتے اور خوب ہنستے مسکراتے۔ آپۖ بچوں سے بہت پیار کرتے اور اُن کے ساتھ کھیل کود بھی کرتے تھے۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ رسول ۖاللہ سے زیادہ حُسنِ خلق کا مالک اور کوئی نہ تھا۔ تمام صحابہ اکرام آپۖ سے بہت محبت کرتے تھے اور وہ آپ کی شخصیت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔آپ ۖنے بھی اُن کی تربیت قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میںکی تھی  جس کی وجہ سے صحابہ اکرام کی مثالیں پوری دنیا دیتی ہے۔ حضوررۖ کے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے اخلاق بہت اچھے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اخلاق کی تعلیم دینے کے لیے آیا ہوں اورتم میںسے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق بہترین ہے۔ آپۖ نے یہ بھی فرمایا کہ بُری مجلس میں نہ بیٹھو۔ ایک اور صحابی حضرت انس  فرماتے ہیں کہ میں نے بنی اکرمکی دس سال تک خدمت کی اور حضورۖ نے کبھی بھی مجھے اُف تک نہ کہا اور نہ کسی چیز کے بارے میں پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ایسا کیوں نہ کیا۔حضرت عائشہ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نرم دلی کو پسند کرتا ہے اور نرم دلی کا صلہ سب سے زیادہ دیتا ہے۔ آپ جب گھر میں ہوتے تھے تو گھر کے کام کاج میں مدد کرتے تھے۔آپ صادق اور امین یعنی سچے اور امانت دار تھے۔آپ نے کبھی کسی کو بُرا بھلا نہ کہا اور نہ ہی کسی سے بدلہ لیا بلکہ ہر زیادتی کرنے والے کو معاف کردیتے تھے۔ حضورۖ سے جو کوئی بھی ضرورت کی کوئی چیز مانگتا تو آپۖ اُسے دے دیتے اور اگر آپ نہ دے سکتے تو بہت نرمی سے جواب دیتے۔ہمیں چاہیے کہ کہ ہم بھی وہ اخلاق اپنائیں جو رسول پاکۖ کے تھے۔شمائل ۔ نانا جان ایک مثالی شخصیت کے بارے میں تفصیل سے بتائیں کہ ایک مثالی شخصیت میں کیا خوبیاں ہونی چاہیے۔نانا جان۔بیٹا ایک مثالی شخصیت میں وہ سب خوبیاں ہونی چاہیںجو ہمارے پیارے رسولۖپاک میں تھیں اور جو میں نے ابھی تمھیں بتائی ہیں۔ ایک مثالی شخصیت میں سچائی، امانت، دیانت، شرافت،صداقت، اخلاص، وعدہ کی پابندی،حسنِ سلوک، پاکیزگی، حیا، علم و عقل،محنت، اخوت ، بہت ہمت، اعتدال یعنی میانہ روی، صبر، قوتِ آرادی اور گفتگو کے آداب ہونے چاہیں۔مثالی شخصیت میں اخلاقی برائیاں جیسے حسد، منفی سوچ، اپنی غلط بات پر اڑنا، خواہ مخواہ دوسروں پر تنقید کرنا، فضول بحث کرنا، دوسروں کا مذاق اُڑانا، مایوس ہونا، انتقامی جذبہ رکھنا، دھوکہ دہی، جھوٹ اور احسان فراموشی نہیں ہونی چاہیے۔اسی طرح ایک کامیاب شخصیت بننے کے لیے اپنے وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہیے، سُستی او رکاہلی کی بجائے محنت سے کام کرنا چاہیے۔ اپنا خود جائیزہ لینا چاہیے اور پابندی وقت سے اپنے کام کرنے چاہیں۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ انسان کو وہی ملے گا جتنی وہ کوشش کرے گا۔ اللہ کا یہ بھی حکم ہے کہ لوگوں سے خوش اسلوبی سے بات کرو اور بے رُخی نہ برتو۔ یہ وہ خوبیاں ہیں جو ایک مثالی شخصیت اور کامیاب انسان میں ہونی چاہیں۔شمائل۔ نانا جان آپ نے باتیں تو بہت اچھی بتائیں ہیں مگر ان پر عمل کرنا بھی تو بہت مشکل ہوگا۔نانا جان۔ تمھاری بات بہت اہم ہے ، اپنے عمل اور کردار کو ان اچھی باتوںکے مطابق ڈھالنا  اور اپنے مزاج کو بدلنامشکل ضرورلیکن ناممکن نہیں۔دین کی تعلیمات کا سارا مقصد ایک اچھے اور اعلٰی اخلاق کے حامل انسان کی تعمیر ہے اگر اچھا اخلاق اور کردار موجود نہیں تو سب کچھ بے مقصد رہ جاتا ہے۔اس کے لیے مضبوط ارادہ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب ایک دِن میں نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے ۔ اگر کوئی ہر ہفتہ اپنی ایک بُری عادت چھوڑتا جائے اور ایک اچھی عادت اپناتا جائے تو تھوڑے ہی عرصہ میںاس کی شخصیت ایک مثالی شخصیت ہوگی۔ شمائل۔ نانا جان آپ نے مجھے بہت اچھا طریقہ بتایا ہے اب میں ایسا ہی کروں گا۔ میں اپنا جائیزہ لوں گا، اپنی غلطیوں کو تسلیم کروں گا اور جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اپنا رویہ بہتر بناوں گا اور اُن چیزوں سے بچوں گا جو میرے کردار پر بُرا  اثر ڈال سکتی ہیں۔ اپنے وقت کا بہترین استعمال کروں گا۔اپنے غصہ پرقابو پاوں گا اور خوش خلقی کا مظاہرہ کروںگا۔محنت کی عادت ڈالوں گا اور کوشش کرنا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ہر روز مطالعہ کرنے کی عادت ڈالوں گا۔ تمام انسانوں کا احترام کروں گا۔ اسلام کی تعلیمات سمجھ کر اُن پر عمل کروں گا اور قرآن مجید کی باقاعدہ تلاوت ترجمہ کے ساتھ کروں گا۔ اپنے منفی خیالات کی اصلاح کروں گا ۔اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرکے اپنی دنیا آپ پیدا کروں گااور اس طرح ایک نئے جذبہ کے ساتھ زندگی بسر کروں گا۔نانا جان۔ شاباش بیٹا۔ اگر تم واقعی اس عزم کے ساتھ اپنی شخصیت کی تعمیر کرو گے تو ایک بہت اچھے انسان بنو گے اور سب تمھاری تعریف کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ تم یہ سب کرسکتے ہو اور اللہ تعالٰی بھی

تمھیں توفیق اور ہمت دے گا۔


e.mail: arifkisana@gamil.com                                                         Mob: 0046-734022898

 

اپنا تبصرہ بھیجیں