تقریب رونمائی منزلوں کی کہکشاں

تقریب رونمائی منزلوں کی کہکشاں

تحریر احسان شیخ اوسلو ناروے

تقریب رونمائی منزلوں کی کہکشاں

اپریل بروز ہفتہ شازیہ عندلیب کی کتاب منزلوں کی کہکشاں ، کی رونمائی اوسلو کی ابھرتی ہوئی ادبی تنظیم ،دریچہ ، کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔راقم نے کتاب کے بارے میں اپنے خیالات و تاثرات پیش  کیے۔جو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔منزلوں کی کہکشاں ایک معلوماتی اور مشاہداتی تخلیق ہے۔جس میں شازیہ عندلیب صاحبہ نے اپنی زندگی کے سفر کے حوالے سے معاشرتی ارتقاء کی بنیاد پر خدا کی زمین کے کچھ ٹکڑوں کے پس منظر ،جغرافیائی محل وقوع وہاں پر بسنے والوں کی معاشرت اور مزاج کو اپنے مشاہدات ،تجربات اور علم کے حوالے سے قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے معاشروں کے سماجی ،سیاسی، معاشرتی اور ادبی پہلوئوں کو اس طرح سے اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔جس کے ذریعے سے قاری کو نہ صرف معاشرے کی تاریخ اور جغرافیہ سے شناسائی ہو بلکہ  وہاں کی  معاشرت سے بھی آگاہی ہو سکے ۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے قاری کی طبع کے لیے تفنن بھی میہاء کیا ہے ۔ بعض سچائیوں کو اس قدر خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ جس میں ان کے مزاج کا درد بھی موجود ہے۔یہ ایک روائیتی سفرنامہ نہیں جس میں مصنف اپنے سفر کے دوران ہونے والے روزمرہ کے واقعات قلمبند کرتا ہے۔میرے نزدیک منزلوں کی کہکشاں ایک         Anthropolog  اور          Socialogical   اسٹڈیز کا امتزاج ہے کیونکہ اس میں دونوں پہلو یعنی               objective    اور subjective    نمایاں ہیں۔بحیثیت قاری مجھے ان کی اس اپروچ نے خاصا متاثر کیا۔ بعض اوقات پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کی مصنفہ لوگوں کی  معاشرت  ان کے  مزاج اور طریقہء زندگی کا ذکر کرتے ہوئے اپنا نہیں چھپا سکیں۔ اپنے مضمون ،جگنوئوں اور تتلیوں کا شہر اوسلو ، میں نارویجن لوگوں کے بارے میں رائے  دیتے ہوئے لکھتی ہیں  ، ان میں دو باتیں بہت بری ہیں۔میرے خیال میں کسی فرد یا معاشرے کو دیکھنے کے لیے سب کے اپنے حوالہ جات ہوتے ہیںلہٰذا جب اپنے معاشرتی طریقہء زندگی اور  اقدار کے حوالے سے یہاں کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہاں کے لوگوں میں کئی برائیاں نظر آتی ہیں۔ ایک بے حیائی اور دوسرے  حرام کھانا۔لیکن وقت کے ساتھ ہونے والی ترقی کے نتیجے میں انہی برائیوں کا عکس ہمیں اپنے معاشرے میں بھی نظر آتا ہے۔            207       صفحوں پر  محیط ، منزلوں کی کہکشاں  ، ایک   تصنیف ہے۔ جو بائیس عنوانات کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب عرض مصنفہ سے شروع ہو کر قارئین کی رائے پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔میرے نزدیک عرض مصنفہ ایک خوبصورت اور ادبی انداز میںتحریر کردہ وہ عرض ہے جو دل کو چھوتی ہے۔اپنی تصنیف کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں !اگر اس کتاب کو سفر نامہ کہا جائے تو یہ کسی ایک جگہ کا نہیں بلکہ وقت کا سفر ہے میری ذات کا سفر ہے۔میرے بچپن سے آج تک کا سفر ہے۔زندگی تو خود بھی ایک سفر ہے مگر یہ سفر مصنفہ نے پاکستان کے نو شہروں کے بارے میں لکھتے ہوئے وہاں کی تاریک جغرافیہ اور تہذیبی پہلو کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے مختلف شہروں  کے طریقہء زندگی اور لوگوں کے مزاجوں کا تقابلی جائزہ اس انداز سے لیا ہے کہ جس میں مزاح کا پہلو اتم محسوس ہوتا ہے۔دل والوں کا شہر لاہور کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے لکھتی ہیں۔لاہور کا نام شہروں میں بہت معتبر سمجھا جاتا ہے ۔ویسے تو فیصل آباد لاہور کا ہمسائیہ شہر ہے مگر ان دونوں شہروں کے ماحول اور تہذیب و تمدن میں بہت فرق ہے۔اگر اس کا پڑوسی شہر فیصل آباد جگت بازوں کا شہر ہے تو لاہور پتنگ بازوں اور فنکاروں کا شہر ہے۔اگر اسلام آباد شاہوں کا شہر ہے تو لاہور بادشاہوں کا۔پشاور اگر اپنے چپل کباب کے لیے مشہور ہے تو لاہور میں راوی کے کگھے شہرت رکھتے ہیں۔اہلیان کراچی نے اگر کنجوسی میں نام کمایا ہے تو لاہوری اپنی دریا دلی کے لیے جانے جاتے ہیں۔  وطن عزیز کے لیے اپنے حب کا اظہار کرتے ہوئے وہاں کے موجودہ حالات کا ذکر اس طرح سے کیا ہے جس میں دکھ کا عنصر نمایانظر آتا ہے۔لکھتی ہیں۔لاہور شہر میں کل تیرہ دروازے ہیں۔یہ دروازے قدیم وقتوں میں شہر کی حفاظت کے لیے بنائے جاتے تھے۔اسلام سے قبل عیسوی دور میںشہروں کے گرد فصیلیں  اور دروازے تعمیر کرنے کا ذکر ملتا ہے۔یہ دروازے درندوں،دشمنوں اور ڈداکوئوں سے شہریوں کو بچانے کے لیے بنائے جاتے تھے۔آج پاکستان میں پھر وہی پرانا دور لوٹ آیا ہے۔اب ہمیں پھر سے شہریوں کو محفوظ کرنے کے لیے دروازوں اور دیواروں کی تعمیر کی ضرورت ہے۔اس لیے کہ آج پھر وطن عزیز انسان نماء درندوں اوڈکوئوں کے نرغے میں ہے۔حکومت پر تو وہ مقولہ صادق آتا ہے چور اچکے چوہدری تے لنڈی رن پردھاناسی طرح مصنفہ نے دیگر شہروں پر رائے زنی کرتے ہوئے وہاں کے ماحول اور مزاج کو اس طرح بیان کیا ہے کہ پڑہتے ہوئے قاری کے منہ کا ذئقہ واقعی تبدیل ہو جاتا ہے۔فیصل آباد کے مختلف علاقوں کے ناموں کا ذکر ،کراچی کے لوگوں کا مزاج ،پی آئی اے کا دوران سفر ماحول اسکی کچھ مثالیں ہیں۔اجتماعی طور پر منزلوں کی کہکشاںایک خوبصورت کاوش ہے جس کا ہر مضمون قاری کی بھرپور توجہ حاصل کرتا ہے اور یہی ایک مصنف کی کامیابی ہے۔میں محترمہ شازیہ عندلیب کو اس کے لیے دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان

کے لیے دعا گو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ گاہے بگاہے ہمیں اپنی تصنیفات سے مستفید کرتی رہیں گی۔


 

2 تبصرے “تقریب رونمائی منزلوں کی کہکشاں

  1. shazia ji ko unki kitab ki bohat bohat mubarak bad, bohat achi kitab jise bar bar parhane ko dil karta hai Allaah bless you shazia ji …. daricha ki janib se inki kitab ki rohnumai ki taqreeb bohat achi rahi … uncle ehsan ji ne is taqreeb ke bare main bohat acha article humarey parhaney ke liye likha hai … thanks for sharing your thoughts …
    Farah ..

اپنا تبصرہ بھیجیں