تحفہ دینے والا زیادہ ٹھیک کہتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
! انتخاب خدیجۃالکبرٰی

کبھی کبھی لگتا ہے موسیٰؑ ٹھیک ہی کہتے تھے۔
جب کبھی کوئی شدید مصروفیت رات کو دیر تک جگائے رکھے، جب کوئی طویل سفر شدید تھکا ڈالے، جب پڑھائی کی، کام کی پرمشقت روٹین چُور کر دے۔ تو ٹوٹتے بدن کے ساتھ ہر رکعت میں بار بار اٹھنا بیٹھنا۔۔۔مشکل لگتا ہے نا۔ تب لگتا ہے موسیٰؑ ٹھیک ہی کہتے تھے۔
جب وہ آسمان پہ راستے میں میرے اور آپ کے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو روک کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کہنے لگے تھے، “اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی قوم کو روزانہ پانچ نمازیں پڑھنا بار ہوں گی۔ انہیں اپنے رب سے کم کروا آئیے۔” مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مہربان رب سے حیا آ گئی۔ تحفے بار بار واپس تھوڑا ہی کیے جاتے ہیں؟ وہ بھی اپنے رب کے! وہ بھی وہ جو عرش پہ اپنے قریب بلا کر دیے گئے ہوں!!
تحفے تو دلوں میں بسا کر رکھے جاتے ہیں۔ سانسوں میں اتار کر۔ اور یہ نماز کا تحفہ! اس کی ٹھنڈک تو آنکھوں میں مسکراتی ہے۔ تلخئ دوراں کی تمازت کو دل کے اندر تک سے دھو دیتی ہے۔
مگر کبھی کبھی۔۔۔جب تھکن بےحال کر دے تو آسمانوں پہ کھڑے موسیًٰ یاد آتے ہیں۔ تب لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہتے تھے۔
مجھے زوردار حیرت ہوئی جب قرآن پڑھتے پڑھتے میں اس آیت پہ پہنچی،
“صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے۔”
واقعی اللہ؟
یہ آپ نے کہا؟
قرآن کیسے آپ کے دل ساری باتیں جان لیتا ہے؟ سارے سوالات، سارے شکوے۔۔۔آپ کو جج نہیں کرتا۔ آپ کو ‘انسان’ سمجھتا ہے۔
تو پھر اللہ، آپ نے خود ہی تو کہا کہ ہم کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ یعنی یہ مشکل تو ہے لیکن ہمارے بس میں ہے۔ تو پھر ہم کیسے اس مشکل پہ قابو پا سکتے ہیں؟
میں نے آگے پڑھا:
“مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخرکار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ جانا ہے۔”
(البقرہ: 45-46)
یعنی نماز نافرمان لوگوں کے لیے مشکل ہوتی ہے۔ جو لوگ نیکیاں کرتے ہیں، ان کی نیکیاں ان کے لیے اگلی نیکیاں آسان کر دیتی ہیں۔ اور جو گناہ کرتے ہیں، ان کے لیے اگلے گناہ آسان ہو جاتے ہیں اور نیکیاں مشکل۔ تو جب نماز مشکل لگے تو سوچنا چاہیے کہ ہم نے کون سا گناہ کیا اور کب؟ اور صدقِ دل سے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
اور نماز تو ایک یاد ہے، ایک ریہرسل ہے اس ملاقات کی جو ہم نے اللہ سے کرنی ہے۔۔۔روزِ جزا کو۔ اگر ہم دنیا میں اللہ سے اچھی میل ملاقات رکھیں گے تو اللہ بھی ہم سے کل شوق سے اور اچھی ملاقات کرے گا۔ اگر ہم اللہ سے آج ملنا پسند کریں گے تو اللہ بھی کل ہم سے ملنا پسند کرے گا۔ اگر ہم آج اللہ کو بھلا دیں گے جب کہ اللہ کو ہماری ضرورت بھی نہیں ہے تو اللہ بھی کل ہمیں بھلا دے گا جب ہمیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی۔ جب پہاڑوں کے سینے پھٹے ہوئے، جب انسانوں کے دل کٹے ہوئے اور آنکھیں ابلی پڑتی ہوں گی، اس دن۔۔۔ہاں اس دن!!
نماز تو کل کی ملاقات کا ایک حصہ ہے۔ آپ کسی سے ملنے سے پہلے اسے فون نہیں کرتے؟ اگر آپ محض فون برائے فون کریں گے تو یقیناً ایک عرصے کے بعد اکتا جائیں گے۔ مگر جب آپ کو معلوم ہو گا کہ اس کے بعد آپ نے ملنا ہے اور پھر اسی کے پاس رہنا ہے تو آپ اچھی دوستی قائم کرنا چاہیں گے۔
نماز ایک بکنگ ہے۔ جو آپ کو کل چاہیے، وہ آج مانگ لیں۔
زندگی کا خوبصورت ترین ہو گا وہ لمحہ جب ہم اللہ جی سے ملیں گے!
اس دن کو جتنا یادگار بنانا ہے، اتنا نمازوں کو خوبصورت بنا لیں!
یہی بات، یہی آیت ہماری تھکن سے چُور حالت میں بھی نمازوں کو آسان بنا دیتی ہے۔ کہ آخرت کی تھکن اس سے زیادہ سخت ہو گی!
تب احساس ہوتا ہے کہ موسیٰؑ نے بھی ٹھیک ہی کہا ہو گا۔ مگر تحفہ دینے والا زیادہ ٹھیک کہتا تھا!!

مریم خالد
#طائرِحرم

اپنا تبصرہ لکھیں