صرف عورتیں ہی مظلوم کیوں؟


صرف عورتیں ہی مظلوم کیوں؟
تحریر شازیہ عندلیب
خواتین کے حقوق کی کانفرنس میں خواتین اور مردوں نے عورتوں پر توڑے گئے ظلم و ستم کا ذکر کیا۔اور خواتین کو مظلوم قرار دیا۔بیشتر اہل محفل کی رائے یہی تھی کہ شروع سے لے کر اب تک عورتیں مردوں کے ستم ہی سہتی چلی آئی ہیں۔صرف دو مرد حضرات کاموقف اکثریتی رائے سے مختلف تھا۔ایک دانشور نے اس خیال کی سختی سے تردید کی کہ تما م خواتین ہمدردی کی مستحق ہیں۔انہوں نے محفل میں موجود دانشور خواتین کو مضبوط اور پر اعتماد قرار دیا۔
جبکہ ایک اور صاحب ذوق نے بیان کردہ خواتین کے ظلم کے قصور میں خود کو تھانے میں گرفتاری کے لیے پیش کیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ان کی اس خواہش کی پچھلی کرسیوں پر براجمان خواتین نے بھر پور تائید کی اور داد دی۔جبکہ ایک اور ادبی شخصیت نے ناروے میں خواتین کے مردوں کے برابر حقوق پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس وجہ سے یہاں کئی مرد اپنی بیویوں کو قتل کر دیتے ہیں۔حالانکہ ہمارے وطن میں جہاں عورتوں کو کوئی حقوق ہی حاصل نہیں عورتوں کے قتل کی اوسط یہاں سے ذیادہ ہے اس لیے محض اسے وجہ قرار دینا نامناسب ہے ۔ اس بات پر ہال میں موجود کئی افراد نے اعتراض کیا۔اس بات پر انہوں نے کہا کہ میں صرف معلومات دے رہا ہوں ۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جن علاقوں میں خواتین کو برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں وہاں حالات اس سے بھی بدتر بلکہ بدترین ہیں ان ممالک میں انڈیااورپاکستان سر فہرست ہیں۔
جبکہ کئی افراد یہ بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ عورت عورت کی دشمن ہوتی ہے۔جبکہ تھانوں میں عورتوں کے ہاتھوں عورت کے قتل کے واقعات پوری دنیا میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔انکا موقف یہ ہے کہ عورت ساس ہے تو بہو پر ظلم کرتی ہے،نند بھابی پر ستم ڈھاتی ہے اور بھابھی شوہر کو ڈھال بناتی ہے اور اس بیچارے کو استعمال کرتی ہے۔اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرد بھی عورت کے ظلم کا شکار ہے مگر آفرین ہے مرد ذات پر کہ آج تک کسی مرد نے یہ احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا۔کبھی مردوں نے عورتوں کے خلاف ظلم پر جلوس نہیں نکالا مظاہرے نہیں کیے۔
دور کیا جانا اکثر پڑھے لکھے خاندانوں میں مرد بیگمات کی ہر بات مانتے ہیں بلکہ جب سے آنکھ کھولی گھر بھر پر دادی اماں کی حکمرانی دیکھی۔دادا جی کی فیکٹری کا سارا حساب کتاب دادی اماں ہی سنبھالا کرتی تھیں۔گھر بھر پر انکا ہی سکہّ چلتا تھا اور انہی کی حکمرانی تھی ۔اس پر بھی یہ عالم تھا کہ ہر طرف شادمانی ہی شادمانی تھی۔رزق کی بھی فراوانی تھی۔اس کے علاوہ یہ بات بھی مشاہدے میںآئی کہاگر خواتین مردوں کے ظلم سہتی ہیں تو کچھ خواتین بے انصاف مرد حضرات کے ظلم سہنے کے بجائے انہیںمظلوم بنا دیتی ہیں۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی مردوں کی بیگمات نے انکے نارواں سلوک پر انہیں ایسا سبق سکھایا کہ انہیں ان کے بناء اپنی باقی زندگی تنہا گزارنی پڑی۔ایک صاحب جو خواتین سے انتہائی نفرت کرتے تھے انہیں ان کی بیگم شادی کے چند روز بعد ہی چھوڑ کر چلی گئیں ۔جبکہ ایک بزرگ کی بیگم ان کے چھ بچے لے کر اپنے میکے میں تمام اسباب سمیت جا بسیں اور انکی مردانگی منہ دیکھتی رہ گئی۔
جبکہ ایک اور خاتون اپنے ناک پر مکھی تک نہ بیٹھنے دیتیں ہمیشہ اپنی من مانی کی اور ہمیشہ اپنی ہی منوائی۔حالانکہ یہ تمام صورتیں اخلاقی اور معاشرتی طور پر نا مناسب ہیں۔مرد اور عورت کا رشتہ انسانیت اور دوستی کی بنیاد پر قائم ہو تو تبھی مضبوط بھی رہتا ہے اور پائیداربھی ۔ورنہ استحصال تو دونوںکا ہی ہو جاتا ہے۔اگر تاریخ میں عورتوں پر ستم ڈھائے گئے ہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم کا دور آیا تو مرد بھی ظلم سے نہ بچ سکے تھے۔مردوں کو بھی غلام بنایا جاتا رہا ہے انہیں بیچا جاتا رہا ہے انکی خرید و فروخت ہوتی رہی ہے۔دور فرعون میں لڑکوں کو پیدا ہپوتے ہی مار دیا جاتا تھا۔ جبکہ پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے غلام بنا کر فروخت کر دیا تھا۔مگرمردوں کے مظالم کی اتنی تشہیر نہیں کی جاتی جتنی کہ عورتوں کیے مظالم کی کی جاتی ہے۔
اب عرب ممالک میں ہی دیکھ لیں وہاں مرد چار چار عورتوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں مگر پھر بھی طبیعت سیر نہیں ہوتی پانچویں پر نظر ہوتی ہے مگر آج تک کسی عربی نے احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا ۔انہیں تو اپنی عورتوں سے ہی فرصت نہیں کہ اپنے ملک کا نظام سنبھال لیں یا تیل خود نکال کر بیچیں ۔بلکہ اس کام کے لیے انہوں نے غیرملکیوں کی خدمات مستعارلے رکھی ہیں۔انہیں اپنے بیوی بچوں کی خدمات سے فرصت ملے تو وہ ملک کی خدمت کریں!!
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو آنٹی قلوپطرہ اور ہیلن آف ٹرائے نے مردوں کو جو تگنی کا ناچ نچایا اور جنگیں کروائیں اسکی مثال ملنی مشکل ہے۔لیکن چونکہ تاریخ مرد حضرات نے لکھی ہے اس لیے اس میں انہوں نے صرف عورتوں کے مظالم کا ذکر نہائیت ذوق و شوق سے کیا ہے مردوں پر ڈھائے جانے والے مطالم دانستہ حدف کر دیے گئے ہیں۔حالانکہ در حقیقت یہ مرد و عورت کے حقوق کی جنگ محض ایک بہانہ ہے اس کے پس پردہ کچھ اور حقائق ہیں یہ صرف اورصرف اقتصادی طاقت کی جنگ ہے۔پیسہ طاقت اور اختیارخواہ مرد کے ہاتھ میں ہو یا عورت کے ہاتھ میں وہی اپنے حق ذیادہ استعمال کرتا ہے۔بچپن سے لے کر اب تک یہی دیکھا سنا کہ جس کے پاس طاقت ہے پیسہ ہے اختیار ہے وہی با اختیار ہے چاہے وہ مرد ہے یا عورت۔ یہ مردو عورت کے حقوق کی سب باتیں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ
جیسا کرے پیسہ
کوئی نہ کرے ویسا

3 تبصرے “صرف عورتیں ہی مظلوم کیوں؟

  1. اذیہ صاحبہ آپکی تحریر اس معاشرہ کی کمزوری کو اجاگر کرتی ہے۔ہم سب نے اسے کھلی آنکھوں سے دیکھا اور نظرانداز کیا۔آپکی حوصلہ افزائ پورے معاشرے کی اصلاح کیلۓ ضروری ہے۔ بہت شکریہ اور مبارکباد
    دعاگو
    طیب
    ممبئ

  2. 2013/7/28 Abida Rahmani
    شازیہ آپکے اس جملے کا کافی لطف آیا کہ چار کے ہوتے ہوۓ انکی پانچویں پر نظر ہوتی ہے ۔۔ اتنی بڑی حقیقت ہے کہ تمام مظالم کے باوجود خواتین مظلوم قرار دی جاتی ہیں ۔۔۔
    دامن پہ کوئ چھینٹ نہ خنجر پہ کوئ داغ ۔۔تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو 
    ڈائجسٹ کی وجہ سے مجھے جواب دینے میں ذرا مشکل پیش آ رہی ہیں 

اپنا تبصرہ بھیجیں