Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

اوسلو میں اثاثہ کی تقریب رونمائی

اوسلو میں اثاثہ کی تقریب رونمائی

رپورٹ احسان شیخ


7 اکتوبر بروز اتواراوسلو میں دریچہ کے نام سے تشکیل کردہ تنظیمکے زیر اہتمام مصنفہ مینا سعودیہ اختر کی نئی تصنیف ، اثاثہ ، کی رونمائی فیورست کے پرانے   NAV میں منعقد ہوئی۔
اس تقریب میں سفیر پاکستان جناب  اشتیاق حسین اندرا بی ،ویلفیر اتاشی جناب محمد سلیم،نارویجن پارلیمنٹ میں چوتھے نائب صدر جناباختر چوہدری کے علاوہ مختلف شعبہء ہائے زندگی سے وابستہ ادبی،سماجی،دینی اور فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
اوسلو کے پرانے اور نئے شاعروں کی بڑی تعداد  نے نہائیت دلچسپی اور جوش و خروش سے شرکت کر کے محفل کو چارچاند لگائے۔
آج کی تقریب کے سرتاج ہماری نظر میں کو آرڈینیٹر محمد ادریس تھے۔جن کی شخصیت میں انکا ضذبہ اور اعلیٰ اخلاق ہمیشہ ہی محسوس ہوتا ہے۔
تقریب کا آغاز علامہ نور احمد نور کی قرآت قرآن پاک سے ہوا۔اپنی ژوش الحان آواز میں قرآت کرتے ہوئے انہوں نے شرکاء محفل کو قرآنی آیات سے منور کیا۔
بے شک انسانوں اور زمینوں کی تخلیق میں انسانوں کے لیے اللہ کی بہت ساری نشانیاں موجود ہیں۔وہ لوگ جو لیٹ کر اور بیٹھ کر اللہ کی توصیف کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اے اللہ بے شک تو ہی ہمیںعذاب جہنم سے بچانے والا ہے۔قرآت کلام پاک کے بع د علامہ نور احمد نور نے نعت  رسول مقبول نہائیت خوبصوت انداز میں پیش کرتے ہوئے  نبی پاک ۖ کو ہدیہء تبریک پیش کیا۔
سر محفل کرم اتنا میر سرکار ہو جائے
نگاہیں منتظر  رہ جائیں اور دیدار ہو جائے
غلام مصطفیٰ بن کر میں کب جائوں مدینے میں
محمد نام پر سودا سر بازار ہو جائے
دریچہ کے صدر جناب داکٹر ندیم حسین نے شرکاء تقریب کا شکریہ ادا کرتے ہوئیانہین تنظیم کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ تنظیم ایک سال قبل تشکیل دی گئی تھی ۔لیکن بوجوہ کچھ عرصہ سے  ذیادہ پروگرام پیش نہ کر سکی۔انہون نے امید طاہر کی کہ مستقبل میں  تنظیم کو متحرک رکھتے ہوئے وہ کوالٹی پروگرام ترتیب دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ دریچہ کا مقصد ناروے میں  اپنے کلچر اور ادب و موسییقی  کو فروغ دینا ہے۔اس سلسلے میں وہ یہاں پر موجود ٹیلنٹ کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں متحرک کریں گے۔
اثاثہ کی مصنفہ مینا سعودیہ اختر نے اسے تصنیف کرنے والے عوامل کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے  بتایا کہ آج کی عورت بیشمار صلاحیتوں کی موجود گی میں بنا یہ جانے کہ وہ محنت کیوں کرتی ہے مشین کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ان سلاحیتوں کو وہ اثاثہ کا نام دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب میںنہ  صرف عورت کے مسائل کا ذکر کیا گیا ہے بلکہان کے حل کے لیے ایسی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔جن کی مدد سے وہ اپنی زندگی کو متوازن ڈگر پہ چلاتے ہوئیمنفی رویوں سے مثبت رویوں کی طرف چلی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کی کتاب ہر گھر میں جائے اور لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔
اثاثہ اس لحاظ سے منفرد  حیثیت کی حامل ہے کہ اردو کے ساتھ ساتھ اسک انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔تاکہ ایسے نوجوان جو اردو میں نہیں پڑھ سکتے وہ اسے انگریزی میںپڑھ سکیں۔
محترمہ مسرت افتخار نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم دریچہ کا نام میوزیکل لگتا ہے۔جس سے دماغ کے تمام دروازے کھلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا مینا کی کتاب نے علم کا برا دروازہ کھولا ہے۔اور اس بات کا مکان پیدا ہوتا ہے کہ اس سے بہت سارے لوگوں کو رہنمائی میسر ہو گی۔
ا پاکستان سے تشریف لائے ہوئے صحافی استاد ارشد شاہین نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ  حساس انسان کو حیوان سے مختلف
کرنے والی کیفیت کا نام ہے۔انہوں نے کہا کہ مینا جی ایک درد دل  اور احساس رکھنے والی  عورت ہیں۔جو صرف اپنی ذات کے ساتھ ہی نہیں جڑی ہوئی بلکہ ان کے احساس نے انہیں معاشرے کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔
اوسلو کی نواحی کمیون آشم سے تشریف لائی ہوئی صحافی و ادیبہ شازیہ عندلیبنے کہا کہ انہین خوشی ہے کہ کسی پاکستانی خاتون  نے کتاب تصنیف کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اثاثہ ناروے میں اردو ادب کی پہلی کتاب ہے جو کسی خاتون نے لکھی ہے۔لہةذا اس کتاب کو ذیادہ سے ذیادہ لوگوں
تک پہنچنے اور پڑھے جانے کا سکوپ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں انہیں ان کے کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے آگے بڑھانا چاہیے۔نارویجن پارلیمنٹ کے چوتھے صدر جناب اختر چوہدری نے نہ صرف نہائیت خوبصورت الفاظ اور انداز کے ساتھ اس کتاب کے تاثرات بیان کیے بلکہ انہوں نے ادب سے لوگوں کی لاپرواہی اور ادب کے فروغ پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ادبی صورتحال اس کھڑے پانی کی مانند ہے جس میں جمود طاری ہوجاتا ہے۔لہٰذا مینا جی کی کاوش بھی اسی کنکر کی مانند ہیلیکن جب اس میں کنکر پھینکا جاتا ہے تو وہ بڑے دائرے بناتا ہے۔چنانچہ میناجی کی کاوش بھی اسی کنکر کی مانند ہے جو ادبی جمود میں وسعت پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ایسے روئے موجود ہیں جن میں عورت کے کہے گئے الفاظ کی توقیر نہیں۔لہٰذا ان رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
سفیر پاکستان جناب اشتیاق اندرا بی کی کی گئی گفتگو نہائیت پر مغز  اور بامعنی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس محفل میں آ کر خوشی ہوئی۔مجھے خوشی ہے کہ دریچہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس میں داخل ہو کر لوگ صدا بھی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کامیاب تقریب کے انعقد پر منتظمین کو مبارکباد بھی پیش کی۔
جناب سفیر پاکستان نے کہا کہ اثاثہ ادب کے گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔اس  کتاب میں عورت کی  مثال اس طرح ہے جو ایک کھیتی میں پیدا ہوئی لیکن اسے اکھاڑ کے کسی دوسری کھیتی میں لگا دیا گیا ہو۔اس کتاب میں اس صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل اور انکے حل کی بات کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کتاب میں عورت کو مظلوم ثابت کر کے اسے رد عمل کے طور پر جارح بنا کر معاشرے کے خلاف اکسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ایس کرنے سے عورت کا انفرادی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔جبکہ اسکا اجتماعی پہلو نظر انداز ہوتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔عورت کے بارے میںبات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہاسے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کردار تبدیل کرنا پڑتا ہے۔بیٹی ،بہن ،بیوی اور ساس کے روپ میں۔لہٰذامعاشرے میں اسکا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عورت اور خدا میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے اسکا تخلیقی پہلو۔لہٰذا بحیثیت عورت کو معاشرے کا حصہ بنا کر اسے خوشگوار بھی بناناہے۔لہٰذا عورت کو اپنا مقام پہچان کر اس کے تقاضوں کو پیار محبت اور امن اور برداشت سے پورے کرنے چاہیئں۔تاکہ آئندہ نسلیں اپنے رویئے مرتب کرتے وقت اس کے گن گائیں۔اور انہیں جارح اور باغی سمجھتے ہوئے ان سے فاصلہ لیتے ہوئے ان  کے   مدمقابل نہ آئیں۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں مشاعرہ ترتیب دیا گیا تھا۔آج کی محفل مقامی شاعروں سے بھری پڑی تھی۔جنہوں نے اپنا کلام سنا کر سامعین سے داد وصول کی۔درج ذیل شعرائے کرام  نے  تقریب رونمائی کی محفل کو اپنیے اشعار سے سجاتے ہوئے گل و گلزار بنا دیا۔
نوجوان شاعر آفتاب وڑائچ،جواد شیخ،محترمہ شبانہ اقبال،محترمہ مینا عودیہ اختر،مھترمہ فرح تبسم،محترمہ شازیہ عندلیب
ارشد شاہین،ضمیر طالب،اندرجیت پال،خالد تھتھال،علامہ نور احمد نور ار جناب جمشید مسرور۔
دوران پروگرام دریچہ کی جانب سے محترمہ مسرت افتخار،سفیر پاکستا  جناب اشتیاق حسین اندرابی ،  اور چوہدری اختر نے مینا سعودیہ اخترکو تحائف پیش کیے۔
مشاعرہ کے بعد دوران وقفہ شرکاء محفل کو ہلکی پھلکی ریفریشمنٹ پیزا اور مشروب موجود تھے۔
مھفل مشاعرہ کے بعد محفل موسیقی کا اہتمام تھا لیکن ہم بوجوہ اس میں شرکت نہ کر سکے۔ہمیں یقین ہے کہ یہ محفل بھی باقی پروگرام کی طرح خوبصورت ہو گی۔
آج کی کامیاب تقریب کے لیے ہم صدر دریچہ جناب ڈاکٹر ندیم حسین او کو آرڈینیٹر جناب محمد ادریس اور آرگنائیزیشن کے دیگر ممبران کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔جن کی کاوشوں کے نتیجے میں مھترمہ مینا سعودیہ کیھوصلہ افزائی کے علاوہ شرکاء محفل کو عرصہ بعد ایک خوبسورت تقریب کا حصہ بننے کا موقع ملا۔امید ہے کہ مستقبل میں بھی دریچہ کے زیر اہتمام اسی طرح کی محفلیں سجتی رہیں گی۔
علاوہ ازیں ہم مصنفہ مینا کو ڈھیروں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے زور قلم کے لیے دعا گو ہیں۔

 

 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں