اسلام نیٹ کے لیے ایک لاکھ کرائون کی گرانٹ

اسلام نیٹ کے لیے ایک لاکھ کرائون کی گرانٹ


ہم ایک ایسی آرگنائیزیشن کو پہچانتے ہیں جو اسلام ی عقائد میں انتہا پسند ہے۔ہم اس حق میں ہیں کہ اسے بھی مکمل تعاون دیا جائے۔کیونکہ یہ آرگنائیزیشن جبری شادیوں کی مخالفت پر کام کررہی ہے۔یہ بات ایک نارویجن ٹی وی چینل، این آر کے، سے بات چیت کے دوران مورٹن تھیسم نے بتائی۔
یہ گرانٹ آئی ایم ڈی آئی کے توسط سے دی گئی ہے۔اس ادارے نے یہ شرط لگائی ہے کہ اسلام نیٹ کے سیمینار میں مرد وخواتین دونوں کو شرکت کے مواقع دیے جائیں۔
اس گرانٹ کے بارے میں مختلف قسم کی آراء کا  اظہارکیا گیا ہے۔مذہبی محقق پروفیسر تھییسم کا کہنا ہے کہ اس گرانٹ کا مقصد یہ ہے کہ اسلام نیٹ معاشرے میں مضبوط بنیادوں پہ استوار ہو۔یہ معتدل اسلامی نظریات کی مالک تنظیم ہے اس کے بارے میں انتہا پسندی کی رائے غلط ہے۔
جبکہ اسلامی ریسرچر لارش کولے نے اس بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آرگنائیزیشن عورتوں کے حقوق کے خلاف ہے۔اس کے مقاصد میں انتہا پسندی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ گرانٹ کی رقم جبری شادیوں کے مسئلہ کے حل میں استعمال ہو لیکن خدشہ ہے کہ یہ رقم اس تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں