اتوار بازار کی روداد

 

اتوار بازار کی روداد

تحریر راشد اشرف
کراچی
خیر کتابوں کو فٹ پاتھ پر دیکھنے کی تو اب عادت سی ہوگئی ہے، کل کا تجربہ بھی کچھ مختلف نہ رہا ۔ ۔۔ لیکن وطن عزیز میں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت نے کیا کیا منظر دکھلانے شروع کردیے ہیں، اس بارے میں یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ وقت اتنی سرعت سے آجائے گا۔

سوچتا ہوں کہ چند باتیں مزید اسی تعلق سے کرتا چلوں:

گزشتہ اتوار بازاز کی روداد میں دفتر کے ایک ساتھی کا ذکر بھی آیا تھا، یہ صاحب ایک روز مجھے فون کرکے کہا کہ چلے آئیے، گاڑی لیتے آئیے، ایک جگہ جانا ہے۔ میں پہنچا تو دیکھا کہ صاحب دو بڑے تھیلے گھسیٹتے ہوئے چلے آرہے ہیں، انہیں گاڑی میں رکھا اور کراچی میں بہادر آباد کے علاقے میں واقع “عالمگیر ویلفئیر ٹرسٹ” پہنچے۔ معلوم ہوا کہ ان تھیلوں میں ہمارے صاحب کی شادی کے کپڑے تھے، دس سال سے جی جان سے لگا رکھا تھا اور اب خیال آیا کہ انہیں کسی مستحق تک پہنچا دیا جائے۔ میں ٹرسٹ والوں سے پوچھ بیٹھا کہ ان کا کیا کیا جائے گا ? جواب میں انہوں نے کراچی کی ایک مضافاتی بستی کا نام لیا کہ رواں ہفتے ہی دو بچیوں کی شادی میں یہ تمام قیمتی ملبوسات وہاں استعمال ہوجائیں گے۔ ہمارے دوست کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسے اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے جو اس نوعیت کے کام کرتے ہیں اور شہر کراچی میں عالمگیر ٹرسٹ کے علاوہ سیلانی ویلفیر ٹرسٹ بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے۔ مولانا ایدھی کا ایدھی ٹرسٹ تو بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔

سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ کے مالک اپنی تشہیر پسند نہیں کرتے، 1999 میں فٹ پاتھ سے آغاز کرنے والے آج سال کے کروڑوں روپے مستحقین میں بانٹ رہے ہیں، فٹ پاتھ پر کھانا کھلانے کا سلسلہ اب اس قدر مقبول ہوگیا ہے کہ بعض اوقات لوگوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ وہاں جانا ہوا تھا، دیکھا کہ دوپہر کے کھانے کے لیے رنگ و روغن کرنے والے کاریگروں، کوڑا کرکٹ چننے والے افغان بچوں کے ساتھ ہی ایک سفید پوش بزرگ بھی وہاں بیٹھے ہیں جو آنکھیں نیچی کیے چپ چاپ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔

ایدھی ٹرسٹ نے اپنا گھر کے نام سے بے سہارا بزرگ لوگوں کو چھت فراہم کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کررکھا ہے۔ اکثر ٹی وی چینل والے وہاں جانکلتے ہیں اور دیکھنے والے ان بزرگوں کی روداد سنتے ہیں جنہیں ان کی اولاد نے اپنے گھر سے نکال دیا ہے۔

یادش بخیر، ایک مرتبہ ایدھی کے مردہ خانے جانے کا اتفاق ہوا، جن صاحب کے ساتھ گیا تھا ان کے بھائی کی میت کو سرد خانے میں منتقل کرنے کے لیے نگراں کار نے ہم ہی سے درخواست کی، بڑے بھائی کے جسم پر کپکپی طاری دیکھ کر میں اندر چلا گیا۔ اندر کا منظر کیسا ہوسکتا تھا، اس کو وہی لوگ جان سکتے ہیں جنہیں وہاں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔
واپسی پر ایک سوال ذہن میں تھا۔ دو کروڑ کے شہر میں بلا معاوضہ خدمات فراہم کرنے والا ایک وسیع مردہ خانہ بھی ہونا چاہیے، اس کا خیال سب سے پہلے صرف مولانا ایدھی ہی کو کیوں آیا ? لوگ انہی پر ہی بھروسہ کیوں کرتے ہیں ?

جناب اطہر صدیقی صاحب اور  جناب ظہیر الدین دانش صاحب کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ پاک و ہند کے مسائل اب ایک ہوئے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ دونوں ملکوں میں غربت کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا جاتا تھا کہ جیسا بھی ہو پاکستان میں رات کو کوئی بھوکا نہیں سوتا۔

اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ ایک تازہ اطلاع کے مطابق اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں اب یہاں سات کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں غربت کی شرح میں آٹھ فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔

تین برس قبل ہونے والی قیامت خیز بارشوں کے بعد آنے والی تباہی میں میڈیا پر دکھیا گیا ایک منظر ذہن میں نقش ہوگیا تھا۔ مظفر آباد اور خیر پور میں حکومت نے مفت آٹے کی فراہمی کا اعلان کیا تھا، دونوں شہروں سے اس تقسیم کے دوران چار چار لاشیں اٹھی تھیں، یہ تمام لوگ اس دوران کچل کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مظفر آباد کا ایک بوڑھا شخص بھی ان میں شامل تھا۔

دوسری جانب یہ حال ہے کہ بینکوں سے قرضہ حاصل کرنے والا “قرض خور” مافیا قرضے کا فارم حاصل کرنے سے پہلے، قرضہ معاف کرانے کا فارم حاصل کرتا ہے!

میں اکثر سوچتا ہوں کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر سستے آٹے کے حصول کی خاطر لمبی قطاروں میں کھڑے جن لوگوں کے ہاتھوں میں آخری سو کا نوٹ ہے، جس روز یہ نوٹ بھی نہ رہا تو وہ ان قطاروں سے نکل کر آپ اور ہم ہر ٹوٹ پڑیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بصورت دیگر اس بھوکے شخص کو اور کچھ یاد ہو یا نہ ہو، انقلاب فرانس میں بادشاہ لوئی 16 اور عوام کو روٹی نہ ملنے پر کیک کھانے کا مشورہ دینے والی
ان کی ملکہ انقلاب، روس میں زار روس نکولس دوم اور رومانیہ کے چائوشسکو خوب یاد ہیں!
————–

اتوار بازار سے ملنے والی دو عدد کتابوں کی تفصیل یہ ہے:

کچھ یادیں کچھ باتیں
شوکت تھانوی
ناشر: ادارہ فروغ اردو، لاہور
سن اشاعت: 1964
بازار کی قیمت: 50 روہے

نایاب ہیں ہم
مصنف: آوارہ سلطان پوری
ببمئی کے ادبا و شعرا کی یاداشتوں اور تذکروں سے مزین
ناشر: اردو قبیلہ
سن اشاعت: 1997
کتاب کی فہرست مضامین منسلک ہے۔

“نایاب ہیں ہم” پر ہندستانی شاعر افضل منگلوری کے دستخط ہیں، یہ دلچسپ و نایاب کتاب انہوں نے کراچی کے شاعر “عارف شفیق” کو تحفے میں پیش کی تھی۔
ادبی دنیا نامی جریدہ عارف شفیق اور افضل منگلوری نکالا کرتے تھے، غالبا اب افضل صاحب اس سے علاحدہ ہوگئے ہیں۔

آوارہ سلطان پوری کا انتقال بمبئی میں 1992 میں ہوا۔

آوارہ صاحب کا ایک شعر دیکھیے:

جو سمندر میں بانس ڈالے گا
اپنی پگڑی وہی اچھالے گا

آوارہ صاحب، دوسری جنگ عظیم سے قبل 18 برس کی عمر میں فوج میں بھرتی ہوگئے تھے۔ برما کے محاذ پر بندوق اور قلم ساتھ ساتھ چلاتے رہے۔ 1946 میں قلم، بندوق پر ھاوی آگیا لہذا فوج کو خیر باد کہا اور 1950 میں بمبئی آگئے۔ بمبئی کے مضافاتی ممبرا میں سکونت اختیار کی (وہیں آسودہ خاک ہیں)۔ گردش حالات نے مکان سے جھونپڑے میں رہنے پر مجبور کیا، اہلیہ کے انتقال کے بعد حالات بہتر ہوگئے اور اسی جھونپڑے کی جگہ ایک شاندار عمارت کے مالک بنے۔

ان کے ایک رفیق تھے، مولانا شحیم گونڈوی، ممبرا مسجد کے پیش امام تھے، وہی ان کے ممبرا میں آباد ہونے کا سبب بنے۔ اسٹیشن کے بالکل سامنے تین ہوٹل، بنیے کی ایک دکان، کیلے والے اور دس گھر کی بستی جس میں ایک بھوت بنگلہ بھی شامل تھا، یہی تھی اس زمانے میں ممبرا کی کل کائنات۔ دیکھا تو جگہ پسند آگئی۔ پیچھے پہاڑی اور سامنے ریلوے لائن اور سمندر کی کھاڑی یعنی مرنے کی تمام آسانیاں موجود۔ آوارہ صاحب کی بیگم دیہاتن تھیں، یہ ماحول دیکھ کر خوش ہوگئیں۔ صاف مٹی، کھلی ہوا اور دھوپ۔ بقول آوارہ صاحب، بمبئی والوں کو یہی تین چیزیں نصیب نہیں ہوتیں۔

اسٹیشن کے سامنے ہوٹل والے باوا کی ایک آنے کی اسپیشل چائے، دو آنے کی بالائی اور پایا، یہی تین چیزیں مشہور تھیں۔  ہوٹل والے باوا ماں، بیوی اور گود کی بچی کو چھوڑ کر نوجوانی میں ٹاٹا نگر سے بھاگے تھے اور بھٹکتے ہوئے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ ہر  دھونی رمائے کر بارہ برس تک بیٹھے رہے۔ ممبرا آئے تو کالے کپڑے، بڑی بڑی جٹا اور ہاتھ میں کمنڈل تھا۔ اب وہ اس علاقے کے مشہور آدمی تھے۔

باوا کے ہوٹل کے ساتھ شکیل بھائی کی پان کی دکان تھی، آوارہ صاحب کو دیکھ کر کہنے لگے: آپ
کا وصی احمد ہے۔
آوارہ صاحب حیران ہوئے کہ ان کا اصلی نام تو کوئی نہیں جانتا۔
استفسار پر شکیل بھائی بولے؛ آپ 1947 میں جبل پور میں ملٹری ٹریننگ سینٹر میں حوالدار تھے نا ?
معلوم ہوا کہ وہ بھی فوج کی روٹی کھائے ہوئے ہیں!

آوارہ سلطان پوری کہتے ہیں کہ اس وقت ممبرا میں ایک آنے کا عمدہ چیکو ملتا تھا اور کیلا تھا دو آنہ درجن۔ کلیان سے وی ٹی تک مہینے بھر کا پاس سات روپے میں بنتا تھا۔ کھاڑی سے ریت نکلتی تھی اور پہاڑ سے پتھر کے ٹکڑے۔ اس زمانے میں ممبرا کا یہی کاروبار تھا۔

آوارہ سلطان پوری کتاب میں شامل انٹرویو میں کہتے ہیں:

“” میری زندگی تلخ و شیریں تمام لذتوں سے راقف ہے۔ کبھی سات پیسہ گز بکنے والی جاپانی ڈوریا کے لیے ترسا ہوں تو کبھی اٹالین کمبل درجنوں کے حساب سے بانٹے ہیں۔ زندگی کی بیشتر راتیں ہوادار کمروں میں بسر کی ہیں تو کبھی چٹ گاں کے جنگی مورچوں کے سڑے ہوئے پانی میں چھ چھ گھنٹے بیٹھا رہا ہوں۔ فوجی زندگی ہی کا بیشتر حصہ آفس میں بجلی کے پنکھے کے نیچے قلم چلاتے ہوئے گزارا ہے تو کچھ حصہ اراکان برما کی پہاڑیوں میں برین گن کی گولیوں کو چلاتے ہئے بیتا ہے۔ کبھی دو پیسے کی چائے کی پڑیا خریدنے کی استطاعت نہیں تھی تو کبھی ہزاروں روپیہ بغیر مانگے ہوئے ضرورت مندوں کو دوسروں کے ذریعے پہنچا دیے۔ اب اپنے گھر کے قالین پر بیٹھا زندگی کا جائزہ لیتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ خوشی یا سکون صرف دوسروں کو خوش کرکے ہی نصیب ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں میرا یہ شعر سن لیجیے:

دوستو! غم بھی کھاتی ہے دنیا
تلخ  ہے  بے  مزہ   تو  نہیں  ہے      ۔۔۔۔ “”

———

آپ نے جوش کی یادوں کی برات میں ان کے زمانے کی چند عجیب ہستیوں کا احوال پڑھا ہوگا۔ آوارہ سلطان پوری کی کتاب “نایاب ہیں ہم” اس قسم کے تذکروں سے پر ہے۔

مائل دہلوی کے احوال میں آوارہ سلطان پوری بیان کرتے ہیں:

فاطمہ بلڈنگ میں میرا چھوٹا سا کارخانہ تھا۔ چار پانچ کاریگر کام کرتے تھے۔  ایک دن مظفر شاہجہان پوری ایک بزرگ ساتھ لائے اور فرمایا: لو بھئی! استاد سے ملو۔
میں سمجھا مظفر صاحب تفریح کے موڈ میں ہیں۔ عزت سے سلام کرکے بٹھایا۔ چائے والے کو آواز دی اور استاد سے مخاطب ہوا۔ ننگے سر، ننگے پاں، ٹخنے سے ایک بالشت اونچی ٹانڈہ کی معمولی لنگی، معمولی کپڑے کا مٹ میلا کرتہ، ہاتھ میں المونیم کا دو ڈبے والا ٹفن، داڑھی بڑھی ہوئی اور داڑھی کے بالوں میں روئی کے ریشے اٹکے ہوئے۔
مظفر شاہجہان پوری نے کہا کہ استاد جنسیاتی شاعری کے استاد ہیں۔ چائے پی کر استاد کہنے لگے: میں مل میں کام کرتا ہوں، وہاں مجھے سیٹھ استعمال کرتا ہے، گھر میں بیوی اور ہابر دوستوں کی حاجت رفع کرتا ہوں۔””
اوپر لکھی ہوئی ہیت کا یہ آدمی اگر چار سو چویتر روپیہ پچاس پیسہ تنخواہ پاتا ہے تو پچاس پیسہ سمیت پوری تنخواہ بیوی کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔ رفیع احمد خاں اور عریاں حیدرآبادی کے رنگ کی شاعری کرتے ہیں۔
——–
کمہار واڑہ میں ایک تھے بھیا جی جو ڈائیاں بنانے کے کام میں ماہر تھے۔ گرم اور ٹھنڈے سبھی طرح کے کام میں ایکسپرٹ تھے۔ وہ تھے لکھن کے، ان کے آبا توپیں بنانے میں ماہر تھے۔ بھیا جی نے ایک واقعہ سنایا:
اگلے وقتوں میں کوئی بڑے مہاجن تھے، راجہ اور مہاراجاں کو قرض دیتے تھے۔ وہ اتفاق سے بیمار پڑ گئے۔ خبر ملتے ہی روسا آنے لگے۔ مہمانوں کا تانتا بندھ گیا۔ کھایا پیا، واپس گئے۔ ڈاکٹروں، حکیموں کی بن آئی، نذرانے، دوا کے کام، تیمارداری کے اخراجات۔ شفا ہوئی تو غسل صحت کا جشن اور اس جشن میں راجہ، نواب اور روسائے شہر کی مہمانداری۔ پھر مباکرباد کے ساتھ ساتھ رخصتی کے تحائف۔ جب فرصت ہوئی تو ساہوکار نے لڑکے کو بلایا اور ھساب پوچھا۔ لڑکے نے حساب کرکے بتایا کہ پچیس ہزار خرچ ہوئے ہیں۔ بڈھے نے سر پیٹ لیا اور بیٹے سے کہا:
” آخر مجھے بچا کر تمہیں کیا لابھ ہوا ? پچیس ہزار خرچ ہوگئے اور ابھی مرنے کا مرنا باقی “”

———

اپنا تبصرہ بھیجیں