میٹروبس پروجیکٹ‎

راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے ایک سینیئر افسر کے مطابق صوبائی حکومت نے پشاور موڑ انٹرچینج اور پریڈ ایونیو کی تکمیل   
کو نظر انداز کردیا ہے
رپورٹ  وسیم  ساحل

  پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کشمیر ہائی وے انٹر چینج کی تکمیل کا انتظار کیے بغیر ہی آئندہ ماہ جنوری میں میٹرو بس سروس کے آغاز کا فیصلہ کرلیا ہے۔

جیسا کہ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس پروجیکٹ کا آغاز صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کیا ہے۔

لہذا سیاسی جماعتوں اور شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد حکومت میٹرو بس سروس کو مقررہ وقت کے اندر اندر شروع کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ میٹرو بس پروجیکٹ کے آغاز پر حکومت نے ا س کے بجٹ میں 6 ارب 17 کروڑ روپے سے 44 ارب 21 کروڑ روپے کا اضافہ کیا تھا جسے پشاور موڑ انٹرچینج پرخرچ کیا جائے گا۔

تاہم نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کی جانب سے پشاور موڑ انٹرچینج اور نائنتھ ایونیو پر کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔

راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے ایک سینیئر افسر کے مطابق صوبائی حکومت نے پشاور موڑ انٹرچینج اور پریڈ ایونیو کی تکمیل کو نظر انداز کردیا ہے۔

مذکورہ افسر کے مطابق این ایل سی کی جانب سے پشاور موڑ انٹرچینج پرسست رفتاری سے کام کے باعث یہ پروجیکٹ مزید تاخیر کا شکار ہوگا اور شاید مئی یا جون میں مکمل ہو جبکہ پریڈ ایوینو پر تعمیراتی کام مارچ کے اختتام تک جاری رہے گا۔

راولپنڈی کے کمشنر اور میٹرو بس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر زاہد سعید نے ڈان کو بتایا کہ حکومت نے 23 مارچ 2015 تک پشاور موڑ انٹرچینج جبکہ 25 جنوری 2015 تک میٹرو بس پروجیکٹ کی تکمیل کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ این ایل سی کو تعمیراتی کام ختم کرنے کے لیے مزید دو ماہ دیئے گئے ہیں جبکہ میٹر وبس کے لیے کوریڈور کی تکیمل 25 جنوری تک ہو جائے گی۔

زاہد سعید کا کہنا تھا کہ پشاور موڑ انٹر چینج اس پروجیکٹ کا ایک الگ حصہ ہے جو کشمیر ہائی وے استعمال کرنے والے افراد کو سگنل فری روٹ فراہم کرے گا، جبکہ چار انڈر پاسز کی بدولت راولپنڈی سے پاکستان سیکریٹریٹ کی جانب میٹرو بس کو سگنل فری روٹ ملے گا۔

میٹر وبس پروجیکٹ کی نگرانی اورعمل درآمد کمیٹی کے چیئرمین  نے  بتایا کہ حکومت مقررہ تاریخ پر سروس کے آغاز کے لیے پر عزم ہے تاکہ راولپنڈی، اسلام آباد کے شہریوں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیراعظم نوازشریف

اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف مقررہ ڈیڈ لائن کے اندر ہی میٹرو پروجیکٹ کا آغاز چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں