Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

اقبال کا تصور شاہین

 

اقبال کا تصور شاہین

romanafarooq@hotmail.comتحریر رومانہ قریشی کویت

علامہ اقبال جنہیں ہم مصور و مفکر پاکستان فکر اسلام، دانشور، فلا سفر، امام غزلی ٫ حکیم الامت  ان مختلف زاویوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں تو فرطِ عقیدت سے شاعر مشرق بھی کہتے ہیں۔ اُن کی شاعری ان کے فکرومطالعہ کا نچوڑ ہے۔اقبال نے اپنی شاعری میں جن تصورات کو علامتی پیراہن دیاان میں تصور شاہین کوسب سے نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ نے بال وپر کی دنیا سے اس پرندے کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ تو اسکے بارے میں آ پ خود لکھتے ہیں……..
٫٫ شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے بلکہ اس پرندے میں اسلامی فقر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں٫٫
جن کا ذکر علامہ نے اپنی شاعری میں جگہ با جگہ کچھ اسطرح کیا ہے۔
٭  اقبال کو شاہین کی خود دار ی اور غیرت مندی بہت پسند ہے وہ اپنا شکار خود کرتا ہے کسی دوسرے کا مارا ہوا نہیں کھاتا خود پر انحصار کو ترجیح اور کسی کے سہارے زندگی گزارنا موت سمجھتا ہے۔بقول اقبال …….
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز  میں کوتاہی
٭  اقبال کا شاہین آشیانہ نہیں بناتا بلکہ پر پھیلائے فضاوں کا سینہ چیرتا ہے۔کیونکہ حرکت میں رہنا ہی اسکی حیات ہے۔
گزراوقات کر لیتا  ہے  یہ کوہ و بیاباں  میں
کہ شاہین کے لیے زلت ہے کارآشیاں بندی
٭  شاہین تیز نگاہ ہوتا ہے اور اسکی یہی تیز نگاہی اس کی تلاش وجستجو کو کم نہں ہونے دیتی اسلیے وہ بہت چھوٹے سے چھوٹے پرندے کو بھی دیکھ لیتا ہیاور اپنا شکار بنا لیتا ہے۔جیسا کہ آپ نے کہا…….
چیتے کا جگر چاہیے  شاہین کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش فرہنگ
٭  شاہین کی بلند پروازی بھی اقبال کو بہت پسند تھی یعنی آگے بڑھتے رہنے کا عزم جو خود اعتماد اور جفاکش بناتاہے اور نئے نئے امکانات سے روشناس بھی کرواتا ہے۔ بقول اقبال
نہیں تیرا نشیمن  قصر سلطانی کے  گنبد پر
تو شا ہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
٭  اقبال کا شاہین خلوت پسند ہے وہ گلشن سے دور بیاباں میں رہتا ہے اور دوران پرواز بھی اسکی سمت دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔اسی صفت کے لیے آپ نے فرمایا۔
پرواز ہے دونوں کی  اسی ایک فضا میں
کر گس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور
علامہ اقبال نے انہی خصوصیات کو مرد مومن کی صفات بھی کہا ہے اسی لیے آپ امت مسلمہ کے ہر جوان میں ان خصوصیات کو دیکھنے کے متمنی تھے۔ آپ نے ہی قوم کے نوجوان کو شاہین کا تصور دیا جو غیرت و خودداری ، بلند حوصلے ،جہد مسلسل ، دور اندیشی اور تیز نگاہی سے آسمانوں کی وسعتوں کو چیر دیں اور اپنے لیے جہان تازہ  تلاش کریں۔ ا ور ایسا ہی ہواجب  پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔لیکن سلام ہے وطن عزیز کے ان شاہینوں کوجن کے حوصلے٫ہمت٫خوداری ٫دوربینی اور خلوت پسندی اقبال کے شاہین سے بھی بڑ ھ کر ہے۔یہن تو ہے جو پاک سر زمین کے ہر گھر کاچراغ روشن رکھنے کے لیے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔آزاد فضاوں کی حفاظت کے لیے ان کی تندی اور تیزی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔دھرتی ماں کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔جبکہ دشمن کے ناپاک ارادوںکی تکمیل سے پہلے ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔سمندری طوفان ہو یا پھر برفانی چوٹیاں کھبی بھی اور کہیں بھی ان کے ارادے متزلزل نہیں ہوتے ا ور نہ ہی قدم ڈکمگاتے ہیں۔اسلیے کہہ ان شاہینوں کی پرواز انتہا غازی بننے پر ہے یا پھر شہادت پر
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے  ان کو اپنی منزل  آسمانوں میں

 
ٔٔ…

اپنا تبصرہ بھیجیں