میں نے قربانی نہیں دی انتخاب کیا ہے

 

میں نے قربانی نہیں دی انتخاب کیا ہے
آوئنگ سان سو کیا نے کہا کہ میں لوگوں کو یاد دلان اچاہتی ہوں کہ میں نے زندگی کا انتخاب کیا  تھا جب سے میں نے جمہوریت کے لیے جدوجہد شروع کی تھی۔یہ بات انہوں این آر کے نارویجن ٹی وی چینل سے بات کے دوران کہی۔انہوں نے بروز ہفتہ ٹائون ہال اسکوائر میں شرکت کی۔ یہان انہوں نے دس ہزار افراد سے خطاب کیا۔
برما کی نوبل پرائز جیتنے والی کاتون کا کہنا ہے کہ ناروے نے ہمارے لیے ایک شمع روشن کیہمارے اندھیرے دور میں۔ہمیں یہاں سے عملی مدد ملی اور میرے ہم وطنوں کو یہاں محفوظ پناہ ملی۔آپ لوگ یہاں کس قدر محفوظ ہیں لیکن کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ غیر محفوظ ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔
آئونگ سان کو انیس سو اکیانوے میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔اس وقت برما میں جمہوری نظام رائج نہیں تھا۔یہاں تک کہ سن دو ہزار میں یہ نطام استوار ہوا۔
آئونگ سان تائون ہال میں نوبل کمیٹی کے سربراہتھور بیورن اور بینتے ایرکسن کے ساتھ پہنچیں۔نارویجن ولیعہد شہزادہ ہاکون وہاں شاہی خاندانکی نمائیندگی کے لیے موجود تھے۔ہفتہ کی صبح برمی خاتون نے اکیس برس کی تاخیر سے ایوارڈ کی قبولیت کے لیے تقریر کی۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیے امن کا نوبل پرائز جیتنے کا مطلب ہے کہ میری جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے جدو جہد نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ سرحدیں بھی پار کر گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں