وہ شہر جس کی مٹی میں شفا رکھی گئی ہے

33

 حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے اپنی کتاب جذب القلوب الی دیار محبوب میں لکھا ہے کہ حضوراکرم ﷺ کو مدینہ کی مٹی تک سے محبت تھی۔ آپ ﷺ کے چہرہ انور پر مدینہ منورہ کا غبار پڑ جاتا تو اسے صاف نہیں فرماتے۔ صاحب مظاہر حق نے لکھا ہے کہ حکیم مطلق حق تعالیٰ جل شانہ‘ نے اس شہر پاک کی خاک اور وہاں کے میوہ جات میں تاثیر شفاودیعت فرمائی ہے۔ اکثر احادیث میں منقول ہے کہ مدینہ منورہ کی غبار میں ہر قسم کے مرض کی شفا ہے۔ بعض دوسرے طرق سے منقول ہے کہ مدینہ منورہ کی غبار میں جذام اور برص کی شفا ہے۔

آنحضرتﷺ نے اپنے بعض صحابہ کرامﷺ کو حکم فرمایا تھا کہ وہ بخار کاعلاج مدینہ منورہ کی خاک پاک سے کریں۔ چنانچہ نہ صرف مدینہ میں اس حکم پر عمل ہوتا رہا، بلکہ اس خاک پاک کو بطور دوا لے جانے کے سلسلے میں کتنے ہی آثار منقول ہیں اور بعض علمائے کرامؒ نے تو اس معالجہ کا تجربہ بھی کیا ہے۔ حضرت شیخ مجددالدین فیروز آبادی ؒ کا بیان ہے کہ میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے کہ میرا ایک خدمت گار مسلسل ایک سال تک بخار کے مرض میں مبتلا تھا۔ میں نے مدینہ کی وہ تھوڑی سی خاک پاک پانی میں گھول کر اس خدمت گار کو پلا دی اور وہ اسی دن صحت یاب ہو گیا۔ حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ انہیں ایک مرض لاحق ہوگیا تھاجس کے بارے میں اطبا کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اس کا آخری درجہ موت ہے اور اب صحت دشوار ہے ۔ میں نے اس خاک پاک سے علاج کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں بہت آسانی سے صحت حاصل ہو گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں