فضائل و برکات مدینہ منورہ

فضائل و برکات مدینہ منورہ

 

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی( ایم اے) سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال
اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق ،رازق و مالک ہے ۔اُس نے اشرف المخلوقات انسان کو پہچان کے لئے قوم ،قبیلے اور علاقوں کی نسبتیں عطا فرمائیں ۔دنیا میں بڑے بڑے خوبصورت علاقے بھی ہیں اور بے آب و گیاہ میدان بھی ۔بلند و بالا پہاڑوں والی سر زمین بھی ہے اور لق و دق صحرا بھی ،مگر کائنات میں یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جس علاقہ ،بستی یا شہرکی نسبت کسی بزرگ ،صاحب علم و فن اور باکمال شخصیت سے ہو جاتی ہے وہ باقی علاقوں سے منفر د و معتبر بن جاتا ہے ۔بلکہ اس شہر کے نام کے ساتھ لوگ لفظ ”شریف ” کا اضافہ کر دیتے ہیں جس سے اُس شہر کی فضیلت دوسرے شہروں پر نمایاں ہو جاتی ہے ۔دنیا کے تمام شہر خوبصورت منفرد اور قابلِ دید ہیں ۔کسی کو کسی شہر سے محبت ہے اور کسی کو کسی دوسرے شہر سے ۔مگر بزرگ فرماتے ہیں کہ کسی عاشق کو کسی نے پوچھا تجھے کون سا شہر زیادہ پسند ہے تو اُس نے کہا جس شہر میں میرا محبوب رہتا ہے ۔یہ تو عشق مجازی والے کی پکار ہے تو عشقِ رسول ۖ سے سرشار مومن کہتا ہے کہ مدینہ تو مدینہ ہے ۔کیونکہ مدینہ منورہ میں کائنات کا محبوب ۖ بلکہ رب کائنات کا محبوب ۖ جلو ہ گر ہے ۔مدینہ منورہ عشق کی بستی ،عطا کی بستی ،سخا کی بستی ،شفا کی بستی ،صبر کی بستی ،جزا کی بستی ،عفو کی بستی ،غنا کی بستی ،جذب کی بستی ،ضیاء کی بستی بلکہ یوں کہوں نور کی بستی حضور ۖ کی بستی ہے۔ یہ کائنات کے شہروں میں سے ہزاروں منفرد خوبیوں کا حامل شہر ہے ۔کیونکہ اس میں کعبہ کے کعبہ رونق افروز ہیں ۔مدینہ منورہ کے فضائل پر احادیث نبویۂ کے حوالے سے یہ تحریر ہدیہ قارئین کر رہا ہوں تاکہ عمرہ شریف کی ادائیگی یا حج بیت اللہ شریف پر جانے والے عشاقانِ رسالت ۖ اس شہر معطرہ و معنبر میں 40نمازوں کی ادائیگی کی نیت سے ہی نہ جائیں بلکہ اس مرکزِ عشق شہرِ بے نظیر میں حاضری کے پاکیزہ جذبے کو ملحوظ رکھیں ۔آئیے فضائل مدینہ منورہ پڑھ کر اپنے ایمان کو تازہ کریں ۔
مدینے کا نام طابہ ہے :ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ یثرب کے نام سے مشہور تھا ۔لیکن رسول اکرم ۖ جب ہجرت کر کے اس شہر میں تشریف لے گئے تو یہ شہر مدینہ منورہ ہو گیا ۔
”حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا ہے آپ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۔”(مسلم)
ایک روایت میں طابہ کی جگہ طیبہ آیا ہے لیکن ان دونوں لفظوں کے معنیٰ پاکی اور عمدگی کے ہیں ۔کیونکہ رسول اللہ ۖ کی آمد سے یہ شہر شرک سے پاک ہو گیا اس لئے اسے طیبہ کہا گیا ۔امام نووی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب مناسک میں اس شہر کے پانچ نام بیان کئے ہیں یعنی مدینہ ،طابہ ،وار ،یثرب۔ان میں سے یثرب زمانہ جاہلیت کا نام ہے ۔ حضور ۖ نے اس کو پسند نہیں فرمایا چنانچہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں یہ مدینہ ہے ۔غالباً ناپسند یدگی کی وجہ سے یہ ہے کہ یثرب کے معنی ملامت اور حزن کے ہیں اور حضور اقدس ۖ کی عادت شریفہ بُرا نام بدل کر بہتر نام رکھنے کی تھی ۔اس لئے آپ نے اس کا نام مدینہ رکھ دیا ۔امام نووی فرماتے ہیں ۔کہ مدینہ دین سے مشتق ہے جس کے معنی دارا الطاعتہ کے ہیں ۔اس لئے یہ نام رکھا گیا کہ اس شہر میں اللہ کی اطاعت کی جاتی ہے ۔
مدینہ غالب بستی ہے :وہ بستی جو مدینہ کے نام سے مشہور ہوئی تمام بستیوں پر غالب آگئی اس کے بارے میں حضور انور ۖ نے فرمایا :” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا مجھے ایسی بستی کی جانب ہجرت کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں پر غالب آجائے گی جس کو لوگ یثرب کہتے ہیں لیکن وہ مدینہ ہے وہ بستی بُرے لوگوں کو اسی طرح صاف کردے گی جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے ۔(بخاری شریف)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں ایام میں خواب دیکھا تھا کہ آسمان سے ایک چاند مکہ مکرمہ میں اترا جس کی وجہ سے سارا مکہ روشن ہو گیا پھر وہ چاند آسمان کی طرف چڑھا اور مدینۂ طیبہ میں جا اترا جس کی وجہ سے مدینہ کی ساری زمین روشن ہو گئی ۔یہ طویل خواب ہے اسی میں آخر میں ہے کہ پھر وہ چاند عائشہ کے گھر میں گیا اور ان کے گھر کی زمین شق ہو گئی جس میں وہ چاند پوشیدہ ہو گیا ۔کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فنِ تعبیر سے پہلے ہی بہت مناسبت تھی اس خواب سے انہوں نے مدینہ کی ہجرت اور آخر میں حضور ۖ کاحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں دفن ہونا سمجھ لیا تھا ۔(خمیس)
حدیث پاک میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ بستی ساری بستیوں کو کھالے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بستی سب بستیوں سے افضل ہے اس لئے دوسری بستیاں اس میں مدغم ہو جائیں گی اور یہ بستی سب پر غالب آجائے گی ۔
ہجرت کے لئے مدینہ کو پسند کیا گیا:حضرت جریر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ اِن تین بستیوں میں سے جس میں اتر وہ تمہار ی جائے ہجرت ہو گی وہ مدینہ بحرین اور قنسرین ہیں ۔(ترمذی)
اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اکرم ۖ نے ہجرت کے وقت دوسری بستیوں کی بجائے مدینہ طیبہ کو پسند فرمایا اور جسے اللہ کے محبوب نے پسند فرمایا اس شہر کے کیا کہنے ۔۔۔۔
مدینہ سب شہروں سے بہتر ہے:حضرت سفیان بن ابی زہیر سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ۖ سے سنا آپ نے فرمایا یمن فتح ہو گا تو ایک قوم اپنے اہل و عیال اور متعلقین کو لے کر مدینہ سے چلی جائے گی اور اگر انہیں اس کا علم ہو تو مدینہ ان کے لئے بہتر ہے ۔اس طرح شام فتح ہو گا اور ایک جماعت اپنے اہل و عیال اور متعلقین کو لے کر مدینہ سے شام کی جانب کو چ کر ے گی حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ اس کو جان لیں اسی طرح عراق بھی فتح ہو گا وہاں بھی لوگ اپنے خاندان اور متعلقین کو لے کر چلے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ اس کو سمجھیں مدینہ سب علاقوں سے بہتر ہے ۔”
اس حدیث پاک میں نبی اکرم ۖ نے مدینہ طیبہ کے بارے میں ایک اسرار بیان کیا ہے کہ جب فتوحات ہوں گی اور مسلمان وسیع علاقوں میں پھیلنے لگیں گے تو مدینہ کے کچھ لوگ دوسرے علاقوں کو بہتر خیال کرتے ہوئے مدینہ طیبہ کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں چلے جائیں گے تو ان کا یہ خیال درست نہ ہوگا ۔کیونکہ مدینہ پاک کے تمام علاقوں سے بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شہر پر ہر وقت اللہ کی رحمت کا نزول رہتا ہے کیونکہ رسول اکرم ۖ کا روضہ مبارک اس شہر میں ہے ۔
حرم مدینہ:مدینہ منورہ کی سر زمین بھی مکہ مکرمہ کی طرح حرمت والی ہے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ مکہ مکرمہ کے حرم میں جو چیز یں ناجائز ہیں ان کو کرنے سے دم واجب ہوجاتا ہے لیکن حرم نبوی میں بدلہ دینا واجب نہیں ہوتا یہ رحمت اللعالمین کی فیاضی ہے کہ آپ نے اپنی امت کو کتنی سہولت دی مگر حرم مدینہ کا احترام نہ کرنے والا گنہگار ہو گا۔ رسول اکرم ۖ نے جن احادیث میں مدینہ کو حرم قرار دیا ہے وہ حسب ذیل ہیں ۔”حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا جناب ابراہیم علیہ السلام نے سر زمین مکہ کو حرمت دی ہے میں مدینہ کو حرمت دیتا ہوں اب اس کے دونوں کناروں کے درمیان نہ تو خونریزی کی جائے اور نہ یہاں جنگ کے لئے ہتھیار اٹھائے جائیں اور جانوروں کی غذا کے علاوہ یہاں کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں ۔”(مسلم)
اُن سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ۖ نے احد پہاڑ کو دیکھ کر فرمایا یہ وہ بہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس کو محبوب رکھتے ہیں جناب ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت دی اور میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان جو زمین (مدینہ )ہے اس کو حرمت دیتا ہوں۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا میں مدینہ کے دونوں کناروں کو حرام کرتا ہوں اس علاقہ میں نہ تو خاردار درخت کاٹا جائے نہ اس میں شکار کیا جائے ۔نبی کریمۖ نے فرمایا مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ اس (کے تقدس) کو جانتے ہوں اگر کوئی شخص مدینہ سے بے رغبتی نہ رکھتے ہوئے اس کو چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل مہیا فرما دے گا اور جو شخص مدینہ کی سختی اور تنگی محنت ومشقت پر ثابت قدم رہے گا۔میں قیامت میں اس کا شفیع و شہید ہوں گا۔(مسلم)
برکات سر زمین مدینہ:اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی خاطر سر زمین مدینہ کو بڑی برکات عطا کر رکھی ہیں ۔چونکہ رسول اللہ ۖ نے اس سر زمین کی برکت کے لئے بہت دعا کی ہے ۔:”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے دعا فرمائی خداوندا تو نے جتنی برکت مکہ کو عطا فرمائی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ کو عطا فرما۔” (متفق علیہ)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کا معمول یہ تھا کہ جب موسم میں کوئی پھل آتا تو سب سے پہلا پھل حضور اقدس ۖ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ۔ حضور ۖ اس کو لے کر یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں برکت فرما اور ہمارے شہر میں برکت فرما اور ہمارے صاع میں برکت فرما اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تھے تیرے خلیل تھے تیرے نبی تھے اور میں تیرا بندہ ہوں تیرا نبی ہوں اور انہوں نے مکہ مکرمہ کے لئے دعا کی میں ویسی ہی دعا مدینہ طیبہ کے لئے کرتا ہوں اور اس سے دو چند دعا کرتا ہوں ۔”اس کے بعد کسی چھوٹے بچے کو وہ پھل مرحمت فرمادیتے ۔
ایک حدیث میں آیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور ۖ کے ساتھ جا رہے تھے جب مدینہ سے باہر حرہ میں سقیا پر پہنچے (ایک جگہ کا نام ہے مدینہ کی آبادی سے باہر) تو حضور اقدس ۖ نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کرکے قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ دعا کی ۔”اے اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تھے تیرے خلیل تھے ۔انہوں نے مکہ والوں کے لئے برکت کی دعا کی اورمیں محمد ہوں (ۖ) تیرا بندہ ہوں تیرا رسول ہوں ،میں تجھ سے مدینہ والوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد میں اور ان کے صاع میں ایسی ہی برکت فرما جیسی کہ تو نے اہل مکہ کے لئے اور ا سکے ساتھ دو چند برکتیں زیادہ کر (کنز) اس حدیث شریف میں تین گنازیادتی کی دعا ہوئی ۔صاحبِ ترغیب نے اس کی سند کو عمدہ اور قوی بتایا ہے ۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ طیبہ میں گرانی بہت ہو گئی اور لوگ مشقت میں پڑگئے ،تو حضور ۖ نے صبر کی تلقین فرمائی اور یہ خوشخبری دی کہ میں نے تمہارے لئے تمہارے صاع میں اور تمہارے مُد میں برکت کی دعا کی ہے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ کھانا علیحدہ علیحدہ نہ کھایا کرو اکٹھے ہو کر کھایا کرو اس صورت میں ایک کا کھانا دو کو کافی ہو جاتا ہے اور دو کا کھانا چار کو کافی ہو جاتا ہے اور چار کا پانچ کو کافی ہوجاتا ہے ۔اکٹھے کھانے میں برکت ہوتی ہے ۔جو شخص مدینہ طیبہ کی مشقت پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لئے سفارشی اور گواہ بنوں گا۔ اور جو شخص مدینہ سے اعراض کرکے یہاں سے جائے گا حق تعالیٰ شانہ اس کا بہترین بدل یہاںعطا کر دے گا اور جو مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا وہ اسی طرح پگھل جائے گا جیسا کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے ۔(ترغیب)
مدینے کی سر زمین میں شفا ہے :سر زمین مدینہ میں اللہ نے شفا رکھی ہے ۔یعنی جو لوگ اس سر زمین میں رہ کر اللہ سے صحت کی شفا یابی کی دعا کرتے ہیں تو اللہ قبول کرتا ہے اور اس کی صحت یابی کا کوئی ذریعہ بن جاتا ہے ۔اس کے علاوہ مدینہ طیبہ کی مٹی میں شفا ہے ۔” حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ۖ ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لائے تو جناب صدیق اکبر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا میں نے آکر نبی اکرم ۖ کو اطلاع د ی تو آپ ۖ نے دعائیہ کلمات کہے کہ خداوند ا مدینہ کو ہمیں ایسا ہی محبوب بنا دے جیسا کہ مکہ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اس خطہ کو صحت کا گہوارہ بنادے یہاں کے صاع اور مُد میں ہمارے لئے برکتیں عطا فرما اور اس کے بخار کوجحفہ کی طرف منتقل کر دے ۔(متفق علیہ)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ۖ مریض کے لئے فرمایا کرتے تھے اللہ کے نام کے ساتھ ہماری زمین کی مٹی بعض آدمیوں کے لب کے ساتھ مل کر ہمارے بیمار کو شفاء دیتی ہے ۔”(رواہ البخاری)
علامہ قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں مدینہ پاک کی خصوصیات میں لکھا ہے کہ اس کا غبار جذام اور برص کے لئے خصوصیت سے شفاء ہے ۔علامہ زرقانی نے بعض لوگوں کے حالات بھی لکھے ہیں جن کو برص کی بیماری تھی اور مدینہ پاک کی مٹی ملنے سے وہ اچھے ہو ئے ۔علامہ قسطلانی کہتے ہیں بلکہ ہر مرض کے لئے شفا ہے ۔علامہ زرقانی نے لکھا ہے کہ حضور اقدس ۖ ایک مرتبہ قبیلہ بنو الحارث کے پاس گئے وہ لوگ بیمار تھے ۔حضور ۖ نے فرمایا کیا حال ہے ؟ کہنے لگے حضور ہم لوگ بخار میں مبتلا ہیں ۔حضور ۖ نے فرمایا تمہارے پاس توصعیب موجود ہے ۔(یہ مدینہ کی ایک خاص جگہ کا نام ہے جو وادیٔ بطحا ن میں ہے )انہوں نے عرض کیا کہ حضور ۖ صعیب کو کیا کریں؟ حضور ۖ نے فرمایا اس کی مٹی لے کر پانی میں ڈال کر اس پر یہ پڑھ کر لب ڈالو۔بسم اللّٰہ تراب ارضنا بریق بعضنا شفاء لمریضا باذن ربنا۔ان حضرات نے اس کا استعمال کیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے بخار جاتا رہا ۔
اس واقعہ کے نقل کرنے والے ایک راوی کہتے ہیں کہ لوگوں کے اس جگہ سے مٹی اٹھانے کی وجہ سے وہاں گڑھا بھی پڑ گیا ۔بہت سے لوگوں نے اس کا تجربہ کیا ۔علامہ سمہودی کہتے ہیں کہ یہ جگہ اب تک بھی موجود ہے ۔لوگ اس کی مٹی بیماروں کے واسطے لاتے ہیں ۔حضرت ثابت بن قیس حضور ۖ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مدینہ کا غبار کو ڑھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے ۔(زرقانی)
سر زمین مدینہ میں موت کا شرف:سرزمین مدینہ میں جسے مرنے کا شرف حاصل ہو جائے اسے کیا چاہیے کیونکہ اس زمین پر مرنے والے کی رسول اکرم ۖ شفاعت کریں گے جو مرنے والے کا ذریعے نجات بنے گی ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا جس کو یہ توفیق نصیب ہو کہ مدینہ میں اس کو موت آئے تو وہ اس کو ترجیح دے مدینہ میں مرنے والوں کی میں شفاعت کروں گا ۔(احمد اور جامع ترمذی)
ایمان کے ساتھ مدینہ طیبہ میں موت بڑی خوش نصیبی ہے کہ جس کو دیار رسول میں دوگز جگہ مل جائے ۔اس کے مقدر سنور گئے ۔
ایک روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک قبر کھودی جارہی تھی اور حضور اقدس ۖ وہاں تشریف فرما تھے ۔ایک صاحب تشریف لائے اوراس قبر کو دیکھ کر کہنے لگے کہ مومن کے لئے یہ کیسی بری جگہ ہے ۔حضور ۖ نے فرمایا کہ تم نے کیسی بات کہی۔حضور ۖ کی مراد غالباً یہ تھی کہ مومن کی قبر کو بُری جگہ بتایا حالانکہ وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔ وہ صاحب کہنے لگے ۔حضور ۖ میرا مقصد تو یہ تھا کہ یہاں مر گئے ۔کہیں جا کر اللہ کے راستے میں شہید ہو جاتے ۔حضور ۖ نے فرمایا کہ شہادت کے برابر تو کوئی چیز نہیں لیکن ساری زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ۔جہاں مجھے اپنی قبر بنائی جانی پسندیدہ ہو ،بجز مدینہ طیبہ کے ۔حضور ۖ نے تین مرتبہ یہی الفاظ فرمائے ۔(مشکوٰة)
مدینہ منورہ کے قیام کی فضیلت:مدینہ طیبہ کا قیام بہت بہتر ہے اس کے متعلق فرمان نبوی ۖ مندرجہ ذیل ہے ۔”حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ۖ سے بیعت کی لیکن اس کے بعد اس اعرابی کو بخار ہو گیا تو وہ نبی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا یا محمد (ۖ) میری بیعت ختم کر دیں لیکن نبی کریم ۖ نے انکار کر دیا بعد میں اس نے آکر پھر بیعت ختم کرنے کو کہا لیکن نبی علیہ السلام نے پھر انکار کر دیا لیکن اس نے پھر آکر بیعت فسخ کرنے کو کہا لیکن پھر نبی علیہ السلام نے انکار کر دیا تو وہ وہاں سے نکل کر چلا گیا تب نبی کریم ۖ نے فرمایا مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کو دور کر دیتی ہے اور خوشبو کومعطر کر دیتا ہے ۔یعنی بہتر کو بہتر کر دیتا ہے ۔(بخاری شریف)
اہل مدینہ کے ساتھ دھوکہ کرنے کی ممانعت:حضرت سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا جو کوئی بھی اہل مدینہ کے ساتھ وھوکہ دہی کرے گا وہ اسی طرح ختم ہو گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔(مسلم شریف)
مدینہ میں شکار کی ممانعت:حضرت سلیمان بن ابی عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے جناب سعد بن ابی وقاص کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو مدینہ منورہ میں شکار کرتے دیکھ کر اس کو پکڑ لیا کیونکہ نبی کریم ۖ نے یہاں شکار کرنا حرام قرار دیا ہے ۔(ابو دؤد)
زیارت مدینہ کی تاکید:آل خطاب کے ایک فرد سے روایت ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا جو مسلمان قصداً میری زیارت کو آتا ہے وہ قیامت کے دن میرے ہمراہیوں میں ہو گا اور مدینہ کے دوران قیام یہاں کے مصائب پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گا اور اس کی شفاعت کر دوں گا اور جو مسلما ن حرمین میں سے کسی جگہ فوت ہو ا وہ قیامت کے دن امن یا فتہ لوگوں کے ساتھ محشور ہو گا ۔(شعب الایمان)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا میری امت میں سے جو کوئی مدینہ کی سختیوں اور شدتوں پر صبرکرے گا میں قیامت کے دن اس کا سفارشی ہوں گا۔(مسلم)
مدینے سے برے لوگوں کا نکل جانا :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایاقیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ مدینہ اپنے برے لوگوں کو اسی طرح نہ نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔(مسلم)
مدینے کے متعلق رسول اکرم ۖ کی پیشن گوئی :حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا کوئی شہر ایسا نہیں جو دجال کی دستبردار ی یا پامالی سے محفوظ رہ جائے سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اور اس کے داخلے کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ ان شہروں پر فرشتوں کا پہرہ  ہے جو صفیں بنا کر ان کی نگہبانی کرتے ہیں ۔لہٰذا وہ ان شہروں سے باہر صحرا یا بنجر زمین میں اتر ے گا پھر مدینہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا پھر ہر کافرومنافق مدینہ سے نکل جائے گا ۔
معزز قارئین! غور فرمائیں جس شہر لازوال میں اتنی خوبیاں ،انفرادیت اور فضائل و کمالات ہوں اُس شہر کی حاضری کیوں نہ ذریعہ نجات و باعثِ شفاعت بنے گی ۔شہر مدینہ کی حاضری بھی خوش قسمت کے مقدر میں ہے اور اس کی جدائی عاشقِ رسول ۖ کے لئے صدمہ عظیم ہے ۔اسی لئے مومن رسول اللہۖ کے شہر میں شہادت کی موت کے خواستگار ہوتے ہیں کیونکہ یہ شہر نزولِ ملائکہ کا شہر ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ ہمیں مدینہ منورہ کی بار بار باادب حاضری نصیب فرمائے ۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں