Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

اوسلو میں پروفیسرڈاکٹر مبارک حیدر کا اسلامی تہذیب پر لیکچر

اوسلو میں پروفیسرڈاکٹر مبارک حیدر کا اسلامی تہذیب پر لیکچر

Rabia Seemab Roohi
رپورٹ ،رابعہ سیماب روحی
ہم تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں
پروفیسر داکٹر مبارک مختلف ممالک میں پاکستانیوں کو بیدار کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے لیکچر دیتے ہیں۔اس سلسلے میں انہوںنے یک لیکچر اوسلو فروست آلنا بی دیل میںگذشتہ ہفتے دیا ۔اس کے چند اقتسابات اور جھلکیاںقارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا نہ بھولیں۔
پروفیسر ڈاکٹر مبارک نے اپنی تقریر کا یوں آغاز کیا۔
فرائڈ نے کہا تھا کہا  ایک یونانی   شہزادے نے ایک مرتبہ دریا میں اپنا عکس دیکھ لیا۔اس زمانے میں آئینے نہیں ہوا کرتے تھے۔چنانچہ جب خوبصورت شہزادے نے اپنا عکس دریا میں دیکھا۔وہ حیران رہ گیا کہ اف میں اس قدرخوبصورت ہوں۔پس وہ اپنی ہی شکل دیکھنے میں اس قدر منمہک ہوا کہ اسے کسی چیز کا نہ ہوش رہا اور نہ طلب۔وہ ہر دم ہر شے سے بے نیاز بھوکا پیاسا پانی میں اپنا عکس دیکھا کرتا۔وہ اپنا عکس دیکھنے میں اس قدر منمہک ہوا کہ بھوکا پیاسا مر گیا۔پھر دیو مالائی کہانیوں میں پانی میں ایک نرگس کا پھول بناکر چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ شہزادے کی مثل اپنا چہرہ دیکھتا رہے۔اسی طرح ہم بھی اپنی ہی شکل دیکھتے رہتے ہیں اور اپنی ہی تہذیب و تمدن کے حسن پہ مر مٹے ہیں۔پوری دنیا پہ مختلف انسانی تہذیبوں کی حکومت رہی ہے۔مصر کی اپنی تہذیب تھی  ۔روم کی اپنی تہذیب تھی۔اسی طرح ہر ملک کااپنا قدیم تہذیبی ورثہ ہوتا ہے۔ان میں اچھی باتیں بھی تھیں۔لیکن ہم انہیں نہیں مانتے حالانکہ ہم لوگ اندلس سے نکالے گئے۔وہاں کی حکومت نے ہماری قوم کا بچہ بچہ بحری  جہازوں میں بٹھا کر وہاں سے نکال دیا۔آج وہاں ہماری تہذیب کا کوئی نشان نہیں۔ ہمیںوہاں کوئی نہیں پوچھتا۔انڈیا پر ہم نے ہزار سال حکومت کی۔ہم نے اسے کیا دیا۔بادشاہوں نے کون سا پیار محبت اور بھائی چارے کا ماحول دیا۔بلکہ ہم نے وہاں جنگ و جدل اور قتل  وغارت گری کا بازار گرم رکھا۔ہم لوگ آج تک اس لڑائی کے ماحول سے ہی نہیں نکلے۔محمود غزنوی نے انڈیا پہ سترہ حملے کیے اور کیادیا۔جنگ و جدل کا ماحول۔انڈیا کو ہم نے صرف شاہ ولی اللہ دیے۔ہمیں فخر ہے کہ ہم اسلامی گھرانے میں پیدا ہو  ئے ہیں۔ہم بخشے جائیں گے۔بے شک ہم لوگ بے ایمانی ،دہشت گردی،اور رتباہی و بربادی جو کچھ بھی کریں۔جن قوموں نے ترقی کی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ان سے ہماری زندگیاں آسان ہو گئی ہیں۔جب کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے ہم کہتے ہیں یہ تو پہلے سے ہی قرآن میں موجود تھا تو اس سے پہلے آپ کو کیوں نہیں یاد آیا۔ہم انہی لوگوںکی جدید ٹیکنالوجی انٹر نیٹ ٹی  وی ٹیلیفون سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہی کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم لوگ بھی ان کے ساتھ ترقی کے دھارے میں شامل ہو جائیں۔ ان پہ بے جا تنقیدیں چھوڑیں۔آج کی دنیا ڈائیلاگ کی دنیا ہے۔آج ہر مسلئہ افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل ہوتا ہے۔افغانستان میں عورتوں کو تمبو نماء برقعوں میں لپیٹ دیا ہے۔ہم لوگ اپنی اولادو ںکی کیا تربیت کررہے ہیں ۔انہیں والدین گھروں میں گالیاں دے کر بلاتے ہیںانہیں الو کا پٹھا تک کہتے ہیں۔
اس بات پر وہاں موجود سامعین میں سے مجاہدصاحب نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ۔مجھے جانے کی جلدی ہے۔باہر میری گاڑی پارک کرنے کا تائم پورا ہو چکا ہے اس لیے میں نے جلد جانا ہے۔آپ کیسے پروفیسر ہیں۔میں نے سمجھا تھا کہ مجھے یہاں سننے کے لیے کچھ اچھی باتیں ملیں گی مگر آپ نے تو مجھے الو کا پٹھا کہہ دیا۔
اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر مبارک نے کہا۔دیکھیںتنقید کرنا اچھی بات ہے۔میں نے آپ کو الو کا پٹھا نہیں کہا ۔میں نے گھروں کی بات کی ہے۔ڈائیریکٹ  تنقید نہیں کی۔بلکہ مسلہ کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
وہاں پر موجود ایک ٹیچر نیر واک آئوٹ کر گئیں۔پھر انہیںمحفل میں واپس لایا گیا۔انہوں نے پرچے پر سوالات لکھ کر مقرر کو بھجوائے۔ان پر لکھا تھا کہ آپ نے نیک بیبیوں کا ذکر توہین آمیز لحجے میں کیا۔پردہ دار عوتوں کے حجاب کو تمبو سے تشبیہہ دی  ۔میرے خیال سے آپ سب سے بڑے بیوقوف ہیں ۔میں بھی ایک ٹیچر ہوں۔
اس بات پر پروگرام کے آرگنائزر نے کہا کہ آپ کیسی ٹیچر ہیں جو ایک پروفیسر کو بیوقوف کہ رہی ہیں۔آپ کو نبی پاک ۖ سے محبت ہے مگر فتویٰ کا حق نہیں ہے۔تنقید کا حق سب کو ہے۔
پھر پروفیسر مبارک یوں گویا ہوئے کہ اسلام میں معشت کا کوئی نظام موجود ہی نہیں ہے۔سعودی عرب ہماری اسلامی تہذیب و دین کا سر چشمہ ہے۔یہاں اتنے بہن بھائی بیٹھے ہیں مجھے بتائیں کہ سعودی ہم سے کیسا سلوکرتے ہیں۔روس میں میری ملاقات ایک ہوٹل میں ایک سعودی شہزادے سے ہوئی۔اس کے ایک ہاتھ میںشراب کی بوتل تھی اور گھٹنے پہ ایک نیم برہنہ عورت بیٹھی تھی۔میں نے اسلام کے بعد اس سے بات کرنا چاہی تو وہ یہ کہہ کر اٹھ گیا کہ نماز پڑھ کر آتا ہوں۔نمازپڑھ کر آیا میں نے پوچھا کہ یہ کیا تمہارے ایک ہاتھ میں شراب ہے اور گھٹنے پہ عورت بیٹھی ہے ۔کہنے لگا شراب تو میرا کلچر ہے اور نماز میرا فرض ہے۔رہی بات عورت کی تو اسلام ہمیںاجازت دیتا ہے لونڈی کی۔میں نے اسے پیسے دیے ہیں۔
ہمارے ملک میںجماعت اسلامی نے کیا کیا۔ملک کو مولانا مودودی نے کیا دیا۔کوئی بات پوچھو فقہ کا حوالہ دیتے ہیں۔جس کا کوئی باقائدہ کاغذی سند اورحوالا ہی نہیں ۔چاروں خلفاء کے حوالے بھی صحیح نہیں ہیں ایسے میں ہم لوگ کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں