شیر اور شیروانی

شازیہ عندلیب
گذشتہ دنوں پاکستان جانے کا اتفاق ہوا وہاں ایک عزیز نے نہائیت فخر سے ایک خوبصورت کالونی دکھائی جس کے آغاز پر شیروں اور دیگر جنگلی درندوں کے بت ایستادہ تھے۔پھر اس پر طرہ یہ کہ بلند و بالا ستون کسی قدیم سلطنت روما کی یاد تازہ کر رہے تھے۔ شہر سے باہر اس قالونی میں تعمیر شدہ گھر بہت خوبصورت تھے۔مگر پوری قالونی کے ماحول میں مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ میں پاکستان کی کسی قالونی میں نہیں بلکہ قدیم رومیوں کی سلطنت میں گھوم رہی ہوں جہاں جگہ جگہ بت کدے ہیں۔ پھر یہاں یقیناً جنگلی درندے اور جنگل کا قانون بھی ہو گا۔جب جنگل کا قانون ہو گا تو بل فائٹگ جیسے وحشیانہ کھیل بھی کھیلے جائیں گے جن کا بنیادی نظریہ کمزوروں پر ظلم اور طاقتوروں کی حکومت ہی ہے۔یعنی کہ اس درندے کا اور اسکو پسند کرنے والے افراد میں حاکمیت ذیادتی اور ظلم و ستم کرنے کے تمام اوصاف بدرجہ اتم موجود ہو سکتے ہیں۔ابھی یہ سوچیں احساسات کے پردے پر چل ہی رہی تھیں کہ اچانک ایک باغ کے قریب پڑے پنجرے پر نظر پڑی جس یں ایک چیتا گھوم رہا تھا۔جس نے خیالات کو مزید تقویت دی۔
آجکل وطن عزیز میں بھی اسی طرح ایک قالونی تو کیا ملک کے طول و عرض میں شیر چیتوں اور دیگر جنگلی جانوروں کی خصلتیں رکھنے والے افراد گھوم رہے ہیں اور ملک کے قانون پر اور دستور پر حملہ کر کے اسے چیر پھاڑ دینا چاہتے ہیں۔ملک میں ایک شیروانی پوش سیاستدان کا چرچا ہے جو شائید شیروانی پہن کر شادی کی تقریب اٹینڈ کرنا چاہتے تھے لیکن پھر اس لباس کو کسی سیاسی تقریب کے یے سنبھال لیاگیا۔ لیکن انکا یہ خیال کب شرمندہ تعبیر ہو گا۔یہ بعید از قیاس ہے۔عدالتی فیصلہ تک اسی طرح شیر چیتوں کی خصلتوں والے افراد اپنی اپنی شیروانیاں سنبھالے کسی نئے ایونٹ کا بے چینی سے انتظار کرتے رہیں گے۔ اس وقت تک بہتر ہے کہ شیروانی اں پہن کرا نہی شیر چیتوں کی سواری کر لی جائے۔کیونکہ گھوڑوں کی تجارت تو ہو چکی اب باری ہے جنگلی درندوں کی کہ انکی طاقت بھی آزمائی اور دکھائی جائے جیسے نبی پاک کی ولادت سے پہلے ابراہا نے خانہء خدا پر حملہ کیا تھا اور ہاتھیوں کا لشکر خانہ کعبہ پر چڑھ دوڑنے کے لیے ابراہا کی قیادت میں آ گیا تھا۔ اس وقت پھر اللہ کی مدد آئی اور ان ابابیلوں نے ان ہاتھیوں کے لشکر کو ایسا کر دیا تھا جیسے کھایا ہوا بھس۔آج وطن عزیز بھی ایسے ہی درندوں کے نرغے میں ہے مگر جب اللہ کی مدد ایمان والوں کو آ پہنچے گی تو پھر کچھ بھی نہ بچے گا نہ گھوڑے نہ شیر اور نہ شیروانی اور نہ شیروانیوں والے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں