ڈاکٹر شہلا گوندلیہ نظمیں یہ غزلیں یہ تیری کتابیں یہ لفظوں کے گھوڑے یہ سطری طنابیں ترا خواب بس یہ کہ دنیا یہ بدلے جو تو سوچتی ہے زمانہ وہ سمجھے پرانے یہ ظلمت کدے چھوٹ جائیں روایت سے لپٹے مزید پڑھیں
اس کیٹا گری میں 285 خبریں موجود ہیں
شعاع نور رات اک نظم سمندر کی طرح تکیے پر ایسے پھیلی کے سمیٹی نہ گئی تھی مجھ سے۔۔ میری آنکھوں میں دھواں ہجر کا یوں بھر آیا جیسے گنبد میں کوئی در نہ کوئی کھڑکی ہو میرے ہونٹوں پہ مزید پڑھیں
شعاعِ نور وہ گرم کافی کے گھونٹ بھرتا ہوا مجھے دیکھتا تھا ایسے کہ جیسے اس کے سوال کا ہر جواب دینا بھی لازمی ہے وہ پوچھتا تھا گلوں کی خوشبو سے مہکی نظمیں ہیں کس کی خاطر میں کیسے مزید پڑھیں
کلام: قِفل شاہ میں خاموشی سے اگر آواز لگا دوں بن جُنّبشِ گفتار یہاں حشر اٹھا دوں یہ صبر مری نسل کا ورثہ ہے وگرنہ تجھ جیسے وفادار سرِ دار چڑھا دوں غازی تھے اُس وقت سرِ دشت بہتّر مفرور مزید پڑھیں
کلام: ڈاکٹر شہلا گوندل میری سکھی، تم نے کہا ہے کہ عباس خان کے لیے کچھ لکھوں، پر بتاؤ، کیا لکھوں؟ عباس، وہ جو محبت اور عزت کا علم بردار، جو ہنستا، چھیڑتا، مذاق کرتا، لیکن دل کے ہر تار مزید پڑھیں
کلام : ڈاکٹر شہلا گوندل آج خود کو آئینے میں دیکھا، وحشت زدہ آنکھوں میں ادھورے خوابوں کی کرچیاں، نا آسودہ جذبے، نارسائی کے نادیدہ دکھ۔ صبر کے بندھن اب ٹوٹنے لگے ہیں، لمحے مٹھی سے ریت کی طرح پھسل مزید پڑھیں
کلام: شعاعِ نورہوائے تازہ دریچے سے ہوکے گزری ہے تو کیا وہ اور بھی نزدیک آگیا دل کے عبور کرتا ہوا فاصلوں کے جنگل کو مرے خیال کے رخسار تمتما اٹھے دہک اٹھی ہے محبت وفا کے رستوں پر کتاب مزید پڑھیں
کلام: مریم عباس وہ مغرور سی عورت جسے پرواہ نہیں ہوتی کسی کی چاہ نہیں ہوتی تیرے ایک “آپ” کہنے سے غم یہ دل پر سہنے سے آنکھیں موند لیتی ہے آس چھوڑ دیتی ہے اسے پھر غم ہوتا ہے مزید پڑھیں
کلام: مریم عباس سوچتی ہوں تکبر اپنا پھر سے پیارا کر لوں سوچتی ہوں تیری شکست کیسے گوارا کر لوں سوچتی ہوں شدید بے زار ہو تم مجھ سے سوچتی ہوں تم سے تمہارے لئے کنارا کر لوں سوچتی ہوں مزید پڑھیں
شاعرہ: شعاعِ نور بھلا سکتی نہیں وہ دن مری اک نظم دل دہلیز پر جب گیلی آنکھوں سے دیا دل کا جلا کر لوٹ آئی تھی تو اس نے دل کے رستوں سے مجھے پیغام بھیجا تھا کسی کے دل مزید پڑھیں
