تارکین وطن کے مسائل

تارکین وطن کے مسائل

تارکین وطن میں بیروزگاری کا تناسب ابھی تک نارویجنوں کے مقابلے میں تین گنا ذیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ناروے میں تارکین وطن بی روزگاروں کے لیے ملازمت تلاش کرنا روز بروز ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ان میں سے اکثریت روزگار تلاش کرنے کا کام چھوڑ کر سماجی مدد کے اداروں میں درخواستیں دے رہے ہیں۔اکثریت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے ۔درخوست گزاروں کو انٹر ویو پر تو بلایا جاتا ہے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔یہ بات باشی موسیٰ نے بتائی جن کی ملازمت نارویجن معاشرے میں انٹٹیگریشن کے ادارے میں تھی۔انہوں نے کہا کہ سومالین مردوں میںکام کرنے کی عمومی اوسط  46-49 برس ہے جبکہ خواتین میں یہ اوسط  53    فیصد ہے۔جبکہ پاکستانی عام طور سے ساٹھ سال تک کی عمر تک کام کرنا پسند کرتے ہیں۔نارویجنوں کا تشخص اپنی ملازمتوں سے اس قدر جڑا ہوا ہے کہ تارکین وطن کو  مستقل کام ہی نہیںملتا۔جبکہ ملازمتوں کی صوتحال بھی غیر یقینی ہے۔بیشتر ملازمین کو ٹیکس کی ادائیگی کے بعد اتنی رقم ملتی ے جو انہیں کام کے  بغیر مل جاتی ہے۔اس لیے ذیادہ تر لوگ گھر بیٹھ کر یہ رقم وصول کرتے ہیں بجائے اس کہ کہ کام کر کے کمائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں