رو ہنگیا کے مہاجرین کی کشتی کو بچانے کی درخواست

جنوب مشرقی ایشیا کے ایک پارلیمنٹ ممبر نے درخواست کی ہے کہ دو سو افراد پر مشتمل مہاجرین کی کشتی جو کہ سمندر کی خطرناک لہروں میں بھٹک رہی ہے کو بچایا جائے۔یہ کشتی دو ہفتے سے عورتوں اور بچوں کو لے کر سمندر کے مختلف حصوں میں دیکھی گئی ہے۔درخواست دینے والے گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں رپورٹ ملی ہے کہ یہ کشتی تھائی لینڈ، انڈو نیشیا، ملائیشیا اور ہندوستان کے سمندروں اور جھیلوں کے علاقوں میں دیکھی گئی ہے۔
دنیا کے مصروف ترین جھیلوں انڈاماس اور مالاکا جھیلوں کے علاقوں میں اس کشتی کو دکھا گیا ہے۔
ایوا سنڈری نے کا ہے کہ ہم آسیان کے ممبر ممالک سے جلد از جلد کشتی کا ریسکیوآپریشن کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔وہ انڈو نیشیا کی قومی اسمبلی میں خدمات سر انجام دے چکی ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیم کی رکن ہیں۔ٓسیان جنوب مشرقی ریاستوں کی کو آپریٹو تنظیم ہے۔وہ کہتی ہیں کہ یہ بات باعث شرم ہے کہ ایک کشتی میں عورتوں اور بچوں کو یوں جانے دیا گیا۔
ان مسلمانوں کا تعلق روہنگیا سے ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہر سال یہ وہاں کے مظالم سے تنگ آکر مہنگے کرائے ادا کر کے اندو نیشیا اور ملائشیا میں ہجرت کر جاتے ہیں۔
جبکہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں ایک ملین کے قریب رہنگیا کے پناہ گزین موجود ہیں جو سخت بھیڑ اور خراب حالات کی وجہ سے وہاں سے پھر دوسرے ممالک کی جانب بھاگ جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
NTB/UFN

اپنا تبصرہ بھیجیں