ڈاکو اور خیرات

 

ڈاکو اور خیرات

مشتاق احمد خان-

سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے مستحقین کے جمعہ بازار لگانے اور سڑکوں پر دسترخوان بچھانے کی بات اور ہے اور اس نظام کے قیام کا راستہ ہموار کرنے کی بات اور، جس میں زکو دینے والا مستحقین کو ڈھونڈتا پھرے اور جب پورے شہر میں کوئی مالِ زکو کا مستحق نہ ملے تو اپنا مال بیت المال میں جمع کرادے۔ قسم اس ربِ کائنات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، سارے جھوٹے اور ریاکار بے نقاب ہوکر رہیں گے۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم ہوکر رہے گا۔ تب ہی لوگوں کو عدل ملے گا، امن آئے گا، اور مستحقین کی امداد اس طرح کی جائے گی کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ہو۔ سڑکوں پر دسترخوان بچھاکر کر نہیں۔ مستحقین کے جمعہ بازار لگاکر نہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ کیا موضوع لے بیٹھا! آج کا موضوع تو ارسلان افتخار ہے۔ چوہدری افتخار ہیں۔ عدلیہ ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کی چیخ وپکار ہے یا پھر ہائے یہ کیا ہوگیا چیف جسٹس کا بیٹا کیسا نکل گیا کا رونا دھونا یہ سازش ہے کی تھیوری ہے یا ہم کوئی سازش نہیں کررہے کا اعلان۔ لیکن میں اس سارے موضوع سے اتنا بیزار ہوں کہ میرا ارادہ اس پر ایک لفظ بھی لکھنے کا نہیں تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں کے ایک معروف اخبار میں آدھے صفحے کے رنگین اشتہارات دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ بات اگر ان اشتہارات تک رہتی تب بھی خیر تھی لیکن ایکسپریس میں جاوید چوہدری صاحب کا کالم پڑھ کر اس موضوع پر اظہارِ خیال نہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ میں نے ان کو فون کرنے کی کوشش کی۔ چند ماہ قبل تک ان سے میری بات ہوجاتی تھی لیکن گزشتہ دنوں سنت پر ان کا کالم پڑھ کر بھی بات کرنے کی خواہش پوری نہ ہوئی اورآج بھی۔ ان کو تو میں نے ایس ایم ایس کردیا۔ اب اگر ان کا نمبر تبدیل نہیں ہوا ہے تو ٹھیک، ورنہ یہ پیغام بھی ہوا میں اڑ جائے گا۔ خیر یہ الگ معاملہ ہے۔ جاوید چوہدری نے لکھا ہے کہ ملک ریاض سے ان کا پہلا تعارف ان کے ایک کالم کے حوالے سے ہوا جس میں انہوں نے کسی ضرورت مند کی امداد کی طرف توجہ دلائی تھی۔ ملک صاحب نے اس مستحق کو اسلام آباد بلواکر ایک لاکھ روپے دیے اور جاوید چوہدری سے دوستی پکی ہوگئی۔ جاوید چوہدری صاحب نے یہ بھی لکھا ہے اور ٹھیک ہی لکھا ہوگا کہ ملک ریاض کی سب سے بڑی خوبی (یا ہنر) یہ ہے کہ وہ اپنے سامنے بیٹھے شخص کا لالچ بھانپ جاتے ہیں اور یہ سیدھا لالچ گاہ پر حملہ کرتے ہیں اور وہ شخص بے بس ہوجاتا ہے۔ بالکل ٹھیک مجھے حیرت ہے کہ اس تجزیے کے باوجود جاوید چوہدری یہ لکھ رہے ہیں کہ 1996 میں ایک لاکھ روپے اچھی خاصی رقم تھی، اور یہ رقم ایک کالم کی بنیاد پر کسی اجنبی کو دینا حوصلے کی بات تھی۔ میری اس واقعے کے بعد ان سے دوستی ہوگئی بھولے بادشاہو ملک ریاض نے ایک لاکھ روپے کی رقم کسی اجنبی کو نہیں دی تھی۔ اس نے آپ کی لالچ گاہ پر حملہ کیا تھا۔ اجنبی محتاج تھا یا مکار، ملک ریاض کی بلا سے۔ اسے معلوم تھا کہ آپ کو پیسے نہیں دیے جاسکتے۔ لیکن آپ کی سفارش پر پیسے دے کر آپ کو رام کیا جاسکتا ہے۔ سو وہ اس نے کرلیا۔ تبھی تو آپ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ ملک ریاض شراب نہیں پیتا۔ اس نے کبھی بدکاری نہیں کی۔ اس نے سگریٹ تک کو ہاتھ نہیں لگایا۔ یہ جوا نہیں کھیلتا اور اس نے کبھی پرائی عورت کو آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھا۔ یہ کھرب پتی ہے، لیکن بینک سے سود نہیں لیتا۔ یہ اگر اپنے اکائونٹ سیونگ کردے تو اسے دس بارہ کروڑ روپے روزانہ مل سکتے ہیں۔ لیکن یہ تمام اکائونٹس کرنٹ ہیں۔ یہ پاکستان میں سب سے زیادہ خیرات دینے والا شخص بھی ہے۔ اس نے ہزاروں غریب لوگوں کا علاج بھی کرایا۔ یہ ہزاروں طالب علموں کو وظیفے دے رہا ہے۔ اس نے ملک بھر میں درجنوں دسترخوان قائم کررکھے ہیں۔ اس نے ملک میں سب سے زیادہ اجتماعی شادیاں کرائیں، اور ان شادیوں کا سارا جہیز اپنی جیب سے دیا۔ اس میں عاجزی بھی ہے، یہ مہمانوں کو گاڑی تک چھوڑ کر آتا ہے۔ جاوید چوہدری نے ملک ریاض کی یہ خوبی بھی بیان کی ہے کہ یہ صدر جنرل پرویز مشرف کا بھی انتہائی قریبی ساتھی تھا۔ یہ چوہدری برادران کا بھائی بھی تھا۔ یہ شوکت عزیز کے قریب بھی تھا۔ یہ جلا وطن میاں صاحباں کے رابطے میں بھی تھا۔ یہ حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو کاروباری مدد (توجہ فرمائیے) بھی دے رہا تھا۔ یہ آصف علی زرداری، بے نظیر بھٹو اور رحمان ملک کا ساتھی بھی تھا۔ آپ 2008 کے الیکشن کو دیکھ لیجیے، یہ جنرل پرویزمشرف کو بھی سپورٹ کررہا تھا۔ یہ چوہدری پرویزالہی کا بھی ساتھ دے رہا تھا۔ یہ آصف علی زرداری کا انتہائی قریبی ساتھی تھا۔ اس نے میاں برادراں کی الیکشن مہم کو بھی سپورٹ کیا۔ (مزید توجہ فرمائیے) میاں برادران 2008 کے الیکشن میں ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات میں اشتہارات دینا چاہتے تھے، اشہارات کے ریٹس زیادہ تھے، ملک ریاض میڈیا کا بلک بائر ہے۔ حمزہ شہباز اور پرویز رشید ملک ریاض کے پاس گئے اور ملک ریاض نے 70 فیصد رعایت پر پاکستان مسلم لیگ ن کے اشتہارات ریلیز کرادیئے۔ (اب سبحان اللہ کہیے) مجھے جاوید چوہدری کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ سیاست اگر حمام ہے تو ملک ریاض اس حمام کا مالک ہے اور ننانوے فیصد سیاستدان اس کے سامنے ننگے ہیں۔ اقتدار کے کھلاڑیوں کا یہ ننگا پن ملک ریاض کی اصل طاقت ہے۔ لیکن مجھے حیرت ہے کہ جاوید چوہدری صاحب نے ملک ریاض کا یہ جملہ اگر خریدنا جرم ہے تو بکنا اس سے بھی بڑا جرم ہے، اور یہ تمام لوگ مجھ سے بڑے مجرم ہیں بلا تبصرہ کس طرح نقل کردیا! کیا جاوید چوہدری صاحب کو معلوم نہیں ہے کہ جرم کی جو حیثیت اور ہیئت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کردی ہے اس میں کسی کا قول اہمیت رکھتا ہے نہ قیاس۔ ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم اپنے قیاس اور ظن و تخمین کو اہمیت دیتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو نہیں۔ ایک معروف حدیث ہے الراشی و المرتشی کلا ہما فی النار رشوت دینے اور لینے والا دونوں ہی جہنمی ہیں)۔ ٹھیک ہے دونوں جہنمی ہیں، لیکن ترتیب کیا ہے؟ پہلے دینے والا، پھر لینے والا۔ ترغیب دینے والا، تحریص پیدا کرنے والا جس کا کوئی لالچ وابستہ ہے، اپنے لالچ کے عوض رقم خرچ کرنے پر آمادہ نہ ہو تو لینے والا کس سے لے گا؟ سیدھی سی بات ہے جس مال کے خریدار مارکیٹ میں نہ ہوں اس کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ بازارِ حسن، حسن کے خریداروں سے اور بازارِ گناہ، گناہوں کے متوالوں سے آباد ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ بازارِ حسن میں سب ہی اپنی مرضی سے بکنے آتی ہوں۔ کیسے کیسے شریف گھرانوں کی با حیا اور باپردہ عفت مآب خواتین اس بازار کی زینت بنادی جاتی ہیں۔ کبھی خریداروں کی طلب پر، اور کبھی جذبہ انتقام سے مغلوب ہوکر۔ کسی کا اونچا شملہ نیچا کرنے کے لیے، کسی اصول پسند کے اصول کی دھول اڑانے کے لیے۔ بہرحال جاوید صاحب! یاد رکھیے، بڑا مجرم بکنے والا نہیں خریدنے والا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں بھی اس کالم کی وجہ تحریر نہیں ہیں۔ اس کالم کی وجہ تحریر جاوید چوہدری صاحب کے کالم کا آخری حصہ ہے: ملک ریاض قدرت کی چکی میں آچکا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ملک ریاض کو اس انجام سے بچائے، کیونکہ اس کے زوال سے سیاسی کھلاڑیوں کو شاید زیادہ نقصان نہ ہو لیکن وہ ہزاروں لوگ بے سہارا ہوجائیں گے جن کے چولہے ملک ریاض کی ذات سے جل رہے ہیں، جنہیں آج ملک ریاض کی ضرورت ہے۔ میں نے یہ جملے پڑھے تو مجھے اخبار کے نصف صفحے پر چھپنے والا بحریہ ٹائون کا چہار رنگا اشتہار یاد آگیا ایک لاکھ افراد کا دسترخوان۔ پاکستان کے کئی شہروں میں مستحقین کے لیے دو وقت کا کھانا۔ جی ہاں، یہ غریبوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے ہے۔ یہ ملک ریاض کو مستحقین کا ہمدرد ثابت کرنے کے لیے ہے۔ لیکن کیا پاکستان کے عوام واقعی محض خیرات اور صدقات کے مستحق ہیں؟ کیا ملک ریاض جیسے پاور گیم کے کھلاڑی، اور جن کے لیے وہ کھیلتا رہا ہے (تفصیل اوپر آچکی ہے) ان پریشان حال لوگوں کی پریشانی، مفلسی اور بے روزگاری کا اصل سبب نہیں ہیں؟ خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کے گھر ایک خاتون اس ارادے سے آئی کہ اپنی مفلوک الحالی دور کرنے کے لیے خلیفہ کے گھر سے ذاتی طور پر مدد طلب کرے۔ اسے حیرت کا پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی اہلیہ سے کہا کہ خادم کنویں سے پانی نکال رہا ہے، اسے یہاں سے ہٹادیں تاکہ آپ کی بے پردگی نہ ہو۔ اور اسے جواب ملا کہ وہ کوئی اور نہیں خود امیرالمومنین ہیں۔ جب بی بی فاطمہ نے اس خاتون سے آمد کا سبب پوچھا تو اس نے امیرالمومنین کی اہلیہ سے کہا کہ میں تو آپ کے پاس امداد طلب کرنے آئی تھی، لیکن آپ کے گھر کی حالت تو مجھ سے بھی خستہ ہے، اب میں کیا کہوں! اہلیہ محترمہ نے کہا یہ گھر اس لیے ویران ہے کہ تم لوگوں کے گھرآباد رہیں۔ پھر امیرالمومنین کو اس کے حال سے آگاہ کیا گیا اور اس کی مناسب امداد کرادی گئی۔ ہمارے سیاست دان، ہمارے بزنس ٹائی کون، ہمارے بیوروکریٹ اور ہماری جرنیلی اشرافیہ مل بانٹ کر کھانے اور معاملے طے کرانے کے لیے کسی ملک ریاض کی پرورش کرتے ہیں، اس کے دسترخوان پر خیراتیوں کو جمع کرتے، میڈیا میں اشتہارات اور کالم نگاروں سے روابط کے ذریعے اس کی پبلسٹی کرتے اور اس کے ذریعے اپنے گناہوں کی کالک مٹانا چاہتے ہیں۔ لیکن بھول جاتے ہیں کہ ڈاکو، ڈاکو ہی ہوتا ہے خواہ ڈاکے کا سارا مال خیرات ہی کیوں نہ کردے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں