مصحف

قسط نمبر 39 ۔

تحریر عمیر احمد 

 انتخاب راحیلہ ساجد

“مجهے مسز ابراہیم کی ڈیتھ کا بہت دیر سے پتا چلا، میں کراچی گیا ہوا تها، آج ہی آیا ہوں، فرشتے نے جیسے ہی بتایا- میں آگیا، آئی ایم ویری سوری محمل-” واپس صوفے پہ بیٹهتے ہوئے وہ بہت تاسف سے کہہ رہا تها-

محمل نے جواب دینے سے پہلے ایک نظر آرزو کو دیکها-
” آرزو باجی! آپ جا سکتی ہیں، اب میں آ گئی ہوں-“
“ہاں شیور-” آرزو اٹھ کهڑی ہوئی- ” مگر جاتے ہوئے ان کو شادی کا کارڈ دے دینا-” استہزائیہ مسکرا کر وہ گویا جتا گئی تهی- محمل کے سینے میں ہوک سی اٹهی-
“کس کی شادی؟” وہ چونکا تها-
” محمل کی شادی وسیم کے ساتھ، آپ کو نہيں پتا اےایس پی صاحب؟ اسی فرائیڈے ان کا نکاح ہے، آپ ضرور آئے گا، میں آپ کا کارڈ نکلواتی ہوں، ٹهہرئے-” وہ خوش دلی سے کہتی باہر نکل گئی-
کتنے ہی لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے-
” یہ کیا کہہ رہی تهی؟” وہ بولا تو اس کی آواز میں حیرت تهی، بےپناه حیرت-
” ٹهیک کہہ رہی تهی-” وہ سر جهکائے ناخن کهرچتی رہی-
” مگر کیوں محمل؟”
” آپ غالبا” تعزیت کے لیئے آئے تهے-”
” پہلے میری بات کا جواب دو، تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟”
” میں آپ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں-” اس نے تلملا کر سر اٹهایا- ” یہ میری ماں کی آخری خواہش تهی، مرتے وقت انہوں نے یہ ہی وصیت کی تهی-”
” تمہیں کیسے پتا؟ تم تو ان کی ڈیتھ کے وقت مدرسے میں تهیں-”
” ہاں، مگر انہوں نے آغاجان سے کہا تها، سب لوگ وہاں موجود تهے، سب گواہ ہیں-”
“تم !” وہ مٹهیاں بهنچ کر رہ گیا- اس کا بس نہیں چل رہا تها وہ کیا کر ڈالے- “تم انتہائی بیوقوف اور احمق ہو-”
” میں اپنی ماں کی بات کا مان رکهنا چاہتی ہوں اس میں کیا حماقت ہے؟ ” وہ چڑ گئی-
” نادان لڑکی! تمہیں یہ لوگ بیوقوف بنا رہے ہیں، استحصال کر رہے ہیں-”
” کرنے دیں، آپ کو کیا ہے؟ وہ پیر پٹخ کر کهڑی ہو گئی- آپ میرے کون ہیں جو مجھ سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں-”
” میں جو بهی ہوں مگر تمہارا دشمن نہیں ہوں-” وہ بهی ساتھ ہی کهڑا ہوا، اس کی آواز میں بے بسی تهی- کبهی یہی بات اس نے بہت اکهڑ لہجے میں کہی تهی- جب وہ مدرسے کے باہر اسے لینے آیا تها- اس رات کی صبح جو اس کی زندگی اجڑ گئی تهی-
اگر آپ کے دل میں میری ماں کا ذرا سا بهی احترام ہے تو مجهے وہ کرنے دیں جو میری ماں چاہتی تهی- ماں، باپ کبهی اولاد کا برا نہیں چاہتے- اسی میں ہی کوئی بہتری ہو گی آپ جا سکتے ہیں- وہ ایک طرف ہٹ کر کهڑی ہوگئئ- اسی پل پردے ہٹا کر آرزو نمودار ہوئی-
” آپ کا کارڈ، آئیے گا ضرور-” اس نے مسکرا کر کارڈ ہمایوں کی طرف بڑهایا- ہمایوں نے ایک قہر آلود نظر کارڈ پہ ڈالی، اور ایک محمل پہ، پهر لمبے ڈگ بهرتا باہر نکل گیا-
” نو پرابلم-” آرزو شانے اچکا کر کارڈ واپس لیے مڑ گئی-
” اماں !” وہ کراہ کر صوفے پہ گر گئی- یہ اماں اسے کس منجهدار میں چهوڑ گئی تهیں-؟ کیوں کیا انہوں نے یہ فیصلہ؟ کیوں اماں ؟ وہ دونوں ہاتهوں میں سر گرائے سوچتی رہ گیی-
سارے گهر میں دبا دبا سا شادی کا شور اٹھ چکا تها، گو کہ ابهی صرف نکاح تها، مگر مہتاب تائی بهرپور تیاریاں کر رہی تهیں- شاید اس کی ایک وجہ یہ بهی تهی کہ فواد جلد ہی واہس گهر آ رہا تها- اس خبر سے محمل پہ تو کوئی اثر نہ ہوا ، البتہ تائی اماں اپنی اندرونی خوشی چهپائے سب کچھ محمل پہ ڈال گئیں-
” سوچ رہے ہیں تهوڑا سا گہما گہمی والا.فنکشن رکھ لیں، تا کہ محمل کا دل بہل جائے، ورنہ سچ پوچهو تو مسرت کے جانے کے بعد سے وہ بہت بجھ سی گئی ہے- اب ہمارا دل تو نہیں چاہتا کہ شور ہنگامہ ہو، مگر بس محمل اچها محسوس کر لے، اس لیے-”
وہ کسی نہ کسی کو ہر وقت فون پہ وضاحتیں دے رہی ہوتی تهیں-
محمل چپ چاپ کچن میں کام نمٹاتی رہتی ، جیسے وہ خاموش ماتم کر رہی تهی، نمازیں ، تسبیحات ، دعائیں، وہ سب کر رہی تهی، ہاں مدرسے ابهی نہیں جا رہی تهی- مدرسے جا کر سکون ملتا تها اور فی الحال وہ سکون نہیں چاہتی تهی- وہ صرف اور صرف ماتم چاہتی تهی- مسرت کا، یا شاید اپنا، وہ نہیں جانتی تهی-
فون کی گهنٹی بجی تو وہ رومال سے میز صاف کر رہی تهی، آہستہ سے رومال چهوڑ کر اٹهی-
اسٹینڈ پہ رکها فون مسلسل بجے جا رہا تها- وہ چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتی قریب آئی اور ریسیور اٹهایا-
” السلام علیکم!”
” وعلیکم السلام محمل؟” نسوانی آواز ریسیور میں گونجی، وہ لمحے بهر میں ہی پہچان گئی
– ” فرشتے کیسی ہیں آپ؟”
” میں ٹهیک ہوں، ہمایوں نے مجهے بتایا ہے کہ تم…..” فرشتے قدرے پریشانی سے کہہ رہی تهی کہ اس نے تیزی سے بات کاٹ دی-
” ہمایوں ہر بات آپکو جا کر کیوں بتاتے ہیں؟” ان سے کہیں ، ایسا مت کیا کریں-
” مگر محمل……. تم اس طرح کیسے؟”
” آپ لوگ مجهے احمق کیوں سمجهتے ہیں؟ کیوں میرے لیے پریشان ہو رہے ہیں؟ میری ماں میرے لیے کچھ غلط نہیں سوچ سکتی، پلیز مجهے میری زندگی کے فیصلے خود کرنے دیں-”
” محمل! اب میں تمہیں کیا کہوں! اچها ٹهیک ہے جو کرنا ، سوچ سمجھ کر کرنا، اوکے چلو، اب ہمایوں سے بات کرو-”
” ارے نہیں-” وہ روکتی رہ گئی، مگر فرشتے نے فون اسے پکڑ ادیا تها-
” اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے اور تمہارے فیری ٹیل سسرال والے اجازت دیں تو کیا میں اور فرشتے تمہاری شادی کے فنکشن میں آ سکتے ہیں؟”
” اونہوں ہمایوں!” پیچهے سے فرشتے کی تنبیہی آواز ابهری-
” کیوں محمل! میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں-” وہ طنزیہ بولا تها-
” ہاں شیور کیوں نہیں- جمعہ کو رات آٹھ بجے فنکشن ہے- ضرور آئیے گا- اللہ حافظ-”
اس نے کهٹ سے فون بند کر دیا- غصہ اتنا ابل رہا تها کہ فرشتے سے بهی بات کرنے کو جی نہین چاہ رہا تها-
فون کی گهنٹی پهر سے بجنے لگی، مگر وہ سر جهٹک کر میز کی طرف بڑه گئی جہاں جهاڑ پونچھ کا رومال اس کا انتظار کر رہا تها-
بیوٹیشن نے کامدار دوپٹہ اس کے سر پہ رکها، اور پهر اسے ایک ہاتھ سے پکڑے، وہ جهک کر ڈریسنگ ٹیبل سے پنیں اٹها رہی تهی- محمل بت بنی اسٹول پہ بیٹهی سامنے آئینے میں خود کو دیکھ رہی تهی- بیوٹیشن اس کے پیچهے کهڑی اسکا دوپٹہ سیٹ کر رہی تهی-
وہ کام دار شلوار قمیص گہرے سرخ رنگ کی تهی- جس پر سلور سلمی ستارے کا کام تها- دوپٹے کے بارڈر پر بهی چوڑی پٹی کی صورت میں سلور کام کیا گیا تها- ساتھ میں نازک سا وائٹ گولڈ اور روبی کا نیکلس تها اور ایک خوبصورت قیمتی سا ٹیکہ جس میں بڑا سا سرخ روبی جڑا تها- اس کے ماتهے پہ سجا تها- جانے تائی نے کب یہ سب بنوایا تها، وہ بهی چپ چاپ ہر چیز پہنتی گئی-
گهر میں ہونے والے ہنگاموں سے کہیں نہیں لگتا تها کہ مسرت کو مرے ابهی بیس دن بهی نہیں ہوئے- مگر وہ شکوہ کس سے کرتی؟ مسرت کی زندگی میں بهی ان کی اہمیت کہاں تهی کہ مرنے کے بعد کوئی انہیں یاد رکهتا؟ اور سنا تها، آج تو فواد بهی آ گیا تها، تو پهر کاہے کا ماتم؟
بیوٹینشن اب کس کے پنیں لگا رہی تهی- وہ اپنے کمرے کی بجائے تائی کے کمرے میں تهی، تاکہ وہ ٹهیک سے تیار ہو جائے- اسے تیار کرنے کے لیے تائی نے ماہر بیوٹیشن لڑکی بلوائی تهی جو کافی دیر سے اس پہ لگی ہوئی تهی-
دفعتا” باہر لاؤنج سے چند آوازیں گونجیں- وہ ذرا سی چونکی، کیا فواد آ گیا تها؟ مگر نہیں، یہ آواز تو…..
” سنو یہ دروازہ تهوڑا سا کهول دو-” بےچینی سے اس نے بیوٹیشن سے کہا، تو وہ سر ہلاتی آگے بڑهی اور لاؤنج میں کهلنے والا دروازہ آدها کهول دیا-
سامنے لاؤنج کا آدهامنظر نظر آرہا تها اور اس کا شک درست تها-
” تم… تم ادهر کیوں آئی ہو؟” تائی مہتاب کی تلملاتی بلند آواز اندر تک سنائی دے رہی تهی-
” فکر مت کریں، میں رنگ میں بهنگ ڈالنے نہیں آئی، محمل کی شادی ہے، میرا آنا فرض بنتا تها-” وہ اطمینان سے کہتی سامنے صوفے پہ بیٹھ گئی- اده کهلے دروازے سے وہ محمل کو صاف نظر آ رہی تهی-
سیاہ عبایا کے اوپر سیاہ حجاب کے تنگ ہالے کو چہرے کے گرد لپیٹے وہ اب بے نیازی سے ٹانگ پہ ٹانگ رکهے بیٹهی اطراف کا جائزہ لے رہی تهی-
محمل نے لمحے بهر کو محسوس کرنا چاہا کہ اسے فرشتے کے آنے سے خوشی ہوئی ہے، مگر اسے اپنے احساسات بہت بے جامد لگے تهے، برف کی طرح ٹهنڈے-
اندر باہر خاموشی ہی خاموشی تهی- فرشتے یا فواد، اب اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تها-
” مگر ہم تمہارا اس گهر سے کوئی رشتہ تسلیم نہیں کرتے-”
” نہ کریں، مجهے پرواہ نہیں یے-” وہ اب ہاتھ میں پکڑے موبائل کے بٹن دباتی اس کی طرف یوں متوجہ تهی جیسے سامنے غصے سے بل کهاتی تائی مہتاب کی کوئی اہمیت نہ ہو- فرشتے کے پاس موبائل نہیں تها- یہ شاید ہمایوں کا موبائل وہ لے کر آئی تهی-
” دیکهو لڑکی! تمہارا محمل سے کوئی تعلق نہیں ہے، بہتر ہے کہ تم چلی جاؤ اس سے پہلے کہ میں گارڈ بلواؤں-”
” پهر آپ گارڈ کو بلوا لیں، کیونکہ میں تو ایسے جانے والی نہیں ہوں سوری-؟
” تم کیسے نہیں جاؤ گی، تمہارا تعلق…..”
” مسز کریم! مین موبائل پہ بزی ہوں، آپ دیکھ رہی ہیں، مجهے ڈسٹرب مت کریں، اور پلیز محمل کو بلا دیں-”
وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکهے بیٹهی موبائل پہ چہرہ جهکائے ہوئے مصروف تهی- محمل کے لبوں کو ہلکی سی مسکراہٹ چهو گئی- فرشتے بدتمیز یا بد لحاظ نہ تهی، بلکہ وہ اپنے ازلی ٹهنڈے اور باوقار انداز میں تائی کو بہت آرام سے جواب دے رہی تهی- البتہ محمل بدتمیزی کر جاتی تهی- اسے لگتا تها وہ کبهی بهی فرشتے کی طرح پراعتماد و باوقار نہیں بن سکے گی-

جاری ہے…….

اپنا تبصرہ لکھیں