ایک چٹائی سے کامیابی کی بلندیوں تک — ملک اسلم کی محنت بھری داستان

مگر ان کی سوئی اسی بات پر اٹکی نظر آتی ہے ۔
کہ کاروبار کے لیے پیسہ کہاں سے لائیں۔ صرف اسی سوچ کے گرد ان کا محور گھومتا ہے ۔اور وہ کامیابی کو حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر اس کہانی کی زندہ مثال ملک اسلم کی بات کی جائے تو جب وہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے سوئچ دکانداروں کے پاس لے جاتے تو دکاندار کہتے بھائی یہ کیا ہے؟

کمپنی کا مال لاؤ۔۔۔۔۔۔۔

تب ملک اسلم ان سے کہتے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ میری اپنی کمپنی ہوگی اور پورے علاقے میں میری کمپنی کے سوئچ سیل ہوں گے ۔وقت گزرتا گیا ملک اسلم نے ایک اور مشین خرید دی اور اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے دو ورکرز بھی رکھ لیے۔ اور سوئچ کے ساتھ الیکٹرسٹی کا دوسرا سامان بھی بنانے لگے، جیسے بجلی کی تاریں ،ساکٹس، بٹن سوئچ اور وائرنگ کا دوسرا سامان ۔۔۔۔۔۔

کچھ عرصہ گزر گزر گیا ان کے ہاتھوں کا بنا ہوا بجلی کا سامان مشہور ہونے لگا ،اور انہوں نے ایک چھوٹی سی فیکٹری کا آغاز کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس کا نام
( Sangam factory of sergodha )
رکھا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کے گھریلو حالات بھی ٹھیک ہوتے گئے۔ زندگی کی مشکل ترین حالات کا سامنا ملک اسم اور ان کی زوجہ نے مل کر کیا۔ مگر یقین بھروسے اور لگن کے ساتھ محنت جاری رکھی، جیسے جیسے ان کے سامان کی مانگ مارکیٹ میں بڑھی تو خام مال کی ضرورت بڑھتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔ جو پاکستان سے ان کو مہنگے داموں ملتا تھا۔ پھر ان کے ایک دوست نے ان کو مشورہ دیا ،کہ چائنہ سے خام مال منگواؤ تمہیں مناسب قیمت پر ملے گا۔ یعنی ہول سیل پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر پھر کیا تھا۔ ایک عام سا آدمی جو سرگودھا کی مارکیٹس میں سامان سیل کرتا تھا ۔اب چائنہ کے ساتھ کاروبار کی شروعات کر رہا تھا ۔وہ خام مال چائنہ سے منگواتے اور اپنی فیکٹری میں تیار کرتے ہوا یوں کہ سرگودھا سے باہر پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی سامان سے سیل ہونے لگا، وقت گزرتا گیا ملک اسلم کے دن رات کی محنت اور کوشش رنگ لانے لگی۔۔ سات سال کا عرصہ لگا ایک کمرے سے ایک فیکٹری بنانے میں

مگر اللہ تعالی نے انکا ہاتھ تھا ما اور انہوں نے اپنا گھر خریدہ۔۔۔۔۔۔
چھوٹی سی فیکٹری سے ایک بڑی فیکٹری کا آغاز کیا وقت بیتتا گیا سات سال اور گزر گئے اور ان کی شہرت اور کامیابی پورے علاقے میں بولنے لگی ۔۔چھوٹی دکانداروں کے مالک اپنا سارا مال ان سے لینے لگے ۔سرگودھا کے علاوہ پورے پاکستان میں بھی ان کے سوئچ ،بورڈز ،بٹن ،ساکٹس، بلب سیل ہونے لگے ۔جس ملک چائنہ سے وہ خام مال منگواتے اسے ملک کے مشینیں اپنے ملک پاکستان میں نصب کروائی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ انکو بار بار چائنہ آنے جانے میں چند مسائل کا سامنا تھا۔۔دو بڑی فیکٹریاں بنائی گئی جہاں سادہ بورڈز اور سرکٹس اور الیکٹریکل سامان بنتا تھا۔ اب وہاں پر ڈیزائننگ اور فینسی سامان تیار ہونے لگا، ان کی اپنی ایک پہچان بن گئی۔ ان کا کاروبار صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا، بلکہ چین تک پھیل چکا تھا۔ جو سوئچ ایک کمرے میں بنتے تھے ۔اب وہ بڑے پیمانے پر تیار ہو کر دنیا میں بیچے جا رہے تھے۔ آج جب زندگی کے 15 سال سے 20 سال گزر گئے ہیں ان کے بچے جوان ہیں انکی شادیاں ہو چکی ہیں وہ دادا بن چکے ہیں تو وہ جب بھی اپنے بچوں سے کے ساتھ بیٹھنے ہیں۔ تو انہیں اپنی پرانی چٹائی نکال کر دکھاتے ہیں۔ اس پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ ہم آج سے 15 سال پہلے اس چٹائی پر کھانا کھاتے تھے ۔اور اس پر سوتے تھے۔ تب ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔ آج اللہ تعالی کا دیا ہوا سب کچھ ہے ۔وہ اپنے مزدوروں کو بھی اکثر یہی کہتے تھے کہ میں بھی پہلے تم لوگوں جیسا تھا میں نے بھی زیرو سے شروع کیا تھا پر میں نے محنت نہیں چھوڑی

یہ کہانی اور اس جیسی اور زندہ مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں ۔کہ کامیابی کے لیے محنت، لگن ،جستجو اور بلند حوصلہ ، مستقل مزاجی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ کسی شخص کی کامیابی کے پیچھے اس کی محنت اور زندگی کا عرصہ لگ ہوتا ہے تب جا کر کامیابی قدم چومتی ہے۔۔۔۔

4 تبصرے ”ایک چٹائی سے کامیابی کی بلندیوں تک — ملک اسلم کی محنت بھری داستان

  1. بے شک محنت میں عظمت ہے اور محنت کرنے والے کا ساتھ اللہ تعالی بھی دیتا ہے ماشاءاللہ بہت اچھی تحریر ہے۔

  2. “کامیاب شخصیت کی کامیابی کی کہانی”بہت ہی زبردست اور پُراثر کہانی اور آجکل کے نوجوانوں کے لئے مشعلِ راہ۔ خدا ان کی مدد کرتا ہےجو اپنی مدد آپ کرتے ہیں دنیا میں کا میابی اور عزت صرف ان کو ملتی ہے جو خود محنت کر تے اور اپنی حا لت بد لنے کے لئے عملی اقدامات اٹھاتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو عقل ،صلاحیت اور طاقت دی ہے اور وہ ان کا استعمال دیکھنے کے بعد ہی اپنی رحمت کا دروازہ کھو لتاہے اللّٰہ تعا لیٰ ان کے کا روبار کو بہت ترقی دے اوران کو نظرِبد اور حاسدین سے محفوظ رکھےآمین آجکل کے نوجوانوں کو چاہئے کہ ثابت قدمی اور مستقل مزا جی کو اپنا شعار بنایئں اور اپنے زورِ بازو پر یقین رکھیں اور پھر دیکھیں “اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت “

  3. کامیابی انسان کی محنت، صبر اور مسلسل کوشش کا خوبصورت نتیجہ ہوتی ہے۔

  4. اللہ ہر ایک کو اسی طرح محنت اور لگن سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین

اپنا تبصرہ لکھیں