افسانہ دوسرا پہلو

مہتاب قدر

جنید تھکا ہارا گھر میں داخل ہوا تھاامید تھی کہ حسبِ معمول اسکی شریک حیات ایک گلاس پانی یا جوس کے ساتھ اسکا استقبال کریگی لیکن خلاف توقع آج صوفیہ اسکے استقبال کو نہیں اٹھی تھی ،جنید نے بیڈروم کی رخ کیا تودیکھا صوفیہ کے چہرے پر فکرمندی کے گہرے اثرات واضح طور پر نظرآرہے تھے انکا یکلوتابیٹافرحان پلنگ پر سورہاتھا۔جنید نے دریافت کیا سوئیٹ ہارٹ کیا بات ہے آج آپ فکرمند لگ رہی ہو،فرحان کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا!جنید بھی متفکر ہو گیاوہ دونوں اپنے بیٹے کو بے حد چاہتے تھے ۔وہ انکے پیار کی پہلی نشانی تھی انکی شادی ہوے ابھی چار برس ہی تو ہوئے تھے۔ تین سال تک تو خود دونوں نے اولاد کے جھمیلے سے بچنے کی کوششیں کیں مگر خدا کا کرنا کے چوتھے سال صوفیہ نے محسوس کیا کہ وہ ماں بننے والی ہے پھر تو خدا کی دین کو کون ٹھکرا سکتا ہے انہوں نے بھی گیانکولوجسٹ سے فالو اپ شروع کردیا ،پورے نو مہینے بعد ایک خوبصورت صحتمند بچے نے جنم لیا،دادا دادی کی جانب سے نام کی تجویزیں آئیں مگرآزاد خیال صوفیہ نے جسکی پرورش ایک مالدار گھرانے میں ہوئی تھی، بچے کا نام خود رکھنے کی ضد کی ،جنید نا چاہتے ہوئے بھی ماں باپ کے تجویز کردہ نام اپنی اولاد کو دینے سے قاصر رہا۔صوفیہ نے اپنے بچے کا نام فرحان تجویز کیا تھا،سو دادادادی نے بھی بادلِ ناخواستہ اسے قبول کرہی لیاکیونکہ اسکے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھاوہ نہیں چاہتے تھے کہ بہو سے اختلاف کرکے بیٹے کے دل میں رہے سہے عزت و احترام کو بھی ختم کرلیں۔نہیں نہیں فرحان کو کچھ نہیں ہوا صوفیہ نے دبے دبے لہجے میں جواب دیامگر۔۔۔۔۔۔مگر کیا!مگر جنید میں اپنے اندر پھر تبدیلیاں محسوس کر رہی ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ میں دوبارہ پریگنینٹ ہوگئی ہوں صوفیہ نے خوفزدہ انداز میں سرگوشی کی،اسکے ذہن میں گزشتہ حمل کے دوران بیتے شب وروز کے منظردوڑنے لگے ۔ ارے بابا اس میں فکر کی کیا بات ہے زمانہ بہت اڈوانس ہوگیا ہے اپنے گیانکلوجسٹ کے پاس جا وہ مسئلہ حل کردے گا جنید نے بے فکری سے کہااسے معلوم تھا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ آج کی دنیا میں کیا نہیں ہو رہا ہے میڈیکل سائینس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ماں کی پیٹ میں موجود بچے کی جنس کا بھی پتہ لگا لیا جاتا ہے اور پھر اپنی پسند کی جنس نہ ہو تو بڑی آسانی سے اس حمل کو ساقط کردینا (نئے معاشرے میں پلنے والے) ماڈرن نوجوان جوڑوں کیلئے انگلی کے جگال نکالنے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ۔پھر حمل کا پتہ تو ابھی لگ رہا ہے ابھی سے اگر ابارشن کرالیا جائے تو صحت پر بھی زیادہ اثر نہیں پڑے گا وہ اپنی خوبصورت بیوی کو سمجھا رہا تھا۔جنید صرف پریگنینسی ہی مسئلہ نہیں ہے ڈلیوری کے بعد فیڈننگ بھی میرے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے اس سے میرے فزیکل اسٹرکچر کا تو ستیاناس ہو جائے گا آپ مانتے ہیں نا میری اس بات کو،” شورجانم” کیوں نہیں ویسے تم نے فرحان کوبھی تو ایک ماہ سے زیادہ فیڈ نہیں کیااور اب تو وہ پاڈر کا دودھ ہی پی رہا ہے نا۔ ہاں میراجسم میرے لئے بہت اہمیت رکھتا ،میں نہیں چاہتی کہ پرانے وقتوں کے لوگوں کی طرح جیوں۔وہ نہ سوسائیٹی میں تعلقات رکھتی تھیں نہ کسی کلب میں انکا آنا جانا تھا، میں اپنے جسم کا حلیہ بگاڑ کے سوسائٹی میں ”موو” ہونگی تو لوگ میرا مذاق اڑائینگے۔جنید تم ابارشن سے پہلے اور بعد بھی اپنے گھر والوں کی اسکی خبر نہ ہونے دینانہ ہی میرے پاپا مام کو پتہ چلے !سمجھے ،جنید فرمانبردار شوہر کی طرح سر ہلاتے ہوئے الوداعی بوسے کے ساتھ دفتر کیلئے روانہ ہوگیا۔
صوفیہ مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتی تھی مبادہ مسئلہ ہاتھ سے نکل جائے ، اس نے اپنی کار پورٹیکو سے نکالی اور کلینک کی طرف روانہ ہوگئی ۔جب وہ گھبرائی ہوئی اپنے گیانکولوجسٹ کے کلینک میں داخل ہوئی اسکے چہرے پر فکرمندی کے آثار نمویاں تھے آج گھر سے نکلتے ہوئے اس نے اپنے میکپ کو بھی ٹھیک نہ کیا تھا کلینک میں داخل ہوتے ہی اس نے ڈاکٹر سے کہا ڈاکٹر میں بہت پریشان ہوں اور اس سلسلے میں میں آپکی مدد چاہتی ہوں،کیا ہوا میڈم کیا بات ہوگئی ڈاکٹر نے استفہامیہ لہجے میں دریافت کیا۔ دیکھئے ڈاکٹرمیرا بچہ ابھی ایک برس کا بھی نہیں ہوا کہ مجھے پھر(حمل) پریگیننسی ہوگئی صوفیہ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا ، میں نہیں چاہتی کہ میرے دونوں بچوں میں اتنا کم فرق ہو۔وہ جلدی جلدی بولے جارہی تھی تاکہ جلد اس سے چھٹکارہ حاصل کرلے۔جی جی وہ تو ٹھیک ہے ڈاکٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا ، لیکن میں آپ کی اس سلسلے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ میں اس حمل کو ختم کردینا چاہتی ہوں اور یہ کام آپ کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا صوفیہ نے جواب دیا۔ڈاکٹر ایک لمحہ کو سوچ میں گم ہوگیا وہ سوچ رہا تھاکہ اپنے بھائیوں میں میرا چھٹواں نمبر ہے اگر میری ماں بھی اسی طرح ابارشن کراتی تو پتہ نہیں میں معرضِ وجود میں آتا بھی یا نہیں۔ڈاکٹر نے سوفیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا دیکھئے ،آپ پریگنینسی سے پہلے آتیں تو شاید میں اس سے بچنے کیلئے کوئی طبی مشورہ دیتا مگر اب تومیرے پاس اسکا بہترین حل ایک ہی ہے جو نسبتا آپ کیلئے کم خطرناک بھی ہے۔صوفیہ نے مخصوس مسکراہٹ کا تیر ڈاکٹرکی سمت پھینک دیا کہ ڈاکٹر نے اسکی مدد کی حامی بھر لی تھی۔ڈاکٹرنے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا، ہاں ایک وقت میں دوبچوں کی دیکھ بھال کا جوکھم اٹھانے سے بہتر ہے کہ اس بچے کو جو آپ کی گود میں ہے قتل کردیا جائے اسطرح آپ کو بچہ پیدا ہونے سے قبل ہی کافی آرام مل جائے گا، اور ہاں جب ہمیں دونوں میں سے ایک کو مارنا ہی ٹہرا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کے کونسا بچہ مارا جائے اسطرح اسقاط سے آپ کے جسم کو جو خطرات لاحق ہونگے آپ ان سے بھی بچ جاگی۔ نہیں ڈاکٹر نہیں! صوفیہ وحشت زدہ ہوتی ہوئی چلائی کتناگھنانا جرم ہے کہ ایک بچے کااس طرح قتل کردیاجائے ۔ہاں میںآپ کی بات مانتا ہوں یہ جرم ہے مگر آپ اسطرح زیادہ سکون پاسکوگی آپ کے کیس میں یہی زیادہ مناسب حل لگتا ہے، ڈاکٹر نے جواب دیا۔صوفیہ پر سناٹا چھا گیا ،ڈاکٹر مسکرارہا تھا کہ وہ اپنے مقصدمیں کامیاب ہو رہا ہے بالآخر صوفیہ کی سمجھ میں آگیا کہ جرم پھر جرم ہے چاہے پیدا ہونے والے بچہ کا قتل ہو یا گودی میں کھیلنے والے بچہ کا، دونوںآخر بچے ہی ہیں ان میں سے کسی کا بھی قتل ایک ہی جیسا جرم ہوگا۔صوفیہ نے سرجھکا لیا،وہ بوجھل اعصاب کے ساتھ اپنے گھر لوٹ رہی تھی مگراسکے اندر خوشی کاایک احساس انگڑائی لے رہا تھا کہ وہ نادانی میں سرزدہونے والے ایک سنگین جرم سے بچ گئی ۔

مہتاب قدر
Mahtab Qadr
Incharge
INN URDU NEWS

اپنا تبصرہ بھیجیں