مجھے ٹیوٹر اسپیسز سے بچاؤ

مجھے ٹیوٹر اسپیسز سے بچاؤ

قلمکار: شوکت جہانگیر

‏صاحب یہ ایک سادہ سے گھریلو قسم کے مرد کا شکوہ ہے جو خوش قسمتی سے ایک شوہر نامدار بھی ہے-
‏ابھی کل کی بات ہے، زندگی بہت خوبصورت انداز میں بسر ہو رہی تھی، نان نفقہ کی ذمہ داری ہماری اور امور خانہ داری کی ذمہ داری نصف بہتر کی ۔ صبح جاب پر جانے سے پہلے گھر کا ناشتہ اور دعا کے سائے میں رخصت ہوتے تھے، دن بہت مزے میں گزرتا تھا، گھر واپسی پر شگفتہ گلاب سا چہرہ استقبال کرتا تھا۔
‏بس کیا کہیے صاحب خوب گزر رہی تھی،مگر ایک بہت بڑا “مگر” ہماری زندگی میں آ گیا، اس مگر نے ہماری زندگی کو اسی طرح الٹ پلٹ کر دیا ہے، جس طرح مگرمچھ اپنے شکار کو تالاب میں الٹ پلٹ کر خوب غوطے دیتا ہے۔
‏یقین مانیے اس مگر مچھ نے ہمیں اتنے غوطے دیے ہیں کہ ساری دنیا اب اپ سائیڈ ڈاؤن نظر آتی ہے، اس مگر مچھ کو ہماری دنیا میں ٹیوٹر کی اسپیسز کہا جاتا ہے۔
‏ہوا یہ کہ شروع شروع میں یہ بہت معصوم سی بلی کی طرح گھر میں آگئی۔ اب سب سے پہلے تو وقت کا مسئلہ پیدا ہوا، گھر اور گھر والوں کو جو وقت ملنا چاہیے تھا وہ تو نہ ملنا تھا نہ ملا مگر جو وقت کھانے کو ملنا چاہیے تھا وہ بھی اسے ملنا بند۔
‏اب صبح ناشتہ ملتا ہے مگر اس میں وہ پیار نہیں ہے۔
‏وہ شگفتہ چہرہ ماضی کا قصہ بن گیاکاش یہ اسپیسز پر شکل و صورت بھی آتی تو کچھ تو بھلا ہوجاتا، مگر خیر ، کیا گلہ کرنا!
‏سب سے بڑا اعتراض تو یہ ہے کہ لوگ اس جگہ سے باہر جانا چاہیں بھی تو دوسرے اسے ہاتھ سے پکڑ کر واپس گدلے پانی میں لے آتے ہیں اور پھر کھیل شروع ہو جاتا ہے۔

‏اجازت لینے میں ہی ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے۔

‏مگر یہ سب تو بہانے تھے اپنی بات کہنے کے اب آتے ہیں اصل مدعا یعنی کہ اصل بات کی طرف۔
آپ سے دست بدست ایک شوہر کی گزارش ہے کہ ظالمو! رات بارہ سے صبح پانچ بجے تک تو اپنی یہ دوکان بند کر لیا کرو۔

‏ایسا نہ ہو کہ یہ سب شوہر ایک احتجاجی جلوس لے کر میدان عمل میں اتر آئیں۔
‏سو تھوڑے لکھے کو بہت جانیں اور اعتدال کی راہ اپنائیں۔

‏فقط

‏اعزازی ممبر انجمن تحفظ حقوق شوہراں، رجسٹرڈ

اپنا تبصرہ بھیجیں