شاعروں کی قسمیں (١)

شاعروں کی قسمیں (١)

فیصل حنیف

ابو الاثر حفیظ جالندھری کے  یہ  دو مشہور شعر

یہ عجب  مرحلہ عمر ہے یا رب کہ مجھے
ہر بری بات، بری بات نظر آتی  ہے
نظر آتی ہی نہیں صورت حالات کوئی
اب یہی صورت حالات نظر آتی ہے

اس مضمون کا محرک ہیں- اگر اس مضمون میں کسی مقام پر پڑھنے والوں کو ہنسی آ جائے  تو جان لیجیے یہ مضمون اسی واسطے لکھا گیا ہے-

 

کئی برس  ہوئے  کہ غلام رسول مہر  مرحوم نے شاعروں کی تین قسمیں بتائی تھیں-  خالص شاعر، فلسفی شاعر اور شاعر فلسفی- ہم نے اس مضمون میں اضافے کی غرض سے قلم اٹھایا تو عجیب مشکل پیش آئی- ہمارے کمپیوٹر میں اردو میں اعراب لگانے کی سہولت نہیں ہے، اس لیے جب عنوان “شاعروں کی قسمیں” باندھا تو بے یقینی کی صورت پیدا ہو گئی- اور تو اور ہم خود اسے  زیر کے بجائے زبر سے ‘شاعروں کی قسمیں’ پڑھ گئے- مضمون عنوان سے ہی غیر معتبر ہو گیا- اس  پر ہمیں ایک قصہ یاد آگیا کہ ایک بزرگ شاعر ایک دکاندار کے پاس گئے، اسے اپنے چند شعر عنایت کیے اور اس سے ہزار روپے قرض مانگا- دوکاندار حیران ہو کر کہنے لگا کہ قبلہ میں آپ کو قرض کیسے دے سکتا ہوں، میں آپ کو جانتا تک نہیں- قبلہ مسکرائے اور فرمانے لگے” اس لیے تو تم سے مانگ رہا ہوں، جو مجھے جانتے ہیں وہ تو ایک روپیہ بھی نہیں دیتے-“ مرزا نوشہ نے بھی ایک بار “میکشی کی قسم”  کھائی تھی جس کا اعتبار خود ان کو بھی نہیں تھا- ہمارے اس مضمون کا اعتبار قارئین کو کرنا  پڑے گا کیونکہ ہم شعر نہیں کہتے اور شاعر بھی نہیں- ممکن ہے کہ کوئی  ذہین قاری یہ سوال  پوچھ بیٹھے  کہ ” ہم شعر نہیں کہتے اور شاعر بھی نہیں” کا  کیا مطلب ہے- جو شعر نہیں کہتے وہ شاعر نہیں ہوتے اور جو شاعر نہیں ہوتے وہ شعر نہیں کہتے، تو پھر اس تکرار کی ضرورت کیا ہے، کیا صرف یہ کہہ دینا کہ “ہم شاعر نہیں” یا “ہم شعر نہیں کہتے” کافی نہیں- جواب کے لیے  مضمون پڑھتے جائیے  اور  رموز نرگس نیم باز  کو آشکار ہوتے  اور طرز نظر کو نظر بنتے دیکھیے-

شاعروں کی پہلی قسم بہت خاص الخاص ہے-شاعروں کی پہلی قسم ان شاعروں کی ہے جو شاعر نہیں-  یہ باریک نکتہ  ہمارے دیدۂ امتیاز میں مشتاق احمد یوسفی کے اس جملے سے آ سکتا ہے کہ “وہ شعر کہتا ہے اگرچہ شاعر نہیں”- ان شاعروں کی پہچان ہے کہ یہ بہت بلند آواز میں لہک لہک کر شعر پڑھتے ہیں- اکثر ترنم میں پڑھتے  ہیں – ترنم میں پڑھنے کی دو وجوہات ہیں- پہلی تو یہ کہ ان کا ترنم اچھا نہیں ہوتا اور دوسرا تحت میں انھیں پڑھنا نہیں آتا کئی ایک اک ترنم ایسا آتش بجاں ہے کہ انہیں سن کر بقر عید سے پہلے کے تین چار دنوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے-  کئی لوگ ان  مشاعرہ شکن شاعروں کے  سریلے پن کی تاب نہ لاتے ہوئے مشاعروں سے توبہ کر لیتے ہیں-

 

اپنی شاعری کے معاملے میں بہت حساس  ہوتے ہیں- ان کی شہرت  ان کے جاننے والوں میں “شاعر” کی ہوتی ہے- یعنی اپنا تعارف اپنا نام نہیں بلکہ “میں شاعر ہوں” کہہ کر کرواتے ہیں- ادب سے ان کی واقفیت اسقدر گہری ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد کو “آب حیات” کا مصنف جانتے ہیں- اگر ان کی تصحیح کرتے ہوئے کوئی یہ کہے کہ “آب حیات کے مصنف مولانا محمد حسین آزاد تھے” تو شان بے نیازی سے فرماتے ہیں کہ “ہم بھی تو یہی کہہ رہے تھے-” اس حوالے سے ایک دلچسپ قصہ  سنیے – نومبر ٢٠٠٩ میں بزم اردو قطر نے نظیر اکبر آبادی  پر قطر میں سیمنار منعقد کیا تھا جس میں کئی نامور ادیب و شاعر مدعو تھے – ان میں سب سے نمایاں جناب کلیم  عاجز تھے جو بطور خاص ہندوستان سے تشریف لائے تھے- ہمارے ساتھ ایک  “سخنور” تشریف فرما تھے جو بہت اہتمام کے ساتھ سیمینار سننے آئے تھے- سیمینار شروع ہونے سے پہلے ہم سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ “نظیر اکبر آبادی پہ سیمینار ضرور ہونا چاہیے  تھا،  بلکہ بہت پہلے ہوتا تو اچھا تھا- نظیر اکبر آبادی اردو کے بہت بڑے شاعر ہیں-” ہم نے ان سے اتفاق کیا کہ اتنے  پرانے اور بڑے قد کے شاعر پر ایسا علمی سیمینار بہت پہلے ہونا چاہیے تھا-  سیمینار شروع ہو گیا اور اسی دوران ایک صاحب کلیم عاجز صاحب کو سہارا دے کر آڈیٹوریم میں لیکر آئے- کلیم عاجز  کی شاید طبعیت اچھی نہیں تھی اور ضعیف العمری کی وجہ سے ان سے چلنا دشوار ہو رہا تھا- جونہی ہمارے سامنے سے انھیں گزار کر اسٹیج کی طرف لے جایا گیا تو ہمارے پہلو میں بیٹھے ہوئے ہمارے ہم نشست شاعر  ہم سے پوچھنے لگے کہ “کیا یہی نظیر اکبر آبادی ہیں؟”- ہم یہ سوچ کر ‘اب اسے ہوش کہوں یا کہ جنوں’خاموش رہے- وہ صاحب مزید فرمانے لگے کہ “ہم نے نظیر اکبر آبادی کو پڑھا تو بہت ہے پر دیکھا آج پہلی بار ہے-” خدا کے واسطے دیکھو یہ کیا کج ادائی ہے- ہم نے نشست بدل لی-

 

ان شاعروں کی ایک اور ادائے دلنواز غزلیں عنوان کے تحت لکھنا ہے- ایسے ہی ایک شاعر،  افتاد ٹانٹپوری  سے ہم نے ایک غزل سنی جس کا عنوان تھا “ماں”- اعتراض پر شاعر موصوف نے علامہ اقبال کی ‘غزل’،”‘والدہ مرحومہ کی یاد میں ” کا حوالہ دیا اور سب کی زبانیں بند کر دیں- حاضرین کو ساتھ یہ بھی سمجھایا کہ یہ کوئی ‘راکٹ سائنس’ نہیں- اور یہ نکتہ دقیق بھی بتلایا کہ عنوان کے بغیر کوئی چیز نہیں ہوتی- جو تحریر عنوان کے بغیر لکھی جاتی ہے اس کا بھی ایک عنوان ہوتا ہے- اور وہ ہے”بلا عنوان”- شاعر موصوف الفاظ کے فسوں کار ہیں – ان کی قوت گویائی اور ذخیرہ الفاظ پہ طوطے رشک  کرتے ہیں-

 

شاعروں کی دوسری قسم “پر اصرار” شاعروں کی ہے- شاعری کے اسرار سے ان کی واقفیت اتنی ہی ہے جتنی استاد ذوق کی انگریزی ادب سے تھی- اس قسم کے شاعروں کی خاص خوبی یہ ہے کہ ان کی عمر دوسروں کو یہ قائل کرنے میں گزر جاتی ہے کہ وہ شاعر ہیں اور   بڑے شاعر ہیں- یہ شعر اگرچہ کہتے ہیں اور خود کہتے ہیں- طبعیت  ان کی بری نہیں البتہ قسمت بری ہے- کوئی ان کو در خور اعتنا نہیں سمجھتا- ہر مشاعرے میں موجود ہوتے ہیں، اپنا کلام بھی چیخ چیخ کر  سناتے ہیں لیکن کسی کو ان کا نام اور کلام یاد نہیں رہتا- مشاعروں کی رپورٹوں میں بھی اکثر ان کا نام چھوٹ جاتا ہے- تبصرہ نگار ان کے شعروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں- مشاعروں میں  “میں بھی ہوں  ایک عنایت کی  نظر ہونے تک” کی تفسیر نظر آتے ہیں- اس کے باوجود اکثر ناظم مشاعرہ ان کا  تعارف  پیش کئے بغیر دعوت سخن دے دیتے ہیں- بعض شاعر اس سے اتنے خوگر ہو چکے ہیں کہ اگر ان کا تعارف پیش کر  کے دعوت سخن  دی جائے تو حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ “یہ صاحب کون ہیں ؟ ” –  ان کے کلام میں تاثیر اسقدر ہوتی ہے کہ ہزاروں بار آپ ان کو سن لیں، ان کا شعر تو کجا کوئی ایک آدھ مصرعہ بھی آپ کو یاد نہیں ہوگا-

 

ہمارے دوست، بزرگ شاعر  بیکس بیچارنگروی دوسری قسم کے شاعر ہے، یعنی شاعروں کی جو دوسری قسم ہم نے بیان کی ہے، سے ان کا تعلق ہے- یہ اکثرزمانے کی ناقدری کا  رونا روتے ہیں- فرماتے ہیں کہ اگر میں غالب کے دور میں ہوتا تو آج میرا بہت نام ہوتا اور لوگ میری شاعری کی قدر کرتے- راقم نے کہا کہ وہ سب   درست, لیکن اس صورت میں آپ آج اپنی ناموری  دیکھنے کے لیے زندہ نہ ہوتے- فرمانے لگے “یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں- کیا آپ اسے تخیل کی کمی کہیں گے؟” قارئین! کیا آپ اس کو تخیل کی کمی کہیں گے؟ -بعد مرنے کے کھلی سب پہ ظفر کی خوبی!

شاعری کی تیسری قسم کتاب گر شاعروں کی ہے- ہر چند ماہ بعد ان کی ایک کتاب منظر عام پر آتی ہے- شاعری کے ساتھ ساتھ نثر بھی لکھتے ہیں- موضوعات میں تنوع ہے- “غالب سخنور” سے لیکر “پن چکی کیسے چلتی ہے” کے موضوعات  پر ان کی کتابیں موجود ہیں- ان کی لکھی ہوئی  کسی بات پر اعتراض ہو تو بطور سند اپنی ہی پرانی کتاب پیش کر دیتے ہیں- ان کی ایک کتاب “علم نجوم” پڑھ کر ہمیں معلوم ہوا کہ علم نجومستاروں کا علم ہے- اس ایک جملے کے علاوہ باقی پوری کتاب میں شعر نقل کئے تھے جن میں ستاروں کی ذکر ہے- شعری مجموعہ ترتیب دینے کے لیے ان کے پاس ایک ایسا نسخہ کیمیا ہے جو  خواجہ میر درد اور مرزا غالب کے ہاتھ لگ جاتا تو آج ان کے دیوان اسقدر مختصر نہ ہوتے- وہ نسخہ ہے: ٥٠  غزلوں کی کتاب جو صرف ١٠ غزلوں سے تیار ہو سکتی ہے-  اس کی ترکیب یہ ہے کہ  اس میں ١٠   غزلیں اپنی پرانی کتابوں سے لے لیجیے- باقی٤٠   غزلیں درکار ہیں- ١٠ غزلیں اپنی پہلی کتاب سے لیکر اصلاح کے ساتھ شامل کر لیجیے- اب ضرورت ہے ٢٠  غزلوں کی- ١٠  غزلیں جو لکھ رکھی ہیں ان کو دو دو بار چھاپ دیجیے- بس دھیان رہے کہ ایک غزل دو سے زیادہ بار نہ آئے اور ایک ساتھ ہی دو بار نہ چھپ جائے-

 

لیجیے آشفتہ سودائی سے ملیے- خود کو بڑا شاعر مانتے ہیں- ٤٢ کتابوں کے مصنف ہیں- ان کے موضوعات بے شمار ہیں- علم عروض سے لیکر “گھر بیٹھے گھڑی ساز بنئیے” اور ایسے ہی اور کئی کار آمد موضوعات پر آشفتہ سودائی نے قلم اٹھایا ہے- “آشفتہ” تخلص ہے، لوگ انہیں پیار سے”سودائی” بلاتے ہیں-ان کو شکوہ ہے کہ لوگ ان کی شاعری کو  سنجیدگی سے نہیں لیتے- یہ بات   قطعاً  درست نہیں کیوں کہ ہم نے ہمیشہ لوگوں کو ان  کے مزاحیہ شعر سنجیدگی سے سنتے ہوئے دیکھا ہے- تاہم ان کے سنجیدہ شعروں پر لوگ انھیں ہنس  کر داد دیتے ہیں- خوش خلقی بھی تو کوئی چیز ہے-  اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ان کے سنجیدہ شعرسننے والوں کے پیٹ میں بل ڈال دیتے ہیں-

 

ان کے حاسدین کا  یہ کہنا کہ پچاس برس سے شاعری کر رہے ہیں لیکن ٹھوٹھ ایسے  ہیں کہ باوجود محنت اور مشق سخن کے کورے کے کورے ہیں، سے ہمیں اتفاق نہیں – ہم نے کئی بار ان کی زبان سے دل موہ لینے والے شعر سنے ہیں جنہیں سنتے ہی منہ سے بے اختیار واہ واہ کی تکرار شروع ہو جاتی ہے- ہمارے دوستوں  کو ہمارا یوں اچھل اچھل کر داد دینا کھلتا ہے کیونکہ ان کے بقول ہم ایسی ہی بھرپور داد فلمی گانوں کو سن کر بھی دیتے ہیں- ہمیں اپنی کج فہمی اور نا سخن شناسی کا اعتراف ہے لیکن اس سے یہ کیونکر  ثابت  ہوا کہ آشفتہ سودائی اچھا شعر نہیں کہتے-یہ عیب ہمارا ہے، ان کا نہیں- ان کی ایک کتاب “شاعروں سے متعلق جدید محاورے” سے چند محاورے ملاحظہ ہوں-

 

شاعر کیا چاہے– ایک سامع

شاعر کے خواب میں– مشاعرے

بھاگتےسامع کو ایک  مصرع ہی سہی

جس کی پہنچ اس کا مشاعرہ

برا  شاعر ناظم کو ڈانٹے

نثر نگار بننے چلا شاعر، نثر بھی بھول گیا

شاعر کے شعر، پڑھنے کے اور چھپوانے کے اور

 

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں