.. “مولوی کی ضرورت ہے “

شیخ القرآن والتفسیر مولانا محمد حسین شیخوپوری رحمہ اللہ کی حاضر جوابی اور سمجھانے کا انداز بہت منفرد تھا ۔ سادہ اور پر اثر انداز تھا۔

آپ رحمہ اللہ کے پاس قریبی علاقے سے ایک وفد آیا ۔ انہیں اپنی مسجد کے لئے ایک بہترین عالم دین چاہیے تھا ۔ کہنے لگے ”

انتہائی نیک ہو ۔ کردار کا بہت اچھا ہو ۔ قرات اچھی آواز میں کرتا ہو ۔ استاد بھی بہترین ہو ۔ قرآن پاک پوری طرح یاد ہو ۔ درس قرآن بھی دے سکتا ہوں ۔ جمعۃ المبارک کا خطبہ متاثر کن ہو ۔ چھٹیاں نہ کرنے والہ ہوں ۔ آذان و نماز کا بروقت انتظام کرے ۔ مسجد کی صفائی ستھرائی کا نظام احسن طریقے سے چلائے ۔وغیرہ وغیرہ “💢

شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری نے کہا کہ یہ سب تو ٹھیک ہے….
لیکن جناب عالی!
آپ لوگ کیا کریں گے…
ایسے عالم دین متقی شخص کا خیال کیسے رکھیں گے؟ ۔ معاوضہ وغیرہ کتنادیں گے ؟ ۔
اور کس طرح خیال اور اکرام کریں گے….
اب اس کی بار انداز مختلف تھا ۔۔ کہنے لگے کہ معاوضہ کچھ زیادہ تو نہیں دے سکتے کیونکہ چندہ وغیرہ کم اکھٹا ہوتا ہے ۔ جماعت ابھی کمزور ہے ۔کچھ ذیادہ جمع نہیں ھوسکتا..🌹
البتہ امام صاحب کا گزارہ چلے گا…… کھانے پینے کا ابھی سے کچھ خاطر خواہ انتظام نہیں… مگر بندوبست ہوجائے گا…
ان شاء اللہ

مولانا محمد حسین شیخوپوری فرمانے لگے ۔…
جی ہاں! اگر ایسا ہے…

تو میری نظر میں ایک شخصیت ضرور ایسی آئی ہے ۔ کی اسے قرآن مجید پورا یاد ہے ۔ عالم بھی پورا ہی ہے ۔ سیکھانا بھی جانتا ہے ۔یعنی استاد بھی کامل ہے… سلیقہ مند اور بہترین حکمت عملی والہ بھی ہے۔ چھٹیاں تو بلکل نہیں کرے گا ۔ ہر وقت ڈیوٹی پر حاضری دے گا ۔..غمی اور خوشی کی بھی کوئی قید نہیں ہے 💥

اور سب سے بڑھ کر اس کے کھانے پینے کی بھی فکر نہیں کرنی پڑے گی ۔..

اور وہ آج کل ویسے بھی فارغ ہی ہے ۔ اسے بھی کوئی کام مل جائے گا ۔🌲

وفد کے افراد نے فوری پوچھا کہ جی بہتر…. آپ جلدی بتائیں… ایسے ہی شخص کی فوری ضرورت ہے ہمیں….

مولانا محمد حسین شیخوپوری فرمانے لگے… جی سنئیے
اسکا نام ہے…

” حضرت جبرائیل علیہ السلام “💢

آپ کی شرائط پر صرف وہ ہی پورا اتر سکتے ہیں ۔ جو ہر لحاظ سے بہترین ہیں ۔ کردار ۔ نیکی ۔ پرہیز گاری ۔ معلمی ۔ خطابت ۔ قرات ۔ حفظ ۔ درس و تدریس ۔ امانت داری… پابندی وغیرہ

جتنی خوبیاں آپ کو درکار ہیں
وہ اس میں اچھی طرح موجود ہے….
جی ہاں!
جبکہ آپ لوگ… ایک عالم کی…. بنیادی ضروریات تک کا خیال نہیں رکھ سکتے… تو اس معیار پر تو صرف کوئی فرشتہ ہی پورا اتر سکتا ہے جو نہ کھاتا پیتا ہو۔ نہ اس کا خاندان ہو ۔ نہ بچوں کے کھانے و لباس کی فکر ہو ۔ نہ اس کے والدین بہن بھائی ہوں ۔ نہ بیمار ہوتا ہوں ۔ نہ چھٹی کریں ۔ بس کام اور خدمت کے لیے ہر وقت طیار ہی رہتا ہوں 💢

حضرت شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری رح…. کی اس بات میں نصیحت بھی ہے اور ایک چھپا درد بھی ہے… اگر کوئی محسوس کرے تو۔
آج کل افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ…..
پورے پاکستان ہندوستان وغیرہ میں علماء اور امام صاحبان کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھا جاتا…. الا ما شاء اللہ….انکی تنخواہ اور مراعات بھی کچھ نہیں….

خوب سمجھ لیجیے…

یہ لوگ شاہی لوگ ہیں..خصوصی لوگ Vvipلوگ …
(اللہ کے عظیم الشان دربار والے)
انکی عزت اور اکرام اور خیال…. حضور سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خیال اور اکرام ہے 💢
اور ان کے بےقدری… اور بے خیالی… آپ علیہ السلام کی بےقدری ہے 💥

باقی آپ لوگ خود سمجھ سکتے ہیں…..
فقط

اپنا تبصرہ بھیجیں