دہشت گرد

مہر افروز

اسکی پیروں کی بیڑیوں کی کھنکھناہٹ بڑی ڈراونی تھی۔
terro
امتحان ہال کے تمام دروبام پرگونجتی، ہال میں موجود سو آنکھیں بیک وقت اسکی طرف اٹھیں۔خوف! دہشت ! تعجب ! ترحم!حقارت ! غصہ ! حسرت! سوال! کیا نہ تھا؟ ہر آنکھ کا جذبہ الگ!
ہاں سب وہی تھے۔ اسکے اپنے ساتھی! چار سال پہلے والے ! جن کے ساتھ وہ پڑھا کرتا ایم۔بی۔بی۔ایس کے پہلے سال میں!
صوبے میں اول اانے والا لڑکا جسکا میڈیکل رینکنگ نمبرایک تھا۔ اور جس نے اپنے شہر کی میڈیکل کالج کا پہلا سیٹ پہلے دن پہلی گھڑی میں لیا تھا۔
C.E.T.کانسلنگ سیل میں موجود ہجوم کی ہر آنکھ میں محسین ! احترام!فخر! مبارکباد! خوشی ! اور جانے کیا کیا تھا۔ جیسے ہی اس نے کمپیوٹر کا بٹن دبا کر میڈیکل کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ ! وہ وہاں جاکر اپنے رب کے سامنے جھک گیا اس نے کہا شکر الحمد اللہ !
پہلا سال اس نے ٹاپ کیا!
دوسرے سال وہ اپنی ریاست بھر میں ٹاپ پر تھا!
تیسرا سال ، پہلا سمسٹر اسکی توجہ ہٹی
میں کون ہوں؟میں کیا ہوں! میرا وجود کیا ہے! کیا میں اسی لئے بنایا گیا ہوں! کہ کمندوں پر کمندیں ڈالوں اور ریکارڈ توڑوں؟
یہ سوال اسے پریشان کرنے لگے۔ مظلوموں کی آہیں اسے بے چین کرنے لگیں۔
اس نے ایک اجتماع میں شرکت کرلی۔ ڈھرے ساری مذہبی کتابیں لے آیا۔
اس نے شرع رکھ لی۔ لباس بدل گیا۔ اور پیرشانی پر چھوٹے سیاہ دھبے نمودار ہوئے۔
چوتھے سال کے دوسرے سمسٹر میں قدم رکھتے ہی اسے گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیکل ڈین کے بیٹے کو اول آنا تھا۔ اسکی مذہبی کتابیں دہشت گردی کے نام پر ضبط کر لی گئیں۔ آج وہ اپنی فائنل ایگزام ااخری جیل سے دینے کے لئے آیا تھا۔
وہ دہشت گرد تھا۔
کیونکہ وہ رضی الدنیا تھا اور اسے تمغے سمیٹنے اور مذہبی ہونے کا بیک وقت حق نہ تھا۔
Afroza.M.Kathiawari
Co-ordinator,
British Council Trainings,
DIET, Dharwad.Karnatak,India
h

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں