آدھی رات کے سورج کی سرزمین میں رمضان



کالم نگار ڈاکٹر عارف کسانہ
سویڈن
سویڈن ناروے اور فن لینڈ کا حصہ قطب شمالی ( Arctic circle ) کے اندر واقع ہونے کی وجہ سے 27 مئی سے 15جو لائی تک یہاں سورج چوبیس گھنٹے چمکتا ہے۔ اسی لیے اسے آدھی رات کے سورج کی سرزمین کہا جاتا ہے۔سویڈن کے شمالی شہر کیرونا ( Kerona) کے طلوع اور غروب آفتاب کے اوقات میں ستائیس جولائی سے پندرہ جولائی تک چوبیس گھنٹے سورج روشن رہتا ہے۔اور طلوع و غروب کے اوقات نہیں دیے جاتے۔روس کا شمالی علاقہ بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہے۔اس خطہ میں مسلمان موجود ہیں جنہیں صوم و صلوٰة کی پابندی کے لیے مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔جس کا حل ہمارے مروجہ فقہوں میں موجود نہیں۔کیونکہ وہ عرب کے جغرافیائی حالات کو مد نظر رکھ کر وضع کیے گئے تھے۔سویڈن ناروے اور فن لینڈ جغرافیائی طور پر جنوباً شمالاً واقع ہیں۔اس اعتبار سے ان ممالک کے وسطی حصے سے جنوب تک کے علاقوں میںطلوع و غروب آفتاب کے اوقات موجود ہیں۔اگرچہ روزے کا دورانیہ بیس گھنٹوں سے ذائد بنتا ہے مگر یہاں رہنے والے التزام کے ساتھ روزے رکھتے ہیں۔اور سحری و افطاری کے لیے مروجہ اوقات کار پر ہی عمل کرتے ہیں۔چونکہ موسم گرمااس علاقہ میں نہائیت خوشگوار ہوتا ہے ۔ لہٰذا طویل روزہ بھی مشکل نہیں ہوتا۔مگر مسلہء ان ممالک کے شمالی خطہء کا ہے جہاں روزہ کا دورانیہ تئیس گھنٹوں سے ذائد کا ہے اور وہاںجہاں تین ماہ سورج کے طلوع و غروب کے اوقات ہی نہیں ہیں۔
خدائے علیم و خبیر جس نے روزے فرض کیے ہیں۔ا ور ان کی حکمت بھی بیان کی ہے وہ خالق کائنات ہے اور دنیا کے اس خطہ کی صورتحال کے پیش نظر اپنی آخری کتاب میںاس کا حل بھی بتا دیا ہے۔مگر ہماری قرآن پر گہری نظر نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے۔اس ضمن میں یورپین کونسل علماء برائے فتویٰ و تحقیق کے علماء نے نہائیت غور سے قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں ایک قابل عمل حل پیش کیا ہے۔کونسل نے ان دو ممکنہ آراء اور فتووں پر بھی تبصرہ پیش کیا گیا ہے جو اس سے پہلے پیش کی گئیں جن میں الاظہر یونیورسٹی کے علماء بھی شامل ہیں۔

١۔پہلی صورت یہ ہے کہ شہر مکہ کے سحری و افظاری کے اوقات کی پابندی کرتے ہوئے روزے رکھے جانے چاہیئں ۔چاہے جس وقت سورج طلوع ہو۔
٢۔دوسری صورت کے مطابق اس ملک کے قریب ترین خطے اسلامی ملک کے سحری و افطاری کے اوقات پر عمل کیا جائے۔اس صورت میں ترکی کا شہر استنبول قری ترین شہر قرار پاتا ہے۔

لیکن یورپین کونسل نے ان دونوں آراء کو قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا ہے۔اسلامی کونسل نے اسلامی ورلڈ لیگ کی فقہ سے متعلقہ اجلاس 1982 کی سفارشات سے بھی اتفاق کیا ہے۔ قرآن حکیم نے توروزے کا دورانیہ خود متعین کر دیا ہے کہ صبح کی سفید ڈوری رات کی سیاہ ڈوری سے الگ ہونے سے لے کر رات کی آمدتک ہے۔2/127 ۔جب قرآن نے روزے کا وقت قطعی متعین کر دیا ہے تو پھر اسے کسی کی رائے یا اجتہاد بھی تبدیل نہیں کر سکتا۔کیونکہ جس معاملہ کو قرآن نے واضع طور پر بیان کر دیا ہے اسے کوئی اور تو کیا خود رسول اکرم بھی تبدیل نہیں کر سکتے تھے10/15۔لیکن جن امور میں قرآن حکیم نے واضع حکم نہیں دیا ان میں اجتہادی آراء ممکن ہے۔
یہاں یہ اہم بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ روزہ فاقہ کشی کا نام نہیں ہے۔کسی اسلامی ملک کو معیار بنا کر اتنے گھنٹے بھوک پیاس برداشت کرنے سے کیا روزہ مکمل ہو جائے گا؟؟چاہے سورج مطلع پر طلوع رہے۔بلکہ روزے کادورانیہ وہی ہے جو قرآن حکیم نے متعین کر دیا ہے۔کہ یہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہے۔ ( From dawn to dusk) اب مسلہ پیدا ہوتا ہے کہ قطب شمالی کے لوگ روزے کیسے رکھیں؟؟جہاں موسم گرماء میں چوبیس گھنٹے سورج موجود رہتا ہے ،یا ان علاقوں میں جہاں دن بہت لمبا ہوتا ہے۔اور نہائیت تکلیف اور سختی کے ساتھ روزہ رکھنا ممکن ہوتا ہے۔اس صورت حال کا قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حل پیش کرتے ہوئے صاحب تفصیرالقرآن و ھوالھدیٰ والقرآن لکھتے ہیںکہ پس خدا تعالیٰ نے ان تمام حالات کے لحاظ سے جو اس کے علم میں تھے نے نہائیت عمدہ ترتیب سے جو فطرت انسانی کے بالکل مطابق یہ حکم دیا ہے کہ ،وعلیالذین یطیقون فدئیة طعام مسکین۔یعنی جو لوگ نہائیت مشقت و دشواری کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔اور یہ ان کے لیے انتہائی مشکل ہووہ سورة بقر کی اس آئیت نمبر 184 کی روشنی میں فدیہ دے دیں۔جو کہ کسی مستحق شخص کو دو وقت کاکھانا کھلانا ہے۔مگر یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ فدیہ دینے سے روزہ رکھنا افضل ہے۔ہر شخص اپنے طور پر خو متعین کر سکتا ہے کہ اس کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہے کہ نہیں۔علماء نے اس فہرست میں بوڑھے لوگ حاملہ خواتین ،دودھ پلانے والی خواتین جسمانی طور سے معذور خواتین پیدائشی کمزور اور و ہ مزدور جو سخت موسم میں سخت مشقت والا کام کرتے ہیںانہیں بھی شامل کیا گیا ہے۔اصول یہی ہے کہ جو شخص با مشقت روزہ رکھ سکے وہ اس میں شامل ہے۔یورپین کونسل برائے فتویٰ اور تحقیق نے بھی یہی رائے دی ہے کہ جہاں دن لمبے ہیں وہاں جہاں تک ممکن ہو سکے سحری و افطاری کے اوقات متعین کر کے روزے رکھے جائیں۔اور جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں سال کے دیگر ایام میں روزے پورے کریں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ طویل دن ہونے یا مشقت اور نہائیت دشواری کے ساتھ روزہ رکھنے والے سال کے دیگر ایام میںاپنے روزے پورے کریں اور ساتھ میں فدیہ بھی دے دیں۔ا ن لوگوں کے اعتراض کا بھی جواب ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ طویل روزے صحت انسانی کے لیے مضر ہیں۔خدائے علیم و خبیر نے جس ترتیب وخوبی کے ساتھ روزوں کا حکم دیا اور اس میں ا ستثنا کی صورت رکھی وہ نہ تو خلاف فطرت انسانی ہے اور نہ ہی کسی ملک کے لوگوں کے خلاف طاقت ہے۔اسی طرح نمازوں کے اوقات بھی مقامی طور پر متعین کیے جا سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن نے نمازوں کے اوقت خود متعین نہیں کیے۔دور جدید کے اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ اسلامی کانفرنس کے تحت اجتہاد کا ایک داراہ ہو جس میں علم اسلام کے اہم اسکالر ہوںاور وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کریںجو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں