گلاب ہاتھ میںہو آنکھ میں ستارہ

 

خوبصورت شعر ہے کہ گلاب ہاتھ میںہو آنکھ میں ستارہ ہو کوئی وجود محبت کا استعارہ ہو بلبل فارس حافظ شیرازی اپنی ایک غزل میں گلاب کا ذکر کچھ اس

gulabطرح کرتے ہیں۔

از خیالِ لطف مے مشاط چالاک طبع در ضمیر برگِ گل خوش میکند پنہاں گلاب یعنی چالاک طبع مشاطہ شراب کے لطف کے خیال سے پھول کی پتی کے دل میں اچھی طرح گلاب بھر رہی ہے۔

گلاب کا ذکر ہمیں فارسی کی صوفیانہ شاعری میں بھی جا بہ جا نظر آتا ہے ۔ برصغیر کے معروف صوفی بزرگ حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی کا دل کو چھو لینے والا شعر ہے کہ اے زاہد ظاہر بین از قرب چہ می پرسی او درمن و من در او چوں بو بہ گلاب اندر یعنی اے ظاہر پرست صوفی مجھ سے قرب کے بارے میں کیا پوچھتا ہے، وہ مجھ میں اور میں اس میں اس طرح ہوں جیسے گلاب میں خوشبو بسی ہوتی ہے۔

گلاب میں خوشبو اس کی معراج تصور کی جاتی ہے۔ مشرقی ذوق اور طبع کے مطابق یہ صرف گلاب کے پھولوں پر ہی موقوف نہیں بلکہ یہاں ہر پھول میں مہک کا ہونا لازمی امر خیال کیا جاتا ہے۔

ایک ایسا پھول جو صناع ازل کی رنگا رنگی سے مرصع ہونے کے ساتھ ساتھ ہمہ صفات بھی ہے اس کا نام گلاب ہے ایک ایسا پھول کہ جسے دیکھ کر رخِ محبوب کا مغالطہ و مبالغہ ہونے لگے اسے گلاب کہتے ہیں۔ گلاب قدیم زمانے سے شعرا اور ادیبوں کا من پسند پھول رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گل رخ محبوب کا ذکر گلاب کے بغیر ممکن ہی نہیں، کسی بھی زبان یا خطے کی شاعری گلاب کی تشبیہات اور استعارات سے بھری پڑی ہے شاعری میں جس قدر گلاب کا ذکر ہے اتنا کسی دوسرے پھول کا نہیں۔تہذیب و تمدن کے آغازسے لے کر آج دن تک گلاب محبت کے استعارے کے طور پر مستعمل چلا آرہا ہے۔

600 سال قبل مسیح میں یونان کی معروف شاعرہ سیفو نے اپنی شاعری میں گلاب کو پھولوں کی ملکہ کا خطاب دیاتھا۔ 400سال قبل مسیح میں ایک یونانی فلاسفر نے ہسٹری آف پلانٹس کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں گلاب کی کاشت کا تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ اسی کتاب میں گلاب کو بیج کے بجائے قلم سے کاشت کرنے پر زور دیا گیاہے، آج پوری دنیا میں زیادہ تر گلاب اسی طریقہ سے کاشت کیا جا رہا ہے۔

قدیم قصے کہانیوں میں لکھا ہے کہ کورنتھئین کوئین رہوڈنتھی نے اپنے پرستاروں سے گھبرا کر گلاب کا روپ اختیار کر لیاتھا۔رومن بادشاہ نیرو جب اپنے دربار میں محفل موسیقی منعقد کرتا تو فواروں میں پانی کی جگہ عرق گلاب استعمال کیا جاتا تھا۔

انگریزی زبان و ادب کے ستون ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا کہ گلاب کا کوئی بھی نام رکھ دیجیے گلاب، گلاب ہی رہے گا۔ گلاب کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین اور قدیم پھولوں میں ہوتا ہے۔ گلاب کو اردو اور پنجابی میں گلاب، فارسی میں گلِ سرخ، عربی میں ورد ،سندھی میں جرپھل اور انگریزی میں روز کہتے ہیں، لفظ گلاب فارسی زبان کے دو االفاظ گل اور آب کا مجموعہ ہے جس کے معنی چمک دار روشن پھول کے ہیں۔ انگریزی زبان کا لفظ روز لاطینی زبان کے لفظ روزا سے جبکہ لاطینی زبان کا لفظ روزا یونانی زبان کے لفظ رہوڈون سے مشتق ہے۔ لفظ رہوڈون کی بنیاد یا مادہ فارسی اورعربی زبان کا لفظ ورد ہے۔

علم نباتات کے مطابق گلاب کے پودے کا خاندان Roseceae کہلاتا ہے۔ سیب، ناشپاتی، آڑو، آلو بخارا، خوبانی، بادام، چیری اور رس بھری اس خاندان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ اٹلی کے ایک قدیم شہر سائی بیرس میں گلاب کی خشک پنکھڑیوں سے بستروں کے گدے اور تکیے بھرے جاتے ہیں جو سونے والے کو راحت خوشبو اور فرحت مہیا کرتے ہیں۔ ترک اور رومن اپنے اکثر کھانوں پر گلاب کی پتیاں اور عرق گلاب چھڑکتے ہیں۔ ترکی میں کسی خاص مہمان کا استقبال بیرونی دروازے پر عرق گلاب چھڑک کر کیا جاتا ہے ہندوستان میں اس رسم کو تیل ڈھالنا کہتے ہیں۔

گلاب کینیڈا کی کچھ ریاستوں اورامریکہ کے علاوہ برطانیہ کا بھی قومی پھول ہے۔ انگریزوں کی روایات اور تاریخ سے گلاب کا بہت گہرا تعلق ہے۔ ماضی میں اکثر برطانوی بادشاہوں کے تمغوں پر نقش کیا جاتا رہا ہے۔ ازمن وسطی کے برطانوی گرجاگھروں کے چوبی حصوں پر خوبصورتی کے لیے گلاب کے پھول کندہ کیے جاتے تھے۔ ایک زمانے میں رومن چرچ میں ذکرو اذکار کے لئے تسبیح کے دانے بھی گلاب کی پنکھڑیوں کو آپس میں دبا چپکا کر بنائے جاتے تھے تاکہ ان میں بسی خوشبو عبادت گزاروں کی طبیعت کے لیے شادمانی کا باعث ہو، اس تسبیح کے99دانے ہوتے تھے اور اسے روزری کہا جاتا تھا۔

دنیا میں گلاب کی تقریبا دس ہزار اقسام پائی جاتی ہیںگلاب کی وہ بنیادی اقسام جنہیں گلاب کے آبائواجداد میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تعداد160 ہے۔ اس تعداد میں سے12 اقسام قدرتی طور پر پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ جنگلی گلاب کا پھول عام طور پر پانچ پنکھڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ ایک ٹہنی پر پتوں کی تعداد پانچ یا سات ہوتی ہے۔ چین میں پائی جانے والی ایک جنگلی قسم کی پنکھڑیوں کی تعداد چار ہوتی ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میکسیکو میں پائے جانے والے ایک جنگلی گلاب کے پھول کی صرف تین پنکھڑیاں ہوتی ہیں۔ آسٹریا میں پایا جانے والا جنگلی گلاب جس کا نام کاپرروز ہے، اس کی پنکھڑیوں کاسیدھے رخ سے رنگ نارنجی سرخ اور پشت کی طرف سے پیلا ہوتا ہے۔ گلاب کے جنگلی پودے کا قد 1ٹ سے لے کر 40فٹ تک ہوتا ہے۔ گلاب کی چند اقسام بغیر کانٹوں کے بھی ہوتی ہیں۔ ماہرین نباتات کے مطابق گلاب کی ٹہنی پر نکلنے والے کانٹے دراصل کانٹے نہیں بلکہ گلاب کی ٹہنی کی اندرونی سخت لکڑی ہی کا ایک حصہ ہوتے ہیں گلاب کی ایک قسم روزا گالیکا کی پنکھڑیوں کو اگر خشک کر لیا جائے تو پھر بھی وہ تازہ پھولوں ہی کی طرح خوشبو دیتی ہیں۔

سب سے زیادہ خوشبو دینے والا گلاب ملک شام کے علاقہ دمشق میں پایا جاتا ہے جسے گلاب دمشق کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ گلاب دمشق کو یورپ میں پائی جانے والی بہت سی جدید اقسام کے وجد میںشمار کیا جاتاہے۔ صلیبی جنگوں کے دوران یورپی جنگجو وسط ایشیا سے جو علم ،ہنر اوردیگر اشیا یورپ لے کر گئے ان میں سے ایک گلاب دمشق بھی ہے۔ اس زمانہ میں اس گلاب کو مذہبی تقدس حاصل تھا۔

دمشق سے لے جایا جانے والا زیادہ تر گلاب گرجا گھروں میں لگایا گیا اور اس کے پھول عبادت کے وقت گرجا گھروں میں نذر کئے جانے لگے۔یورپ میں پائی جانے والی خوشبو دار گلاب کی زیادہ تر اقسام کی بنیاد یہی گلاب دمشق ہے۔ فرانس میں کشید کیا جانے والا عرقِ گلاب اور عطر گلاب زیادہ تر اسی قسم سے کشید کیا جاتا ہے۔پانچ ٹن گلاب کی پتیوں سے صرف ایک لِٹر عطر کشید کیا جاتا ہے۔ جبکہ پانچ ایکڑ رقبے پر گلاب کاشت کیا جائے تو اس سے لگ بھگ چھ ٹن گلاب کی پتیاں حاصل ہوتی ہیں۔

تاریخی حوالے سے جو ریکارڈ دستیاب ہے اس کے مطابق تقریبا 5ہزار سال قبل بابل کے بادشاہ سارگن اول نے اسے دجلہ و فرات کے درمیانی علاقے میں کاشت کروایا تھا۔ ماہرین علم نباتات کی تحقیق کے مطابق گلاب کا پوداہماری زمین پر گذشتہ اڑھائی کروڑ سال سے موجود ہے۔ گلاب کی زیادہ تر اقسام شمالی نصف کر ارض میںپائی جاتی ہیں۔

گلاب کا حقیقی اور آبائی وطن ایران اور چین ہیں۔ انہی دو ممالک سے چل کر گلاب پوری دنیا میں پھیلا ہے۔ 500قبل مسیح میں چین میں عطر گلاب تیار کیا جاتا تھا مگر اس کے استعمال کی اجازت صرف مخصوص لوگوں کوتھی۔ مسلمانوں کی روایات کے مطابق شروع میں گلاب بغیر خوشبو کے ہوتا تھا پھر ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پسین مبارک کے قطرے گلاب کے پھولوں پر گرے تو وہ خوشبو دینے لگے۔

عیسائی روایات کے مطابق سفید گلاب حضرت مریم کی پاکیزگی اور پاک دامنی کے مظہر ہیں اور جب حضرت عیسی علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تو ان کے زخموں سے گرنے والے خون کے قطروں نے سرخ گلاب کی شکل اختیار کر لی۔ پارسیوں کی مقدس ترین کتاب اوِستا کے مطابق گلاب کا پھول مذہبی نشان کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرزمین بابل اور ہندوستان میں گلاب کی پرستش کے آثار بھی ملے ہیں۔

اساطیری روایات کے مطابق ہومر اپنی مشہور زمانہ نظم میں لکھتا ہے کہ ایکلیز کی ڈھال کو گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ ایفرو ڈائٹ نے ہیکٹر کی لاش پر گلاب کے روغنی مرکب سے لیپ کیا، خوبصورتی کی دیوی وینس کو گلاب بطور تقدیس نذرکیا گیا۔ دیوی الفیرو ڈائیٹ نے جب سمندر کی سطح پر جنم لیا تو سطح سمندر پر پیدا ہونے والی جھاگ نے گلاب کے پھول کی شکل اختیار کی ۔

گلاب کو حسن و لطافت ، محبت و الفت، بہادری ، شجاعت، رازو نیاز، سادگی و معصومیت اور اتحاد و یگانگت جیسی خوبیوں کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ معانی کے اعتبار سے مصری اسے خاموشی کا مظہر خیال کرتے ہیں ایرانیوں کے نزدیک یہ حسن کی علامت ہے۔ جبکہ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے پوری دنیا میں گلاب محبت کے اظہار کے ذریعہ کے طور پر مقبول عام ہے۔ یورپی ممالک کے جن کمروں کی چھتوں پر گلاب کے پھول کندہ یا آویزاں ہوتے ہیں ان کے نیچے بیٹھ کر ہونے والی گفتگو کو صیغ راز میں رکھا جاتا ہے۔

دنیا کا قدیم ترین زندہ گلاب کا پودا جرمنی کے ایک گرجا گھر میں نصب ہے، ماہرین کے مطابق گلاب کے اس پودے کی عمر تقریبا پانچ سوسال ہے۔ گلاب کے پھول گلدانوں اور گلدستوں میںسجانے کے لیے دنیا بھر میں مقبول ہیں جنگ سے لوٹنے والے فتح مند سپاہیوں اور منظورِ نظر محبوبہ کو سرخ گلابوں کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔معصوم بچوں کے کفن اور تابوت ، جبکہ دوشیزائوں کی شادی کے موقع پر سفید گلاب پیش کیے جاتے ہیں۔

جزیرہ روڈز Rhodes کا نام انگریزی لفظ روز کی ابتدائی شکل ہے۔ اس جزیرہ سے ملنے والے قبل از مسیح کے سکوں پر گلاب کے پھول کندہ ہیں۔ بابل کی سرزمین تقریبا 2850قبل مسیح سے لے کر 2600 قبل مسیح تک گلاب کے پھولوں کا تجارتی مرکز رہی ہے۔

پاک بھارت متنازعہ علاقہ سیاچن گلیشئرجس پر دونوں ممالک کی چپقلش ہنوز جاری ہے ۔سیاچن کے معنی سیاہ گلاب کے ہیں۔اس علاقے کے کچھ حصوں میں جون جولائی کے دوران جب قدرے بر ف پگھلتی ہے تو وہاں خود رو گلاب کے پھول سیاہی مائل گہرے سرخ رنگ کے ہوتے ہیں شائد اسی سبب سے اس علاقے کا نام سیاچن پڑ گیاہے۔سفید آنچل تلے چھپی برف پوش وادیوں میں اگنے والے گلاب کے بارے میں جناب عنصرعلی عنصر کا ایک خوبصورت شعر ہے ۔

برف رت میں گلاب دیکھتا ہوں جاگتے میں بھی خواب دیکھتا ہوں پانچویں صدی قبل مسیح کے عظیم فلسفی اور ماہر اخلاقیات کنفیوشس کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ اس کے زمانہ میں چین کے شاہی کتب خانہ میں گلاب پر چھ سو کتابیں موجود تھیں۔گلاب اپنے گوناگوں فوائد اور خوبصورتی کے باعث صدیوں سے انسان کے زیر کاشت اور زیر استعمال ہے ۔

گلاب دمشق عثمانی ترکوں کے ذریعے بلغاریہ پہنچا، گلاب دمشق میں تقریبا ایک سو سے زائد ادویاتی اور کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں۔دنیا کے بیش ترعلاقوں میں عطر گلاب، عرق گلاب، گل قند اورگلاب کی خشک و تازہ پنکھڑیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ گلاب کا عطر دنیا کی بیش قیمت خوشبوئوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں صرف بلغاریہ کا ملک پوری دنیا کی تین چوتھائی ضروریات پوری کرتا ہے بلغاریہ کے شہر صوفیہ کے مشرق میں خودرو گلابوں کی وادی32 کلو میٹر چوڑائی اور 260کلو میٹر لمبائی پر محیط ہے۔ اس وادی میں تین لاکھ سے زائد افراد گلاب کی پیداوار اور اس سے متعلقہ دیگر مصنوعات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اس وادی میںہر سال تقریبا تین ٹن عطر گلاب تیار ہوتا ہے جس کا بیش تر حصہ فرانس کو برآمد کیا جاتا ہے۔ سپین کا ایک گلاب فارم جسے جدید سائنسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے کی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ ان کے فارم سے پورے یورپ کو گلاب کے پھولوں کی سپلائی دی جا سکتی ہے۔

ممتاز تاریخی شخصیتوں میں نپولین کی بیگم میڈم جوزفین، حکیم عمر خیام،قلو پطرہ اور ملکہ نورجہاں گلاب کی خوشبو پر جان چھڑکتی تھیں۔ جہاں تک رنگ کا تعلق ہے تو اس میںخالص یک رنگ پھولوں کے علاوہ، دو رنگ، سہ رنگ اور چہار رنگ کے پھول کثرت سے پائے جاتے ہیں البتہ خالص گہرا نیلا رنگ ان میں تاحال مفقود ہے۔ نیلے رنگ سے متعلق شائقین کی بے چینی اور اضطراب کی یہ کیفیت ہے کہ لوگ دل کو خوش کرنے کے لیے بازار سے نیلے رنگ کے مصنوعی گلاب خرید کر گھروں اور محفلوں کو سجاتے ہیں۔

گلاب کو یورپ میں وسیع پیمانے پر متعارف کروانے اور ہر دلعزیز بنانے میں درج ذیل عوامل کا کردار بہت اہم ہے: انیسویں صدی کے شروع میں نپولین کی ملکہ جوزفین نے پیرس کے قریب گلاب کا ایک باغ لگوایا جس میں دنیا بھر سے گلاب کی تمام اقسام منگوا کر کاشت کی گئیں۔ ملکہ جوزفین ہی کی سرپرستی میں اس وقت کے مشہور مصور جوزف ایڈائوٹ نے اپنی زیادہ تر پینٹنگز کا موضوع گلاب ہی کو بنایا اور اسے ہر ہر زاویے سے مصور کیا۔

انگلستان میں گلاب کو وسیع پیمانے پر پھیلانے میں گلابوں کی جنگ نے اہم کردار ادا کیا۔ 1455 سے لے کر1475 تک جاری رہنے والی انگلستان کی خانہ جنگی میں لنکا سٹر والوں نے سرخ گلاب کو اپنا نشان ٹھہرایا، جبکہ مدمقابل یارک شائیر والوں نے سفید گلاب کو اپنا جنگی نشان مقرر کیا۔

اس جنگ کے نتیجہ میں جہاں انگلستان میں گلاب وسیع پیمانے پر متعارف ہوا وہاںدوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ انگلستان میں نظامِ جاگیرداری ختم ہو گیا۔ آج سے 350 سال قبل کے ایک معروف مغنی تھامس کیمپلر کے ایک مشہور گیت کا ایک خوبصورت شعر ہے کہ Roses the Garden`s Pride Are Flowers for Love a Flowers for Kings In Courts desired and weddings تاریخی حوالے سے برصغیر ہندوستان میں گلاب کی کچھ اقسام مغل سلطنت کا بانی ظہیر الدین بابر ایران سے لے کر آیا تھا۔

ہندو پاک کے مشرقی اور مغربی پنجاب میں پایا جانے والا گلاب جسے ہم دیسی گلاب بھی کہتے ہیں اس کا حقیقی نام کنگ ایڈورڈ روز ہے جسے انگریزوں نے آج سے تقریبا150برس پہلے اپنے دورِ حکومت میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں انگلستان سے منگوا کر کاشت کروایا۔

برصغیر میں گلاب کے حوالے سے سکھوں میں ایک فرقہ پایا جاتا ہے جسے گلاب دا سئیے کہتے ہیں۔ ٹی بی جیسے موذی مرض کے علاج کے لیے لاہور میں گلاب دیوی ہسپتال ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں ایک مہاراجہ گلاب سنگھ بھی ہو ا ہے جس نے انگریزوں سے ایک کروڑ روپے کے عوض کشمیر خریدا تھا، جہاں آج تک مسلم اکثریتی آبادی پر ہندوئوں کے مظالم جاری ہیں۔ لاہور شہر سے شالا مار باغ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک گلابی باغ ہے۔ جسے مغل بادشاہ شاہجہان کے ایک ایرانی وزیر مرزا سلطان بیگ نے 1658 میں تعمیر کروایا تھا۔

گلاب کا پودا ہمہ صفت موصوف ہونے کے باعث طبی خواص کا بھی حامل ہے۔ کتاب المفردات کے مطابق گلاب مفرح قلب، مقوی اعضائے رئیسہ، اور قابض ہے جبکہ زیادہ مقدار میں دست آورہے۔ اس کے تازہ پھولوں سے گل قند تیار کیا جاتاہے جو قبض رفع کرتا ہے۔ عرق گلاب آنکھوں میں ڈالی جانے والی دوائوں میں استعمال ہوتا ہے۔ایرانیوں نے عرق گلاب کی کشید کے فن کو درجہ کمال پر پہنچایا۔

پھولوں کا ضماد ورم جگر کو تحلیل کرتا ہے۔ گلے کے امراض میں اس کے جوشاندہ سے غرغرے کرواتے ہیں عرق گلاب میں کھرل کیا ہوا سرمہ سوزش چشم کو مفید ہے۔ گلاب کے پھولوں کا زیرہ منہ اور مسوڑھوں سے آنے والے خون کو روکتا ہے۔ ہو میو پیتھی کے معروف ڈاکٹر بورک کے مطابق گلاب سے بنی دوائی ہے فیور میں ابتدائی مرحلہ پر انتہائی فائدہ مند ہے۔ جبکہ یہی دوا قوت سماعت میں کمی کے لیے بھی مستعمل ہے۔ چینی طریقہ علاج میں گلاب زمان قدیم سے زیر استعمال ہے۔ اس سے بنی ادویات پیٹ اور معدہ کے امراض میں دی جاتی ہیں۔ سرطان جیسے موذی مرض کو کنٹرول کرنے میں بھی گلاب سے بنی ادویات پر تحقیق ہو رہی ہے۔

پیوندی گلاب کی بعض اقسام کے پھول کی پنکھڑیاں جھڑ جانے کے بعد پیدا ہونے والے ڈوڈے وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیںیورپ میں انہیں جام جیلی اور مارملیڈ بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈوڈوں سے کشید کیے گئے ست سے چائے بنائی جاتی ہے جو صحت بخش اور فرحت و تازگی کا باعث ہے۔بعض اقسام کے ڈوڈے انتہائی چمک دار تیز سرخ یا سبز رنگ کے ہوتے ہیں جنہیں پھولوں کی جگہ گلدانوں میں سجایا جاتا ہے۔

رنگ اور خوشبو کا حسین ترین امتزاج آپ کو زیادہ تر گلاب کے پھولوں میں ہی نظر آئے گا۔ صاحب بصارت لوگوں کے لیے جس طرح رنگ ایک بے آواز صدا تصور کی جاتی ہے۔ اسی طرح بینائی سے محروم افراد کے لیے خوشبو ایک ایسا غیر مرئی پیغام بر ہے جو انہیں کشاں کشاں کھینچے چلا جاتا ہے۔

گلاب کی اقسام کے حوالے سے جس قسم کا ذکر سب سے پہلے آتا ہے وہ گلاب کی بیلیں ہیں یہ حسین و جمیل نازنینوں کا سا روپ دھار کر خشک برہنہ درختوں کے تنوں اور ڈالیوں پر گل پاشی کرتی ہیں۔ اس کے بعد لڑھکتے اور ڈگمگاتے ہوئے بیل نما پودے Ramblers آتے ہیں جو ان پیارے بچوں کی مانند ہوتے ہیںجو گرتے سنبھلتے ہوئے صحن چمن کو خوشیوں سے مالا مال کرتے ہیں۔

جدید دور کے کوتاہ قد منی ایچر گلاب ننھے منے پھولوں سے آراستہ بے مثل نباتی شاہپارے، گویا کسی ان دیکھی پریوں کی سرزمین سے اٹھاکر لائے گئے ہوں۔ اس موقعہ پر پھر پروین شاکر کا ایک خوبصورت شعر عرض کرتا چلوں تتلی کے لبوں اور گلابوں کے بدن میں رہتا ہے سدا چھوٹے سے اک راز کا رشتہ آخر میں قد آور گلاب کی جھاڑیوں کا مقام ہے جن کا اپنا ہی ایک وقار اور حسن ہوتا ہے۔ ایک پھبن اور پھیلائو ہوتا ہے جنہیں مصور کی نظر سے دیکھا پرکھا اور اسی کے موقلم کے لمس سے زند جاوید کیا جا سکتا ہے۔

کیونکہ ذکر و بیان ان کے حسن کا احاطہ کرنے سے قاصر و عاجز ہیں۔البتہ ایک شاعر کے انداز میں ان حسینانِ چمن کو جو جھکی ہوئی شاخوں کے زیور سے آراستہ ہوتے ہیں شرم و حیا کے شاہکار کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ ایک فوٹو گرافر کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے کسی ساحرانہ عمل سے محبوبی قدو قامت میں ڈھال کر پودوں کو نصب کر دیا گیا ہے۔ ایک یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ گلاب کا پھول ہمیشہ نئی شاخ پر کھلتا ہے۔ اس لیے گلاب کے پودے کی شاخ تراشی محبوبِ دلربا کی زلف تراشی کی طرح محبت اور سلیقے سے کرنی چاہیے۔

اقلیم سخن کے بے تاج بادشاہ میر تقی میر نے کیا خوب کہا ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہئے پنکھٹری اک گلاب کی سی ہے بین الاقوامی سطح پر گلاب کی افزائش اور قدردانی کے سلسلہ میں دو مشہور ادارے ہیں پہلا رائل نیشنل روز سوسائٹی لندن اور دوسرا امریکن روز وسائٹی ہے ۔یہ دونوں ادارے ہر سال گلاب کی نمائشیں منعقد کرواتے ہیں اور اول آنے والوں کو انعامات سے نوازتے ہیں۔یہ سلسلہ1928 سے جاری ہے۔ ماڈرن روز نامی ایک کتاب ہر پانچ سال بعد امریکا میں چھپتی ہے جس میں گذشتہ پانچ سال میں پیدا ہونے والے گلاب کی تمام اقسام کا ذکر بالتفصیل درج ہوتا ہے۔ رائل نیشنل سوسائٹی لندن دی روز کے نام سے ایک سہ ماہی جریدہ بھی جاری کرتی ہے۔

وطن عزیز میں جو ادارے گلاب کی ترویج و ترقی میں مصروفِ کار اور کوشاں ہیں ان میں پیکجز لمٹیڈ ،پی آئی آے اور سی ڈی اے اسلام آباد قابلِ ذکر ہیں۔ ہماری زندگی کا کوئی لمحہ خوشی، مسرت اور شادمانی سے آراستہ ہو یا غم و اندوہ سے وابستہ، گلاب ہمارے احساسات و جذبات کے اظہار کے لیے زمانہ قدیم سے ہمارے ساتھ ساتھ چلا آرہا ہے اور شائد تا ابد موجود رہے گا۔ آخر میں ایک شعر پیش خدمت ہے جو گلاب کے بارے میں نفیس جذبات کا لطیف احساس اجاگر کئے ہوئے ہے۔

رخِ محبوب کے مغالطے میں چومتے ہیں گلاب سو سو با

 

Aapka Mukhlis aapka10@gmail.com
15. apr. (for 2 dager siden)

 

2014-04-


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *