الیکشن جدوں آئے گا تے لگ پتہ جائے گا 

 باعث افتخار انجنیئر افتخار چودھری
وہ لکھنؤ کے بانکے کی طرح جسے سردی لگ رہی تھی کسی نے کہا بانکے میاں دانت کپکپا رہے ہو سردی تو نہیں لگ رہی اس نے کپکپاتے ہوئے جواب دیا کہ سردی کی تو کوئی بات نہیں اس کپکپی نے مار رکھا ہے
یہی حال خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ کا وہ کہہ رہے ہیں ہم الیکشن سے ڈرتے نہیں۔  یہ خام خیالی ہے
کہتے ہیں کے بے شرم اور ڈھیٹ انسان کے ،،پشت،،ہر گھاس نکل آیا پوچھنے پر کہا کوئی بات نہیں ،، چھانویں ںیٹھاں گے۔
دنیا نے دیکھا کہ تحریک انصاف نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ڈی ایم کے تیرہ جماعتوں کو مار مار کے دھواں نکال دیا اور پچھتر فی صد سیٹیں جیت کر ان بھان متی کے کنبے والے پی ڈی ایم کو چاروں شانے چت کر دیا
راولپنڈی کے ایک نشست بھی گھر کو آگ لگانے والوں نے کرنل شبیر اعوان کو ٹکٹ لینے کی سزا دی ورنہ راجہ صغیر کی کیا ہمت تھی کہ ایک پڑھے لکھے شخص کو ہرا دے دیتا
خیر یہ تو تھی پنجاب کی
بعد میں تحریک انصاف کی ان سیٹوں پر انتحاب کرایا گیا جہاں پارٹی معمولی اکثریت سے  جیتی تھی   وہاں بھی لوگوں نے دیکھ لیا کہ عمران خان نے ریکارڈ قائم کر دیا دو سیٹیوں کا آپ کو پتہ ہی ہے کراچی والی تو جھرلو کے نتیجے میں گئی اور ملتان  کے موسی رضا گیلانی جیتے
لیکن ایک بات بتاؤ دوں کہ جنرل الیکشن میں بھی وہ پی ٹی آئی لے جائے گی  پوچھئے کس طرح
اس سیٹ پر مسلم لیگ کے عبدالغفارڈوگر ایک مضبوط امیدوار تھے جو وفاقی مشیر تھے وہ الیکشن نہیں لڑے آگر آنے والے انتحابات میں اپنی اپنی پارٹیوں پر الیکشن کڑے تو کوئی وجہ نہیں شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی نہ جیتی
کہہ رہے ہیں ہمیں ڈر نہیں لگتا با با جی آپ ڈر کی بات کر رہے ہیں آپ لوگوں کے وضو ٹوٹ جاتے ہیں انتحابات کے نام سے ۔عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ہم اسمبلیوں سے نکل رہے ہیں تو آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہم پنجاب کی اسمبلی کو بچا کے رکھیں گے
یہ جمہوریت بھی کیا عجب چیز ہے پہلی بار اپوزیشن حکومت کو سہارا دے رہی ہے ۔حکومت خود کہتے کہ ہم جا رہے ہیں ادھر سے جواب ا رہا ہے ،،رہ جائیں ،،
دسمبر کی ان سرد راتوں میں مجھے وہ شعر یاد آیا
کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
صرف یہی دو بندے ہی پریشان نہیں ہیں اس وقت سب ہی بال کھلے پریشان اور حیران بھی ہیں کہ عمران خان کو تو ہم نے بیکار کر دیا تھا  اور امپورٹڈ  حکومت بنا لی تھی
اکرام اللہ نیازی کے شہزادے نے کہ مجھے باہر نکالو گے تو میں زیادہ پریشان کروں گا اور سچی بات یہ ہے کہ رجیم چینج آپریشن کے یہ لوگ زلیل و رسوا ہو گئے
نجم سیٹھی جیسے شخص نے جنرل باجوہ کے بارے میں کہا کہ وہ تحریک انصاف کے نوجوانوں کا سامنا نہ کر پائیں گے ۔
اس سے پہلے اپنے حرام کمائی سے لیے گئے فلیٹ ان کو سکون نہ دے سکے ۔نام تو حسین رکھا اور لوگوں نے گونگلوں بنا دیا
ایک اولاد کے لیے سب سے بڑا لمحہ  اور باعث ندامت گھڑیاں یہ ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں ان کے والد کے نام سے برا بھلا کہتے ہوں ویسے تو حسین نواز کون سے اچھی شہرت کے حامل ہیں یہ بات بھی سن لیں
 قاری شکیل کے بارے میں بھی یہ کہا گیا کہ ان کو اس دن حسین نے گالیاں دی تھیں جس دن ان شوگر کا اٹیک ہوا وہ وہ چند روز ہسپتال میں رہ کر اللہ کو پیارے ہو گئے یہ جدہ کی بات ہے افسوس ناک بات یہ ہے  اس کے جنازے میں بھی کوئی شریک ہوا کہ زبیر گل اور ناصر بٹ جیسا کردار قاری شکیل کا تھا یہ لوگ اتنے ظالم ہیں کہ اس کا نمازہ جنازہ بھی نہ پڑھا
پڑھائی نماز جنازہ ہماری غیروں نے
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے
قاری شکیل کے جنازے میں میں بارہ  سو کلو میٹر کا سفر طے کر کے حفرالباطن سے میں پہنچا گیا یہ لوگ اس کا اظہار افسوس کرنے ان کے گھر بھی نہ گئے شیخ رشید پنڈی سے آکر جدہ قاری شکیل کی تعزیت کرنے گئے اس موقع پر شیخ صاحب نے کہا زہرہ ہوٹل میں کہا یہ میرے جانے کے بعد اب وہاں جائیں گے اور ہوا بھی یہ۔
یہ سبق زبیر گل اور ناصر بٹ کے لیے ہیں زیادہ اچھلیں کودیں نہ آپ قاری شکیل سے بڑھ کر ان کے وفادار نہیں ہو
یہ قاری شکیل کا جملہ ہے جو انہوں نے بے ہوش سے پہلے کہا تھا ،،خدا کتے کی نوکری کرا لے  ان کی نہ کرائے،،
یہ تھے ان کے حالات ۔اپ بھی جانتے ہوں گے خواجہ صاحب آپ نے بھی کئی بار موروثیت کی بات کی اب دیکھ لینا نواز شریف سے مریم اور مریم سے جنید صفدر آپ کا کام ان کے میراثی سے زیادہ کچھ نہیں ہے
الیکشن کرنا اس دور میں نا ممکن ہے عمران خان اقتدار سے کیا نکلا لوگ اس کے لیے نکل پڑے جب کہ آپ کے ہیرو نکالے گئے تو مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپا
سن لیجئے عمران خان سے جس نے دھوکہ کیا اس نے  رسوائی کا سامنے کیا راجہ ریاض اور اس قماش کے لوگ آئیندہ انتحابات میں قصہ پارینہ بننے والے ہیں وہ ایک وجیہہ اکرم ہوتی تھی جو لہک لہک کی تقریریں کرتی تھی گجروں کی لیڈر بنی ہوئی تھی یاد رکھے گی
کہ عمران کو چھؤڑا تو سوائے رسوائی کا کچھ نہ ملا
حضور
آپ الیکشن کے بارے میں سوچیں ہی ناں
ایک اور کہتا ہے کہ میں عمران خان کو چیلینج کرتا ہوں کہ میرے مقابلے میں الیکشن کریں جناب والا یہ سینیمے کی ٹکٹیں بلیک کرنے کا مقابلہ نہیں ہے یہاں عوام سے ووٹ لینا ہے ۔ اس آگ کے دریا میں کود کے جانا ہو گا پتہ نہیں لوگ اپنی آنکھوں پر پٹی کیوں باندھ لیتے ہیں جناب زرداری یاد رکھیں اب الیکشن جیتنے کے لیے کوئی بیوی نہیں ہے یاد رکھیں انہیں لاڑکانے نواب شاہ اور لاہور کے سڑکوں پر شہباز شریف نہیں گھسیٹنے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا اس ہر عمل عمران خان اللہ کے فضل سے کرے گا
آپ کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا  ۔آپ کے لیے بھی یہ جواب ہے ۔آیک مشرف بھی کہتا تھا کہ میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں ۔الیکشن جدوں آئے گا  لگے پتہ جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں