نیلی ڈبیہ

شازیہ عندلیب
عشال امن اکثر ہفتہ میں ایک بار جب پرانی یادوں کو بیٹھ کر کریدتی تو ایک نیلی ڈبیہ ضرور کھول کر دیکھتی۔ اس پر ایک سنہری لکیر وں کے اوپر سنہرے رنگ میںانگریزی کا حرف بی B لکھا تھا۔ وہ اس ڈبیہ کو کھول کر دیکھتی پھر بند کر کے دراز میں دوبارہ رکھ دیتی۔ اس ڈبیہ کے ساتھ اسکی یادوں کی زنجیر جڑی تھی۔اسے کچھ برس پرانی رفاقتیں اور باتیں یاد آنے لگتیں۔کچھ باتیں جو بظاہر معمولی ہوتی ہیں ،انسانی ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں جبکہ بڑے بڑے اہم واقعات ذہن سے مہوہو جاتے ہیں۔وہ نہیں جانتی تھی کہ چند برس پہلے صرف ایک برس کی رفاقت اس پر اتنا گہرا اثر چھوڑے گی کہ وہ ہزار چاہنے کے باوجود بھی یہ تحفہ اس عزیز ہستی کو نہیںدے سکے گی۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اکثر لوگ دوسروں کو پہچان نہیں پاتے یا پھر جب پہچان لیتے ہیں تو بہت دیر سے تب وقت جذبہ اورو ہ ہستی کھو چکے ہوتے ہیں۔عشال کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی تھا مگر عشال سے تو وقت بار بار سوال کرتا تھا اور وہ ہمت ہی نہیں کر پاتی تھی کچھ فیصلہ کرنے کا۔ایک نقطہ پر اسکی قوت فیصلہ ساتھ چھوڑ جاتی۔
یہ موسم خزاں کی ایک چمکیلی صبح تھی جب اس کی ملاقات سرخ بالوں والی آنیا سے ہوئی۔اس روز وہ اوسلو سنٹر کے بس اسٹاپ پر ہائی اسکول کی ٹرام کا انتظار کر رہی تھی۔بس اسٹاپ پہ ہر رنگ و نسل کے لوگ تھے۔اچانک عشال کی نظر اپنے قریب بیٹھی لڑکی پر پڑی۔صاف رنگت اور چھریرے بدن کی مالک یہ لڑکی دیکھنے میں خوش اخلاق لگ رہی تھی۔وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرا دی ۔عشال نے اس کی نیلی جینز اور جیکٹ سے اندازہ لگایا کہ وہ ایرانی ہے شائید ۔اس نے نارویجن میںاس کا نام پوچھا ۔یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ بھی ہائی اسکول ہی جا رہی تھی بلکہ اس نے بھی عشال کی طرح میتھس کا مضمون رکھا تھا۔مزیداسے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اسکا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے یہاں آئی ہے ۔ویسے اسکی نانی اماں نے اسے پالا تھا ۔گو اس کے والدین یہں رہتے تھے۔ ڈگری تو اس کے پاس انجینئیرنگ کی تھی مگر اب وہ ایک سال میتھس کر کے اپنا گریڈ بڑہانا چاہتی تھی۔پھر تو باتوں کا جو سلسلہ چلا تو ہائی اسکول کی کلاس میں ہی جا کر تھما۔

دونوں کی کلاس بھی ایک ہی تھی۔عشال نے اسے بڑی خوشی سے بتایا کہ اسکی ایک اور عزیزہ بھی اسکی کلاس میں پڑھتی ہے وہ اس سے مل کر بھی خوش ہو گی۔پہلا دن بہت خوشگوار گزرا۔کمپیوٹر روم میں انکی ملاقات ایک اور پاکستانی رعناء راحیل سے ہو گئی اسکا تعلق بھی عشال کے آبائی شہر سے تھا۔اگر پردیس میں کوئی اپنے شہر کا مل جائی تو اس کے ساتھ عجیب سی انسیت کا احساس ہوتا ہے۔یہی حال عشال کا بھی تھا۔ عشال نے آنیا ء کو اپنی عزیزہ بازغہ سے بھی ملوایا ۔اب ان چاروں کا گروپ بن گیا تھا۔ان میں بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی۔اس طرح میتھس کا خشک مضمون سیکھنے کے لیے اچھا ماحول میسر آ گیا۔یہ مضمون بہت پیچیدہ عملی اور زبانی اساینمنٹس پر مشتمل تھا جو وہ مل کر حل کر لیتیں۔
عشال اور بازغہ اوسلو سے باہر رہتی تھی جبکہ آنیا اور رعناء اوسلو میں ہی رہتیں تھیں ۔ بازغہ اور عشال کے گھر قریب تھے ۔وہ دونوں دور کی رشتہ دار تو تھیں ہی مگر اب ان کے درمیان دوستی کا رشتہ بھی قائم ہو گیا تھا۔ایسی دوستیاںعموماً عمر بھر قائم رہتی ہیں اگر خلوص سچا ہو ۔اگر اچھے اور پر خلوص دوست میسر آ جائیں تو ان سے زندگی کے نشیب وفراز آسانی سے طے ہو جاتے ہیں۔اسی لیے نارویجن معاشرے میں ہر شعبے میں نیٹ ورک اور ٹیم ورک پر زور دیا جاتا ہے ۔انہی عناصر کو اسلامی معاشرت میں اتفاق کا نام دیا گیا ہے۔

فارغ وقت میں چاروں دوستیں خوب انجوائے کرتیں۔آپس میں گپ شپ ہوتی اور سب مل کر ہنستے ہنساتے۔عشال سب سے ذیادہ خوش رہتی اور لطیفے سناتی۔وہ ہمیشہ ہر کسی کی مدد بھی کرنے کے لیے تیار رہتی۔وہ خوش تھی کہ اسے پر خلوص دوستیں میسر آ گئیں ہیں۔اس کے پاس اتنی ذیادہ دوستیں نہیں تھیں۔اسکی وجہ یہ تھی کہ اس کی بڑی بہن کی اس وقت شادی ہئی جب وہ ففتھ کلاس میںتھی۔ اس طرح وہ ایک بہن کے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہو گئی۔وہ شادی کے بعد بیرون ملک شفٹ ہو گئی تو عشال بہت اداس رہتی۔شرع شروع میں تو اسکی بہن دو تین سالوں میں پاکستان آ جاتی تھی مگر پھر یہ وقت بھی لمبا ہو نے لگا۔عشال کے اسکول میں اسکی صرف ایک دوست تھی۔وہ بھی بعدمیں لندن کی گلیوں میں گم ہو گئی اور کبھی اس نے اسے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔وہ اکثر اداس ہی رہتی مگر چھوٹی سے چھوٹی خوشی پا کر خوش بھی ہو جاتی۔وہ برسوں بہن کی دوری سے اداسی کی تصویر بنی رہی۔اسے اسکی تقدیراسے اپنوں کے دیس میں لے تو آئی مگر شو مئی قسمت کہ اب اپنے پرائیوں جیسا سلوک کرنے لگے۔اب اس نئے ماحول میںاس کی کوئی جگہ نہ تھی۔
جہاںصرف دکھاوا اور نمود ہی ہوتا ہے۔اسکے اپنوں کی محبت اور خلوص کی حدت دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھل چکی تھی۔ جب اپنے بھی پرائے ہو جائیں تو پھر غیرں سے کیا گلہ ۔عشال یہ سوچ کر دل کو تسلی دیتی۔ہائی اسکول کے شب و روز یونہی گزر رہے تھے کہ اسے اپنی فیملی کے ساتھ ایک ٹور پہ جانا پڑ گیا۔
وہاں اسے بازغہ کے ایک قریبی عزیز کے فوت ہونے کی خبر ملی۔عشال نے وہیں سے افسوس کیا اور اپس آ کر انکے گھر بھی گئی
ٹورسے واپس آ کر جب عشال اسکول پہنچی تو اسے اپنے گروپ کا رویہ کچھ اکھڑا اکھڑا سا لگا۔وہ پانچ ہفتے کے بعد اسکول آئی تھی اور بجائے اس کے ساتھ خوش اخلاقی سے ملنے کے سب بہت عجیب روکھے پن سے ملے۔انکا یہ رویہ عشال کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔مگر کام اتنا ذیادہ جمع ہو گیا تھا اسکی غیر حاضری کی
وجہ سے کہ کچھ پوچھنے کی فرصت ہی نہی ں ملی۔امتحان سر پہ تھے۔سب پڑھائی میں جت گئے۔فارغ وقت میں گپ شپ تو ہوتی مگر اب پہلے جیسی گرم جوشی نہ تھی۔اب عشال سے کوئی نہ بات کرتا اور ہ اسکی سنتا حالا نکہ وہ گروپ میں سب سے ذیادہ خوش رہنے والی تھی۔اب بازغہ سب سے زیادہ خوش نظر آتی۔اسے عشال نے ہی سب سے متعارف کرایا تھا اور اب وہی اسے اہمیت نہیں دے رہی تھی۔بلکہ اکژبازغہ اس پر طنز بھی کرتی۔وہ اداس ہو جاتی تو رعناء اکثر اسکا حوصلہ بڑہاتی۔حالا نکہ اچھی دوستی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کر دیں یا صاف بات کریں۔مگر عشال ا س بدلے ہوئی رویہ کی وجہ پوچھنے کی ہمت ہی نہ کر سکی۔وہ اکثر بڑے کرب سے سوچتی کہ کاش وہ جان سکتی کہ اس اچانک بے رخی کی کیا وجہ تھی ؟؟کاش وہ اپنی غلطی کا ازالہ کر سکتی مگر۔۔۔۔کاش کوئی اسکی رہنمائی ہی کر دیتا تو وہ اتنی اداس نہ ہوتی کہ بہت عرصے کے بعد اسے خلوص ملا تھا جو اچانک اس سے چھن گیا تھا۔ اس کے دل میں ایک چبھن سی رہ گئی۔اب اسے گروپ میں کوئی خاص مدد بھی نہیںملتی بلکہ اگر اس سے کوئی غلطی ہو جاتی تو سب اسے چبھتی نظروں سے دیکھتے۔رعناء البتہ اس کے ساتھ ہمیشہ اچھی طرح پیش آتی وہ ایک پر کشش شخصیت کی مالک اسمارٹ لڑکی تھی۔ویسے بھی ایک شہر کی ہونے کی وجہ سے عشال کو اس کے ساتھ انس سا ہو چلا تھا۔فائینل امتحا ن قریب تھے کہ بازغہ کو پاکستا ن جانا پڑا۔میتھس کا زبانی امتحان بہت مشکل تھا صرف چالیس فیصد ہی پاس ہوئے۔انکا گروپ بھی رہ گیا۔دوسری مرتبہ پھر سب نے ہمت کر کے تیاری کی مگر فائنل ڈیٹ کا نہیں پتہ تھا۔کہ اچانک عشال کو امتحان سے دو روز پہلے رعناء کا فون آیا کہ دو روز بعد امتحان ہے او ریہ کہ وہ بیماری کی وجہ سے امتحان نہیں دے سکے گی۔عشال نے بھاگم بھاگ امتحان کی تیاری کی اور کامیاب ہو گئی۔اس نے سوچا کہ یہ بے شک میرے رب کی مد د کے بعد یہ کریڈٹ رعناء کو جاتا ہے جس نے مجھے بروقت اطلاع ی ورنہ پتہ نہیں پھر کب موقع ملتا۔عشال نے اسی روزرعناء کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ خریدا۔جسے وہ طویل عرصہ تک استعمال کر سکتی تھی۔ اس کے خلوص کی طرح خالص تحفہ۔مگر پھر رعناء سے رابطہ ہی نہ ہو سکا ۔وہ تو جیسے زمانے کی بھیڑ میں گم ہو چکی تھی یا شائید اس سے ملنا نہیں چاہتی تھی باقی گروپ کی طرح۔اس دوران رعناء بازغہ اور آنیا سے ملتی رہی مگر اسے کبھی یاد نہیں کیا۔بازغہ کے لحجہ میںبہت مٹھاس تھی مگرجانے وہ اندر سے بھی ایسی ہی تھی یہ وہ کبھی نہ جان سکی ۔اس لیے کہ بیشتر لوگ وہی دیکھتے ہیں جودوسرے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔جب کہ لوگوں کی حقیقت چھپی ہوتی ہے ۔پھر ایک روز عشال کو پتہ چلا کہ اس نے اسی کے علاقے میں کوئی آفس لیا ہے۔وہ اس سے ملنے گئی تو وہ بڑے تپاک سے ملی۔اس نے اسے بتایا کہ اس کے پاس اکی ایک امانت ہے جو وہ اسے دینا چاہتی ہے اگر وہ اس کے گھر آسکے تو۔مگر چندروز بعد اس کا آفس ہی ختم ہو گیا۔عشال پھر ملتے ملتے بچھڑ گئی۔
تیسری مرتبہ اسے اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب عشال کو رعناء ایک پارٹی میں ملی اور اس نے بتایا کہ وہ اسکا گروپ جوائن کر رہی ہے۔اس کے گروپ کے ساتھ مل کر پراجیکٹ پر کام کرے گی۔عشال کے ذہن میں ایک خوشگوار جھماکا سا ہوا ۔اسے ایسا لگا جیسے ساری گھتیاں آپ ہی آپ سلجھتی جا رہی ہوں۔قدرت کا مہربان ساتھ بڑی نرمی اور شفقت سے اس کی الجھی سوچوں کو کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہاتھا جو وہ اپنی نادانی کی وجہ سے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے چپکے سے اس کے کانوں میں سرگوشی کی ہو
A friend in need is a friend indeed.
اور بس پھر فیصلہ ہو گیااگر رعناء آگے نہیں بڑہتی تو وہ خود آگے بڑھ جائے کہ اگر وہ دوست نہیں ہے تو عشال بن جائے گی ویسے بھی آج کے دور میں بے غرض اور پر خلوص لوگوں کی کمی ہے۔ اگر کوئی نہیں بنتا تو ہم خود کیوں نہ بن جائیں اس لیے کہ اسی طرح دیے سے دیا جلتا ہے۔اب اس نیلی ڈبیہ کا معمہ حل ہو چکا تھا جس کے اندر ایک ایسا پر خلوص تحفہ تھا جس کی قیمت وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔یہ تحفہ اب اسے ضرور پہچانا تھا جس کی خاطر لیا تھا۔ پھر بھی اس کی قیمت خلوص کے آگے ہیچ تھی کہ خلوص کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔کیا کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ نیلی ڈبیہ میں کیا ہو سکتا ہے؟؟؟
عشال نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ کسی کے خلوص کی کمی کا شکوہ زبان پر نہ لائے گی بلکہ اپنا خلوص ہر کسی پہ بے لوث نچھاور کرے گی۔اپنی زبان کی نوک پر کوئی شکائیت نہیں لائے گی ۔البتہ اپنے قلم کی نوک سے اصلاح کی کوشش ضرور کرے گی۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *