ناروے میںرومی عورتوں کی بڑھتی وارداتیں

 

ناروے میںرومی عورتوں کی بڑھتی وارداتیں
پچھلے دو ہفتوں میں نارویجن عمر رسیدہ عورتوں نے چوری کی وارداتوں کی رپورٹ کی ہے۔نارویجن پولیس کے بیان کے مطابق ناروے میں یہ اپنی نوعیت کا وارداتوں کا نیا سلسلہ ہے۔ناروے میں رومی عورتوں کی ایک بڑی تعدا رہائش اور جاب کے بغیر منتقل ہو گئی ہے۔اس بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر لیبر پارٹی نے اس قانون کی کے دوبارہ نفاذ کی تجویز دی ہے جس کے تحت بھیک مانگنا غیر قانونی ہے۔
کنزرویٹو پارٹی کے میئر    Fabion Stang    نے بھی اپنی رائے دی۔ان کے مطابق پولیس کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ بھکاریوں پر جرمانہ عائد کر سکے اور انہیں یہاں سے نکال سکے۔
پچھلے ہفتے میئر  ستانگ نے  نارویجن اخبار آفتن پوستن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ صورتحال ختم ہو چکی ہے جس کے تحت لوگ بھیک مانگنے کے لیے اوسلو آتے تھے۔اب اگر ہمیں مشکلات میں گھرے لوگوں کی مدد کرنی ہے تو وہیں کرنی ہے جہاں وہ رہتے ہیں۔
اس ہفتے خواتین کو دو طریقوں سے لوٹا گیا۔ایک میں انہیں مصنوعی زیورات خریدنے کی ترغیب دی گئی جبکہ دوسرے طریقے میں انہیں اپنی قیمتی جیولری سے ہاتھ دھونے پڑے۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ان وارداتوں میں روم سے آنے والی عورتیں ملوث ہیں۔یہ بیان پولیس نے  NRK    کو دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں