’جس سلطنت کی تم مردوں کی طرح حفاظت نہ کرسکے، اس کے چِھن جانے پر اب عورتوں کی طرح آنسو نہ بہاﺅ‘ یہ مشہور ترین جملہ کس مسلمان بادشاہ کی ماں نے اسے کیوں اور کب کہا؟ وہ بات جو ہمارے حکمرانوں کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

1

711ءمیں اسلام آئیبیرین خطے میں داخل ہوا اور سپین میں ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی جو صدیوں تک قائم رہی۔ 900ءکے وسط تک اس خطے میں اسلام اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا اور اندلس میں مسلمانوں کی آبادی 5لاکھ سے زائد تھی جو پوری سلطنت کی آبادی کا 80فیصد تھی۔پھر مسلمانوں کی نااتفاقی نے ان کے زوال کی بنیاد رکھ دی اور 1000ءسے 1200ءکے درمیان یہاں وسیع علاقے پر مسیحی سلطنتیں قابض ہوتی گئیں اور علاقے مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتے گئے۔ یہاں مسلمانوں کی آخری سلطنت غرناطہ (Granda)تھی جو چاروں طرف سے مسیحی سلطنتوں میں گھری ہوئی تھی۔ 1482ءمیں سلطنت غرناطہ اور سپین کی مسیحی سلطنت میں جنگ شروع ہوگئی۔

اس وقت غرناطہ کی مسلم سلطنت کا حکمران سلطان محمد تھا۔ سلطان محمد نے مسیحی فوجوں کی جارحیت میں مزاحم ہونے کا فیصلہ کیا اور شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی دیگر مسلمان سلطنتوں سے مدد کی درخواست کی، لیکن کوئی بھی سلطان محمد کی مدد کو نہ آیا۔صرف سلطنت عثمانیہ کی مختصر سی فوج نے سپین کے ساحل پر حملہ کیا جس سے مسیحی فوجوں کو انتہائی معمولی نقصان ہوا۔ 1491ءتک فرڈیننڈ اور ازابیلا کی فوجیں اس قدر آگے آ گئیں کہ انہوں نے غرناطہ شہر کا محاصرہ کر لیا۔ سلطان محمد اپنے محل سے ان کی فوجوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ سکتا تھا جو جنگ کرنے اور شہر فتح کرنے کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھیں۔یہ صورتحال دیکھ کر سلطان محمد مسیحی فوجوں کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا اور نومبر 1491ءمیں شہر ان کے حوالے کر دیا۔

2جنوری 1492ءمیں یہ معاہدہ نافذ العمل ہوا اور ہسپانوی فوجیں غرناطہ میں داخل ہو گئیں۔انہوں نے سلطان محمد کو جلاوطن کر دیا۔ جب سلطان محمد اپنے اہلخانہ کے ساتھ غرناطہ چھوڑ کر جا رہا تھا تو شہر سے دور ایک پہاڑ پر پہنچ کر وہ واپس پلٹے اور مڑ کر غرناطہ پر ایک نظر ڈالی اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس موقع پر ان کی والدہ نے انہیں ایک ایسا جملہ کہا جو تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے اور ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ سلطان کو ان کی والدہ نے کہا کہ ”جس شہر کی تم مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو مت بہاﺅ۔“اگرچہ مسیحی فوجوں نے وعدہ کیا تھا کہ مسلمان غرناطہ میں محفوظ رہیں گے اور انہیں مذہبی آزادی حاصل ہو گی لیکن جلد ہی یہ وعدہ انہوں نے توڑ دیا۔ 1502ءمیں سرکاری طور پر وہاں اسلام پر پابندی عائد کر دی گئی اور لاکھوں مسلمانوں کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ 1600ءکے آغاز تک غرناطہ میں ایک بھی مسلمان باقی نہ رہا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں