امریکہ کا ناروے کی جاسوسی سے انکار


ناروے کی وزیر انصاف کے ایک وفد نے پچھلے ہفتے امریکی حکام سے بات چیت کی۔انکی ملاقات کا مقصد امریکی حکام کی ناروے کی جاسوسی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔وزیر انصاف (Greta) گریتا نے اسی سلسلے میں ناروے میں متعین امریکی سفیر سے بھی ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ نارویجن شہریوں کی غیر قانونی تفتیش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ ضرور ی ہے کہ ہمیں میڈیا میں چلنے والے پروگراموں کے بارے میں ضروری معلومات ہوں۔یہ بات فیر مو نے نارویجن اخبار آ فتن پوستن کو بتائی۔ایک پروگرام جس کا نام Prism ہے یہ سوالات پر مشتمل ہے۔یہ پروگرام فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کے بارے میں معلومات انٹیلیجنس سروس کو دیتا ہے۔یہ فیس بک گوگل،مائیکروسوفٹ،ایپل اور دیگر سوشل میڈیا کے صارفین کی معلومات تک براہ رسات رسائی بھی دیتا ہے۔
یہ بات یقینی ہے کہ ان پروگراموں کے فارم موجود ہیں جو صارفین کی معلومات دیتے ہیں (Aften posten) آفتن پوستن اخبار کو امریکی حکام نے بتایا کہ یہ پروگرام صارفین کے ٹیلیفون ریکارڈ کرتا ہے۔جس میں ناروے سے امریکہ کی گئی کالز بھی شامل ہیں۔
Snow dew یہ بھی بتایا کہ یہ پروگرام یورپ اور یونائیٹڈ نیشن کے افراد کی رپورٹیں بھی تیار کرتا ہے۔تاہم انہوں نے بتایا کہ اس قسم کے پروگرام ناروے میں نہیں استعمال کیے جاتے۔فار موئے نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں گفتگو جاری رکھیں گی تاہم انہیں ان جوابات پر یقین ہے کیونکہ امریکہ ناروے کا دوست ملک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں