جادو کے علاج کی اقسام

جسے جادوکر کے کسی کےمخالف کردیا گیا اور یا پھر کسی کی طرف جھکاؤ ہو تو اس کا علاج کیا ہے؟
اور مومن کے لۓ اس سے بچاؤ کس طرح ممکن ہے کہ یہ فعل اسے نقصان نہ دے اور کیا اس کے لۓ دعائیں یا پھر قرآن میں کوئی اذکار ہیں ؟
الحمدللہ

علاج کی کئی قسمیں ہیں :

اول: یہ دیکھا جائے گا جادوگر نے جادو کس چیز میں کیا ہے اگر اس کا پتہ چل جائے کہ اس نے کسی جگہ میں بالوں پر یا کنگھی کے دندانوں پر یا اس کے علاوہ کسی اور چیز پر کیا ہے جب یہ پتہ چل جائے کہ فلاں جگہ پر رکھا ہے تو اس چیز کو زائل کر دیا اور جلا دیا اور تلف کر دیا جائے تو جو کیا گیا ہے وہ ختم اور جو جادو گر کا ارادہ تھا وہ زائل ہو جائے گا ۔

دوم : یہ کہ اگر جادوگر کا پتہ چل جائے تو اس پر لازم کیا جائے کہ جو اس نے کیا ہے وہ اسے زائل کرے تو اسے یہ کہا جائے گا کہ یا تو اسے جو کہ تو نے کیا ہے اسے زائل کر دے یا پھر تیری گردن مار دی جائے گی تو پھر جب وہ اسے ختم کر دے تو اسے ولی الامر اس کی گردن اڑاۓ گا کیونکہ صحیح مسئلہ یہی ہے کہ جادوگر کو بغیر توبہ کے قتل کیا جائے گا جیسا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا ۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :

“جادوگر کی حد تلوار سے اس کی گردن اڑانی ہے ” ۔

اور جب حضرت ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا کہ ان کی لونڈی جادو کرتی ہے تو انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔

سوم : پڑھائی کا جادو کے ختم کرنے میں بہت بڑا اثر ہے اور وہ اس طرح کہ جس پر جادو کیا گیا ہے اس پر یا پھر ایک برتن میں آیۃ الکرسی اور سورت اعراف اور یونس اور مریم جو جادو کی آیات اور اس کے ساتھ سورت کافرون اور اخلاص اور الفلق اور الناس پڑھے اور اس کی عافیت اور شفاء کی دعاء کرے اور خاص طور پر وہ دعاء جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے وہ پڑھے :

” اللهم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاؤك لا يغادر سقما ”

( اے لوگوں کے رب تکلیف دور کر دے اور شفا یابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ایسی شفاء نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے”

اور ایسے ہی وہ دم جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تھا :

” بسم الله ارقيك من كل شئ يؤذيك ومن شر كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك ”

(میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ”

تو اس دم کو تین مرتبہ کرے اور تین مرتبہ ” قل ھو اللہ احد ” اور معوذتین ” قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ” بھی تین مرتبہ دہراۓ اور ایسے ہی وہ پانی میں پڑھے جو ہم نے ذکر کیا ہے اور اس میں سے جسے جادو کیا گیا ہے وہ پیۓ اور باقی پانی سے غسل کرے یہ ایک یا اس سے زیادہ حسب ضرورت کرے تو ان شاء اللہ جادو کا اثر جاتا رہے گا یہ علاج علماء نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے مثلا شیخ عبدالرحمان بن حسن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ( فتح المجید شرح کتاب التوحید ) میں ( باب ما جاء فی النشرۃ ) منتر کے باب میں ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا ہے –

چہارم : سات بیری کے پتے کوٹ کر پانی میں ملائیں اور اس پر آیات اور سورتیں اور دعائیں پڑھیں جن کا ذکر پیچھے کیا گیا ہے تو یہ پانی پیا بھی جائے اور اس سے غسل بھی کرے اور ایسے ہی یہ اس کے علاج میں بھی نفع مند ہے جسے اس کی بیوی سے روکا گیا ہے تو سبز بیری کے سات پتے پانی میں رکھ کر اس پر مندرجہ بالا آیات و سورتیں اور دعائیں پڑھیں تو اللہ کے حکم سے یہ نافع ثابت ہو گا ۔

جادو والے مریض اور اس کے لۓ جسے اس کی بیوی سےروک دیا گیا ہو کہ وہ اس سے جماع نہ کر سکے اس کے لۓ پانی اور بیری کے پتوں پر جو آیات پڑھنی ہیں وہ ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:

1- سورت فاتحہ پڑھنی ہے –

2- سورت بقرہ میں سے آیۃ الکرسی پڑھنی اور وہ اللہ کا فرمان یہ ہے :

” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم لہ ما فی الارض من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بما شاء وسع کرسیہ السماوات والارض ولا یؤدہ حفظھما وھو العلی العظیم ”

( اللہ تعالی ہی معبود برحق ہےجس کے سوا کوئی معبود نہیں جوزندہ اور سب کا تھامنے والا ہے جسے نہ تو اونگھ آۓ اور نہ ہی نیند – آسمان وزمین میں تمام چیزیں اسی کی ملکیت ہیں کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے وہ جو انکے سامنے ہے اور جو انکے پیچھے ہے اس کے علم میں ہے وہ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی کی وسعت نے آسمانوں وزمین کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالی ان کی حفاظت سے نہ تو تھکتا اور نہ ہی اکتاتا ہے اور وہ بلند اور بہت بڑا ہے – (البقرہ 255)

3 – سورت اعراف کی یہ آیات پڑھیں :

” قال ان کنت جئت بآیۃ فات بھا ان کنت من الصادقین فالقی عصاہ فاذا ھی ثعبان مبین ونزع یدہ فاذا ھی بیضاہ للنظرین قال الملاء من قوم فرعون ان ھذا الساحر علیم یرید ان یخرجکم من ارضکم فماذا تامرون قالوا ارجہ واخاہ وارسل فی المدائن حاشرین یاتوک بکل ساحر علیم وجاء السحرۃ فرعون قالوا ان لنا لاجرا ان کنا نحن الغالبین قال نعم وانکم لمن المقربین قالوا یا موسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملقین قال القوا سحروا اعین الناس واسترھبوھم وجاء وبسحر عظیم واوحینا الی موسی ان الق عصاک فاذا ھی تلقف ما یافکون فوقع الحق وبطل ما کانوا یعلمون فغلبوا ھنالک وانقلبوا صاغرین والقی السحرۃ ساجدین قالوا امنا برب موسی وھارون” الاعراف 106-

(فرعون نے کہا ہے کہ اگر آپ کوئی معجزہ لے کر آۓ ہیں تو اس کو اب پیش کیجۓ اگر آپ سچے ہیں ؟ تو انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو دفعتا وہ صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا قوم فرعون کے جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بہت بڑا جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سر زمین سے نکال باہر کرے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو انہوں نے کہا آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دے دو اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجۓ کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کر دیں اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوۓ اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب ہو گۓ تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم سب مقرب لوگوں میں ہو جاؤ گے ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسی خواہ آپ ‌ڈالیں یا ہم ہی ڈالیں؟ ( موسی علیہ السلام ) کہنے لگے تم ہی ڈالو پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا اور ہم نے موسی علیہ السلام کو حکم دیا اپنی لاٹھی ڈال دیجۓ سو اس کا ڈالنا تھا کہ اس نے سارے بنے بناۓ کھیل کو نگھلنا شروع کر دیا پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب کچھ جاتا رہا پس وہ لوگ موقع پر ہار گۓ اور خوب ذلیل ہو کر پھرے اور جو ساحر تھے سجدہ میں گر گۓ اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاۓ جو موسی اور ہارون کا رب ہے ) الاعراف 106 122-

4 – سورت یونس کی مندرجہ ذیل آیات پڑھیں :

“وقال فرعون ائتونی بکل ساحر علیم فلما جاء السحرۃ قال لھم موسی القوا ما انتم ملقون فلما القوا قال موسی ما جئتم بہ السحر ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین ویحق الحق بکلماتہ ولو کرہ المجرمون ” یونس /79 82 –

( اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام جادوگروں کو حاضر کرو پھر جب جادوگر آۓ تو موسی علیہ السلام نے ان سے کہا ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو سو جب انہوں نے ڈالا تو موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کچھ تم لاۓ ہو جادو ہے یقینی بات یہ ہے اللہ تعالی اس کو ابھی درہم برہم کۓ دیتا ہے اللہ تعالی ایسے فسادیوں کا کام نہیں بننے دیتا )

3 – اور سورت طہ کی مندرجہ ذیل آیات پڑھیں :

“قالوا یا موسی اما ان تلقی واما ان نکون اول من القی قال بل القوا فاذا حبالھم وعصیھم یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی قلنا لا تخف انک انت الاعلی والق ما فی یمینک تلقف ما صنعوا انما صنعوا کید ساحر ولا یفلح الساحر حیث اتی ” طہ 65 69 –

( کہنے لگے اے موسی یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسی علیہ السلام کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ دوڑ رہی ہیں پس موسی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا ہم نے فرمایا خوف نہ کر یقینا تو ہی غالب اور برتر رہے گا اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے انہوں نے جو کچھ بنایا ہے صرف یہ جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا )

6- سورۃ الکافرین کو پڑھیں ۔

7 – سورۃ الاخلاص اور معوذتین (فلق اور الناس)

8 – بعض شرعی دعائیں پڑھنا مثلا :

“اللھم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاؤک شفاء لا یغادر سقما ” تین بار پڑھے ۔

( اے اللہ لوگوں کے رب تکلیف دور کر دے اور شفا یابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے ) اسے تین بار پڑھے تو اچھا ہے –

اور اگر ہو سکے ساتھ یہ بھی تین بار پڑھے تو بہتر ہے :

” بسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک ومن شر کل نفس او عین حاسد اللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک ۔

( میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ) ۔

اور اگر مندرجہ بالا آیات اور دعائیں مریض کے اوپر پڑھتے جائیں اور اس کے سینے اور سر پر دم کرے تو یہ ان شاء اللہ اللہ کے حکم سے شفا کے اسباب میں سے ہے ۔ .

کتاب : مجموع فتاوی ومقالات متنوعہ ۔ ، تالیف ” فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی – م / 8 ص / 144

اپنا تبصرہ لکھیں