ناروے میں ڈرگ ڈیلروں کی واپسی

 

ناروے میں ڈرگ ڈیلروں کی واپسی
مجھے واپس نہ بھیجو میں پھر لوٹ آئوں گا۔
پچھلے برس نارویجن پولیس نے صرف اوسلو شہر میں پانچ سو اکتیس 531   ایسے پناہ گزینوں کو گرفتار کیا جن کے پاس یہاں رہائش کا اجازت نامہ نہیں تھا،اور نہ ہی ان کے پاس ڈرگ فروخت کرنے کا لائیسنس تھا۔ان میں سے اکثریت ملک بدر کیے گئے افراد کی تھی۔یہ افراد ملک بدر ہونے کے فوراً بعد ہی ناروے واپس لوٹ آئے تھے۔ان تمام غیر ملکیوں کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔انہیں پولیس چھاپے کی صورت میں خصوصی تربیت دی جاتی ہے کہ کیسے منشیات کو غائب کرنا ہے۔اس کام کے لیے انہوں نے پہلے نارویجن قوانین کو سمجھا کہ کیسے بغیر ڈرگس برآمد کیے کسی ملزم کے لیے مشکل کھڑی ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں پولیس کو وہ جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے جہاں ڈرگس غائب کی جاتی ہیں۔
ایک پولیس والے نے بتایا کہ اس نے ایک منشیات کے ملزم کو تین مرتبہ گرفتار کیا۔وہ تین مرتبہ ملک بدر ہوا مگر پھر واپس آگیا۔اس ملزم نے کہا کہ مجھے ملک بدر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں میں پھر لوٹ آئوں گا۔پولیس کے اس قدر ذیادہ گرفتاریوں کے باوجود ملک میں ڈرگ مافیا میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔نارویجن پولیس نے دو برس پہلے یہ وعدہ کیا تھاکہ وہ ملک سے ڈرگ مافیا کو ختم کر دے گی مگر ابھی تک سکی خریدو فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس انسپکٹر بیورن وانویت کا کہنا ہے کہ یورپ کے اوپن ویزے کی وجہ سے ناروے میں داخل ہونا آسان ہو گیا ہے ۔یہ بالکل ایک گھومتے دروازے کی مانند ہے۔
(NRK)

2 تبصرے “ناروے میں ڈرگ ڈیلروں کی واپسی

  1. یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ جرائم پیشہ لوگ افریقہ،ایشیا اور یورپ کےکئی نسبتاً غریب ملکوں سے ناروے اور دوسرے مالی طور پر آسودہ اور نرم و انسان دوست قانون رکھنے والے ملکوں کا رخ جرم کرنے کی نیت سے کرتے ہیں۔یہاں یہ لوگ خود بہت آسودہ ہیں کیونکہ اِن ممالک کے قوانین اُنکے اپنے ملکوں کے قوانین کے مقابلے میں بہت نرم ہوتے ہیں وہ ان سے فاہدہ اُٹھا کر مسلسل جرم کرتے رہتے ہیں۔اس منشیات فروش کا ہر بار جانا اور پھر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ناروے اور اس جیسے ملکوں کو اس سلسلے میں سنجیدگی سے غور کرنا چائیے ۔جہاں تک میرا خیال ہے ایسے مہمان مجرموں کے وارداتوں کے پیش نظر قانون بنا کر دوسرے شریف شہریوں کیلئے مشکلات پیدا نہیں کی جاسکتیں تاہم ان کیلئے ایسے قانون وضع کرنے پڑیں گے جو اس کار و بار اور اس کی طرف رحجان کی حوصلہ شکنی کر سکے۔ حفیظ بلوچ

اپنا تبصرہ بھیجیں