تارکین وطن کرایہ داروں سے امتیازی سلوک

تارکین وطن کرایہ داروں سے امتیازی سلوک

ایک مالک مکان نے ایسے کرایہ دار کو  فلیٹ دینے سے انکار کر دیا جسے نارویجن زبان نہیں آتی تھی۔اوئی وند نے برگن اخبار کو ایک انٹر ویو میں بتا یا کہ مکان کرا  یہ پر حاصل کرنے کے لیے افراد جب مکان دیکھنے آئے تو اس نے خواہش مند افراد کے نام مالک مکان کو بھیجے۔اس نے سوال کیا کہ کیا یہ افراد نارویجن جانتے ہیں جب اسے بتایا گیا کہ انہوں نے نارویجن زبان کا کورس کیا ہوا ہے مگر زبان پر عبور حاصل نہیں تو مالک مکان نے مکان کرائے پر دینے سے انکار کر دیا۔وہ یہ مکان تین  سال تک کرائے پر دینا چاہتا تھا۔کرایہ نامہ میں یہ درج ہے کہ مالک مکان کرایہ دار منتخب کرنے کا حق رکھتا ہے۔مالک مکان نے ای میل میں پراپرٹی ڈیلر کو لکھا کہ چونکہ ان لوگوں کو کرایہ نامے کی شرائط سمجھ نہیں آئیں اس لیے وہ انہیں کرایہ دار نہیں رکھ سکتا۔مالک مکان نے مزید کہا کہ جب وہ انہیں یہ نہیں سمجھا سکتا کہ ایمرجنسی میں استعمال ہونے والے آگ بجھانے والے آلات کہاں ہیں اور کیسے استعمال کیے جا سکتے ہیں تو وہ انہیں کیسے کچھ سمجھائے۔ناروے میں مکان کرائہ پر حاصل کرنے کے دوران فرقہ پرستی دیکھنے میں آتی ہے کئی لوگ افریقی افراد کو ،جلد کے رنگ اور نارویجن زبان کے برگن لحجے کی وجہ سے مکان کرایہ پر نہیں دیتے۔کرایہ دار  ایسوسی ایشن کے سربراہ    Stig Høgsath کا کہنا ہے کہ نارویجن زبان سے ناواقفیت  مکان کرایہ پر حاصل نہ کرنے کی بنیادی وجہ نہیں ہو سکتی۔کئی مکانوں کے مالکان نے کرایہ کے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں