مسلمان نہیں، ہندو متحد ہوئے

—مشرف عالم ذوقی

hindu muslim

غصہ اور اشتعال پر کس حد تک قابو پایا جاسکتا ہے، جب سامنے والا شخص مسلسل ایسی باتیں کررہاہو جو آپ کی روح کو زخمی اورآپ کے ضمیر کو چوٹ پہنچارہی ہو۔ ہندوستانی سیاست کے لیے یہ حادثے اب کوئی نئے نہیں رہے۔ رام مندر معاملے کو لے کر اڈوانی جی کی رتھ یاترائوں کے وقت بھی یہی ماحول تھاجب مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا اور انہیں پاکستانی ٹھہرای

ا جارہا تھا۔ بھاجپا کی حکومت کا کوئی دن ایسا نہ تھا جب مسلمانوں کی مخالفت میں الفاظ کے تیر نہ چھوڑے جارہے ہوں اورآج ایک بار پھر یہ عالم ہے کہ مسلمان زبان بندی کا شکار اور مسلسل تیروں کی بارش… ہندوستان کے ٣٠ کروڑ مسلمان تماشہ بنے ہوئے ظلم سہنے پر مجبور، کیا کبھی کسی نے اس انسانی نفسیات پر غور کیا ہے کہ مسلسل اشتعال دلانے کے نتائج بھیانک بھی ہوسکتے ہیں۔ کوئی اس منچ، انہی میناروں پر کھڑا ہو کر چیخ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ پروین توگڑیا کے چیتھڑے بکھیردو۔ یا گری راج سنگھ کی خون اگلتی زبان کھینچ لو۔ یا مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا فرمان جاری کرنے والی وسندھرا راجے کا قتل کردو۔ میں ان جملہ معترضہ کے لیے معافی چاہوں گا۔ ایسا کوئی نہیں بول سکتا۔ کوئی مسلمان نہیں۔ کیونکہ وہ واقف ہے کہ ایسی بات منہ سے نکلی تو آر ایس ایس کی منہ مانگی مراد پوری ہوجائے گی۔ پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کے منہ کھل جائیں گے۔ آزادی کے ٦٧ برسوں کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان سہما ہوا زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے— انتخابات کا جائزہ لینے والے یہ بیان دیتے ہیں کہ مسلمان کنگ میکر ہے۔ لیکن یہ ہمارا کنگ میکر خوف کی سہمی ہوئی دنیا میں بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی جینے پر مجبور کردیاگیا ہے۔
ہندی کے مشہور شاعر کنورنارائن کی ایک کویتا یاد آتی ہے۔
‘میں عیسائی مذہب سے نفرت کرنے چلا تو شیکسپئر سامنے آجاتے ہیں۔ میں مسلمانوں سے نفرت کرنے چلا تو غالب سامنے آجاتے ہیں—’ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے ٣٠ کروڑ مسلمان ہندوئوں سے نفرت نہیں کرسکتے۔ کیونکہ کبیر سے لے کر کملیشور اور راجندر یادو تک کی یاد آجاتی ہے۔ مگر تازہ انتخابات نے گاندھی جی کی ان دو آنکھوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا ہے۔ غور کریں تو مقابلہ کانگریس اور بھاجپا کے درمیان نہیں ہے بلکہ آرایس ایس نے اس سیدھے مقابلے کو ہندو بنام مسلمان بنادیا ہے۔ اور اسی کا ایک دوسرا رخ ہے جہاں آج آرایس ایس مکمل طورپر کامیاب رہی ہے۔ انتخاب ٢٠١٤ کو لے کر اخباروں اور میڈیا کے ذریعہ بار بار مسلمانوں کے اتحاد کا ڈھول پیٹا گیا۔ دراصل یہ سازش کا وہ حصہ تھا جسے مسلمان نہیں سمجھ سکے۔ آر ایس ایس کی منشا یہ تھی کہ ہندوئوں کو متحد کیا جاسکے۔ اور آخر وہی ہوا جو آر ایس ایس کے لوگ چاہتے تھے۔ مسلمان تو متحد نہیں ہوسکے لیکن ہندوستان کے تمام ہندو مودی کے نام پر متحد ہوگئے۔
سیاست ایک بار پھر سے وہاں پہنچ گئی ہے جس کا اندازہ نہ تھا۔ آر ایس ایس نے اپنے خاص ایجنٹ مودی سے کہہ رکھا ہے کہ جیسے بھی ہو، مسلمانوں پر قبضہ کرو— جھوٹ بول کر۔ سبز باغ دکھا کر۔ جھوٹے وعدے کرکے۔ ٹوپی پہننے کی ضرورت ہو تو ٹوپی پہن لو مگر اس بار کا چنائو جیت کر دکھائو۔ مودی یہی کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے آگے جھک رہے ہیں۔ وعدہ کررہے ہیں۔ مگر ان کے پارٹنر بار بار بھاجپا اور آر ایس ایس کے خیالوں کو اٹھا کر مودی کے کیے کرائے پر پانی پھیر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو پاکستان بھیجو۔ مسلمانوں کو زمین خریدنے مت دو۔ مسلمانوں کے ٹکڑے کردو۔ مودی جی کی ترقی کا فارمولہ تو محض دکھاوا ہے۔ اب بچے ہیں مسلمان، جو ان کے غنڈوں کا قہر جھیل رہے ہیں۔
سیاست ہمیں وہاں لے آئی ہے جہاں چاروں طرف سے مسلمانوںپر حملے ہورہے ہیں۔ مسلمان نہ ہوا، دھوبی کا گدھا یا سڑک کا کتا ہوگیا۔ پروین توگڑیا اپنی شرانگیز تقریروں سے پہلے بھی مسلمانوں کے خلاف آگ اگل چکے ہیں۔ گری راج سنکھ ہوں، باپورائو کدم ہوں، وجے راج سندھیا ہوں، سیدھے چھری لے کر مسلمانوں پر حملہ بول دیتے ہیں۔ جیسے ان کا بس چلے تو گاجر مولیوں کی طرح مسلمانوں کو کاٹتے چلے جائیں۔ اور بے شرمی کی بات یہ کہ الیکشن کمیشن تک کو، مسلمانوں کے کاٹے مارے جانے کی باتیں ناگوار نہیں گزرتیں۔ وہ تقریروں کے آڈیو ویڈیو ٹیپ تو مانگ لیتے ہیں لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ انسان کی نظر سے دیکھتے ہیں یا بھاجپائی نظروں سے۔ اس لیے کہ ایک مسلمان وزیر پر پابندی لگانا اور امت شاہ جیسے فرقہ پرست کو آزاد کردینا کہیں نہ کہیں اس سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ الیکن کمیشن بھی فرقہ پرستی کے رنگوں میں ڈوبا ہوا تو نہیں؟
المیہ یہ ہے کہ تیس کروڑ مسلمانوں کو زبان بندی کی نصیحت کی جاتی ہے اور ہر ایرا غیرا لیڈر کتوں کی طرح مسلمانوں کے خلاف آگ اگل کر چلاجاتا ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آر ایس ایس نے جان بوجھ کر اس بار کے الیکشن کو ہندو بنام مسلمان بنا دیا ہے۔ اور اس آگ کے شعلے کو ہوا اس طرح دی گئی کہ مودی کے خلاف مسلمان متحد ہوسکتے ہیں تو مودی کے حق میں ہندو متحد کیوں نہیں ہوسکتے؟
آر ایس ایس نے پہلے ہی اپنے لوگوں اور بھاجپائیوں کو اشارہ کردیا کہ اگر بھاجپا ٢٧٢ کے جادوئی اعدادوشمار کو چھولیتی ہے تو ہر حال میں مودی ہی وزیراعظم بنیں گے۔ آنے والے وقت میں راجناتھ کوئی گیم نہ کرلیں اس لیے بھاجپا کی سرکار کی جگہ مودی کی سرکار کا نعرہ اچھالا گیا۔ آر ایس ایس کو اڈوانی، جوشی، سشما سوراج، یشونت سنہا جیسے لیڈر اس لیے نا پسند ہیں کہ وقت آنے پر یہ لوگ سیکولرزم کی ہوا میں بھی بہہ جاتے ہیں جبکہ مودی کی مسلم ہمدردی محض سیاسی گیم سے زیادہ نہیں، اس سے عام شہری سے لے کر سیاست کا ہر کھلاڑی بھی واقف ہے۔ آر ایس ایس جانتی ہے کہ اس کے مسلم کش منصوبے کو اگر واقعی کوئی عملی جامہ پہنا سکتا ہے تو وہ مودی ہے۔ مودی کی سیاسی سمجھ بوجھ آہستہ آہستہ مسلمانوں کو حاشیے پر ڈالتی چلی جائے گی۔ اس طرح کہ قتل بھی ہوگا، خون بھی نہیں بہے گا اور پتہ بھی نہیں چلے گا— مودی کا انتظامیہ مسلمانوں کو معاشی اقتصادی سطح پر اتنا کمزور کردے گا کہ مسلمان کہیں زمین خریدنے کے لائق بھی نہیں رہ جائیں گے۔ لیکن آر ایس ایس کے اشاروں پر یہ کام مودی اس طرح کریںگے کہ ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی ان کی حمایت کریں اور اس لیے مودی کو اڈوانی جیسے پرانے لوگوں کی جگہ بالکل نئے، اپنے اور وفادار آر ایس ایس چہرے کی ضرورت ہے۔ یعنی مودی کی رہنمائی میں بھاجپا کا وجود ختم ہوچکا ہے۔ یہ نئی بھاجپا مودی کی بھاجپا ہوگی اور اس میں کام کرنے والے مودی کے سپاہی ہوں گے جو مودی کے اشاروں پر امت شاہ کی طرح جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ اور اس لیے گجرات کی نسل کشی کے طرز پر امت شاہ کو وزیر داخلہ بنانے کا خواب بھی دیکھا جارہا ہے۔
مسلمانوں کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ایک بے حد سنگین دور سے گزررہے ہیں۔ اور اگر اس بار ان کا ووٹ غلط طور پر تقسیم ہوگیا تو مودی اور ان کے جانشین ہوں گے۔ یہی آر ایس ایس کی دشمن سیاست ہوگی اور وہ حاشیے پر پھینک دیے جائیں گے— اور اس کے لیے آر ایس ایس دنگا فساد کرانے میں ہمیشہ سے ماہر مانی جاتی ہے۔ اور مودی کو آر ایس ایس کے اشارے پر ہی کام کرنا ہے۔
انتخاب خوفناک رخ اختیار کرچکا ہے۔ نشانے پر مسلمان ہیں۔مودی ترقی کے فارمولے کی بات کررہے ہیں اور ان کے چیلے مسلمانوں کو دفن کرنے، پاکستان بھیجنے کی بات کررہے ہیں۔ کیا مسلمان اس تلخ حقیقت کو اب بھی نہیں سمجھیں گے۔
پانچ سال پہلے تک مدرسوں کو آتنک واد کی فیکٹری کہنے والی بھاجپا نے اس بار اپنے منشور میں مدرسوں کو بھی جگہ دی ہے۔ وقف بورڈ اور اردو کا تحفظ بھی منشور کا حصہ ہے اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا واقعی بھاجپا مسلمانوں اور اردو کے لیے اتنی ہمدرد ہوگئی ہے؟ اس قصہ کو بھول جائیے کہ بھاجپا کبھی آپ کی بھی ہوسکتی ہے— گجرات میں مسلمانوں کے لہو کا ذائقہ تلاش کرنے والے آنے والے دنوں میں ہمدردی اور مسیحائی کا دم بھریں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مودی بھی علامت ہوں گے اور راج ناتھ بھی۔ اصل حکومت تو آر ایس ایس کی ہوگی اورآر ایس ایس کے خوفناک مقاصد کو اگر مسلمان آزادی کے ٦٧ برسوں میں نہیں سمجھ سکے تو پھر یہ کہنا فضول ہے کہ بہت دیر ہوجائے گی۔ کیونکہ دیر ہوچکی ہے اور مودی کے بھروسہ آرایس ایس ہندوستان کو ہندوراشٹریہ بنانے کے خواب کو اب حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
یہ تحریر لکھی جارہی تھی کہ بھارتیہ شیعہ سنگھ کی ایک اپیل نظر سے گزری کہ ہندوستان کے تمام شیعہ متحد ہوکر بھاجپا کو ووٹ دیں۔ میں سکتے کی کیفیت میں ہوں: مسلمانوں کی تقسیم اس طرح بھی ہوسکتی ہے، میں نے خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا تھا۔ زندگی کے اتنے ماہ و سال گزرنے کے بعد ادب کی دنیا میں سانس لیتے ہوئے کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکا کہ شیعہ اور سنی الگ الگ ہوتے ہیں۔ کیا جب فرقہ پرست ہاتھوں میں تلواریں لے کر مسلمانوں کے قتل کے لیے آئیں گے تو کیا وہ یہ دریافت کریں گے کہ کون شیعہ ہے اور کون سنی۔ کیا گجرات میں ہلاک ہونے والے صرف سنی تھے؟
احمد فراز نے کہاتھا۔
میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا میں کیسے صلح کرلوں قتل کرنے والوں سے ، قتل کرنے والوں سے کیسے ہاتھ ملایا جا سکتا ہے۔ ان کی حمایت کیسے کی جاسکتی ہے۔ آج جہاں امریکہ اور برطانیہ کا انٹلکچول طبقہ مودی کی مخالفت کررہا ہے، وہاں بھارتیہ شیعہ سنگھ کا یہ بیان فرقہ پرستوں کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔ میں یہ فرض کر لیتا ہوں کہ خود کو مسلمان کہنے والا کوئی بھی شخص کبھی بھی بھاجپا یا اس طرح کی فرقہ پرست پارٹی کا ساتھ نہیں دے سکتا۔

zauqui2005@gmail.com

اپنا تبصرہ لکھیں