برطانیہ میں بے وطنوں کی نئی امید

Homeless people sleeping on the streets of London

برطانیہ میں بے وطنوں کی نئی امید

برطانیہ میں بننے والا نیا قانون بے وطن لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو گا۔امیگریشن کے قانون کی وجہ سے کئی بے وطن و بے گھر افراد نئے سرے سے زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔ایک عرصہ سے برطانیہ میں رہائش کے بغیر بے وطن افراد حکام کی بے حسی کا شکار ہو رہے تھے۔ترجمان کے مطابق وہ لوگ جو اس نئے قانون کی رو سے فیضیاب ہو سکیں گے ان کی تعداد کم ہے۔ ایک محطاط اندازے کے مطابق پچھلے برس ایسے افراد کی تعداد ایک سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔کئی تارکین وطن حکام کی سختی کا نشانہ بن جاتے ہیںکچھ کو بغیر کسی امید کے کیمپوں میں محصور کر دیا جاتا ہے۔تاکہ کسی دوسرے ملک روانہ کیا جا سکے ۔جبکہ کئی افراد کو اپنے جیون ساتھی کے بغیر کئی برس گزارنے پڑتے ہیں۔ایک ایسے ہی بے وطن شخص سے  Mapping statelessness in UK   کی جانب سے جب انٹرویو لیا گیا تو اس نے کہا اسے کئی بار بھوکے رہ کر گزارہ کرنا پڑا۔وہ اس خوف سے ساری رات گھومتا رہتا کہ کہیں پولیس اسے پکڑ نہ لے یا پھر وہ نوسر بازوں کے ہتھے ہی نہ چڑھ جائے۔وہ رات کے دس بجے سے صبح کے نو بجے تک گھومتا رہتا تھا۔کیونکہ اس کے پا س  سر چھپانے کی کوئی محفوظ جگہ نہیں تھی۔اس کے کاغذات میںیہ فیصلہ درج ہے کہ وہ بے گھر فرد ہے اور مدد کا مستحق ہے مگر نئے قانون سے پہلے برطانیہ میں اس قسم کی مدد کا تعین کرنا مشکل تھا۔چنانچہ اسی ادارے کی کئی ماہ کی انتھک محنت سے نیا قانون تشکیل دیا گیا۔اس قانون کی انٹر نیشنل کنونشن نے بھی تائید کی ہے۔اس نئے قانون کی وجہ سے ان کیسوں کو بھی حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو طویل عرصہ سے عدالتوں میں التوا ء کا شکار ہیں۔

 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں