مس امِ ہانی لاہور کے ایک پرائیویٹ اسلامی سکول میں بطورِ استانی خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ ان کی تنخواہ اتنی تھی کہ بمشکل گھر کا گزارا ہو جاتا، مگر پھر بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری اور محبت سے نبھاتی تھیں۔
اس سکول کے کچھ سخت اصول و قوانین تھے۔ صبح وقت پر سکول پہنچنا لازمی تھا۔ اگر ایک منٹ کی بھی تاخیر ہو جاتی تو جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔ چونکہ یہ ایک اسلامی ادارہ تھا، اس لیے ڈریس کوڈ پر بھی خاص توجہ دی جاتی تھی۔ تمام خواتین اساتذہ کے لیے عبایا اور مکمل پردے کے ساتھ آنا ضروری تھا اور پورا دن اسی انداز میں گزارنا ہوتا تھا۔
امِ ہانی نے 2019 میں اس سکول کو جوائن کیا تھا۔ شروع میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے بہت کچھ سیکھ لیا۔ تین سال گزر چکے تھے اور وہ اپنی ذمہ داریاں نہایت محنت اور خلوص سے ادا کر رہی تھیں۔
سالانہ امتحانات ختم ہو چکے تھے۔ بچے اپنے رزلٹ کے منتظر تھے اور اساتذہ بڑی محنت سے رزلٹ تیار کرنے میں مصروف تھیں۔ ہر مضمون کے نمبر احتیاط سے لگائے جا رہے تھے۔ لیکن اس بار صرف بچوں کا ہی نہیں بلکہ اساتذہ کا بھی رزلٹ تیار ہو رہا تھا۔
سکول کی پرنسپل صاحبہ تمام اساتذہ کی سال بھر کی کارکردگی کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ان کے وقت کی پابندی، رویے، محنت، کلاس مینجمنٹ اور ذمہ داریوں کو ایک خاص پرفارمے میں درج کیا جا رہا تھا۔ ہر استاد کے لیے ایک سالانہ رپورٹ تیار ہو رہی تھی جو رزلٹ کے بعد انہیں دی جانی تھی۔
امِ ہانی یہ سب دیکھ کر سوچ میں گم تھیں۔ بچوں کو تو نمبرز ملتے ہی ہیں، مگر زندگی میں ہر انسان کسی نہ کسی جگہ زیرِ امتحان ہوتا ہے۔ کبھی لوگوں کی نظروں میں، کبھی اداروں کے اصولوں میں، اور کبھی اپنے رب کے سامنے۔
انہیں احساس ہوا کہ اصل کامیابی صرف اچھے نمبرز نہیں بلکہ اخلاص، صبر اور دیانت داری ہے۔ کیونکہ انسان کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، چاہے اس کی قدر دنیا کرے یا نہ کرے

بے شک ان ہانی درست سوچتی ہے۔ اصل چیز اپنی زمہ داری کا احساس ہے،ایمانداری ہے،آگے بڑھنے کا جذبہ ہے ، وہ خصوصیات ہیں جو ایک معلم کی پہچان ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک استاد کو محنت پر اکساتا ہےاور اسی استاد کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔
ان خصوصیات کے سامنے دنیاوی مارکس کی کوئی حیثیت نہیں۔