Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

ا ب مشاعرے یوں ہونے لگے

ا ب مشاعرے یوں ہونے لگے

مہتاب قدر
مشاعرے جو کبھی تہذیب گاہ ہوا کرتے تھے وقت اور حالات کے ساتھ اپنی اصل ہیئت کھوتے جارہے ہیں۔عالمی مشاعروں کا ایسا رواج بڑھا کے اب ہندوستان و پاکستان کے علاوہ یورپ امریکہ اور خلیجی ملکوں میں عالمی مشاعرے اور آے دن ایوارڈز کی تقسیم ہمارے آج کے شعرا کی ہمت افزائی کے علاوہ ان کے ذرایع آمدنی کا بھی اچھا خاصا سبب بن گئی ہے،خیر! اس میں کوئی برائی بھی نہیں ۔
ایک بین الاقوامی شاعر نے جوکئی برس پہلے مشاعرہ پڑھنے جدہ تشریف لائے تھے ،ان کی عارضی قیامگاہ پر ہماری ملاقات کے دوران جب مشاعروں میں ہونے والی نو ٹونکیوں کا ذکر آیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اب مشاعرے ہماری تہذیب کی علامت نہیں رہے بلکہ تہذیب کا جشن بن گئے ہیں ، یہاں موصوف نے تکلف سے کا م لیا ورنہ ہمارے تجربے اور مشاہدے میں تو مشاعرے بدتہذیبی کا موثر اظہار بن گئے ہیں۔مشاعروں میں بڑے اور چھوٹے کا معیار شاعری کی قد وقامت سے نہیں بلکہ شاعر کی شہرت اور اس کے ترنم یا چیخ پکار کی مہارت سے ناپا جانے لگاہے۔اداکاری اور بھیک منگا پن شاعری پر غالب آگئے ہیں جو فنکار اِس فن سے واقف نہیں وہ عالمی مشاعروں کا کامیاب شاعر نہیں بن سکتا۔ “حضرات دعاں سے نواز دی جیئے” ، کوئی کہتا ہے” آپ کو اپنے بچوں کی قسم داد دیتے جائیے “۔ کوئی چیخ چیخ کر آسما ن سرپر اٹھا لیتا ہے اور یہ کہہ کر سامعین کی سماعتوں کی توہین کیے جا رہا ہے، کہ ” داد دیجئے شعر گھر جاکر سمجھ لینا “۔۔۔واہ واہ سامعین کے دل گردے کی داد دینی پڑتی ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی برداشت کر لیتے ہیں جو انکے ذوقِ سماعت کا اس طرح انکے منہ پر مذاق اڑاتے ہیں۔
حضرات ! غزل اپنے دامن میں بڑی وسعت رکھتی ہے اب غزل صرف محبوب سے بات کرنے کا نام نہ رہی بلکہ زندگی کے تمام معاشرتی ، سماجی اور سیاسی مسائل نے اس میں سج کرغزل کو دھنک رنگ بنا دیا ہے ا اور یہی غزل کی زندگی اور آفاقیت کی علامت ہے مگر بعض شعرا  نے ماں کے تقدس کو استعمال کرکے داد بٹورنے کا ذریعہ بنایا ، چاہے انہوں نے اپنی ماں کے ساتھ جیسا بھی رویہ برتا ہو ،ہر شاعر ماں پر شعر سناے بغیر نہیں رہتا اسے معلوم ہے کہ کسی شعر پر داد ملے نہ ملے اس موضوع پر ضرور ملے گی،غزل میں وہ ماں کاذکر ایسے متاثر کن انداز میں کرتا ہے کہ لوگ داد دینے پر مجبور ہو جائیں۔ سیاسی اورسماجی موضوعات پر عام سامع کے جذبات سے کھیلنے والے یہ شاعر اپنی آئیندہ مشاعروں کی دعوت کی ضمانت پکی کر جاتے ہیں جنہیں بھولی بھالی عوام جو مشاعروں میں اپنا وقت گزا رنے اور تفریح کرنے آتی ہے داد و تحسین بلکہ تالیوں سے جو مشاعروں کی تہذیب کے مغائر ہے نوازتی رہتی ہے۔یقیناایسے سامعین کی تعداد مشاعروں میں اچھی خاصی ہوتی ہے جنہیں مشاعروں کی روایات کا علم نہیں یا وہ داد دینے کے ڈھنگ سے واقف نہیں ہوتے ،یہ نام نہاد بڑے شعرا نازک اور حساس قومی اور مذہبی موضوعات پر بڑی چابک دستی اور چالاکی سے اپنا دامن بچاتے ہوئے ایسے شعر سنا تے ہیں کہ سیدھے سادے سامعین کے جذبات اور احساسات میں اضطراب اور ہیجان کی کیفیت پیدا ہو جائے اور انہیں بار بار شعرپڑھنے کی دعوت دی جاتی رہے۔
حالیہ مشاہدے کے مطابق ایک ستر سالہ بڑے شاعر نے جو نظامت بھی فرماتے ہیں بلکہ فرمارہے تھے ،اپنے لباس اور نازو انداز سے جواں سال نظرآنے والی شاعر ہ کو مخاطب کرکے فرمایا ، تیری آنکھوں میں اترنا چاہتا ہوں ۔۔۔اب میں حد سے گزرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔(انہی الفاظ پر مشتمل شعر تھا جو مجھے کوفت کے باعث یاد نہ رہا)، اگروہ براہ راست شاعرہ سے مخاطب نہ ہوتے یا اس کا ذکر نہ کرتے کہ یہ میری دوست ہیں یہ شعر انکی نذر کر رہا ہوں تو شاید شعر سنے جا سکتے تھے مگر ایسا نہیں تھا مخاطب کا تعین کرکے ایسا کہنا۔۔ اف!! خواتین کی موجود گی میں اتنی بدتمیزی شاید اپنے ملکوں میں روا رکھی جاتی ہو مگر ان شہروں میں لوگ اپنی گھروالیوں اور بیٹیوں کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں، ان کے احساسات پر کیا گزرتی ہوگی اور ایک شاعر کا کیا تصور ان کے ذہنوں میں جگہ لیتا ہوگا جبکہ انہیں ایک جواں سال نہیں عمر رسیدہ شاعر سے یہ کلمات سننے کو ملتے ہوں۔ابھی گل و بلبل اور لب و رخسار کی روایتی شاعری نے دم نہیں توڑااب بھی ہماری روایات زندہ ہیں، مگر بولنے کے بھی انداز ہوتے ہیں ، کب ،کہاں اور کیسے بولا جائے اس کے اپنے آداب ہوتے ہیں۔ خصوصا جن مشاعروں میں خواتین شریک ہوں جہاں ہماری بیٹیاں اپنے ذوق کی تسکین کا سامان ڈھونڈنے آجائیں اگر وہاں بھی فلمی انداز کے مکالمے ہوں تو انہیں مشاعروں میں آنے کے بجائے ایک ویڈیو یا “ہا و ہو ” والے چینل پر کچھ دیکھ لینے میں کیا قباحت نظر آسکتی ہے۔ گروپ بندیوں کا شکار یہ ناظمینِ مشاعرہ صرف اپنے گروپ کے شاعر کا تعارف خوب ڈھنگ سے کرواتے ہیں اور دیگر شعرا کو ایسے بلاتے ہیں جیسے جانتے تک نہ ہوں۔ ہمارے دیس میں باصلاحیت شعرا اور اچھے ناظموں کی کمی نہیں مگر اس کا کیا کِیا جائے کہ ہماری مشاعرہ کمیٹیوں میں ایسے لوگ زیادہ اثر رکھتے ہیں جنہیں شعرا کی پرکھ نہیں یا شعری مذاق سے انکا کوئی علاقہ نہیں۔شعرا کے انتخاب نے رسوا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ، دیکھا گیا ہے کہ ناظمِ مشاعرہ بار بار منتظمین کا تعار ف ایسے کرواتا ہے جیسے سامعین کی سماعتوں پر اس کو بھروسہ نہ ہو شاید اسی لئے ہر پندرہ منٹ بعد اعلان ہوتا ہے کہ اس مشاعرے کی صدارت فلاں فرمارہے ہیں ا ور مہمانِ خصوصی فلاں ہیں اور مشاعرہ کو فلا ں فلاں صاحبان نے منعقد کیا ہے۔
متشاعروں اور متشاعرات کا تو ذکر ہی کیا کہ ہمارے بعض اساتذہ کے سبب انکا یہ بازارِ بدتمیزی چمک پڑا ہے، غلطی اساتذہ کی نہیں منتظمین کی ہے جنہوں نے ان اساتذہ کا حق مار کر متشاعرات کو مشاعروں کی سیج پر سجایا مجبورا ان اساتذہ کو اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے خوش گلو جوان بچے اور خوبصورت یا قبول صورت مترنم بچیوں کو پالنا پڑا ، تربیت دینی پڑی اور وہی اساتذہ اپنے تلامذہ کے سبب مشاعروں میں بلائے جانے لگے۔
نئے شعرا کو بلا کر تجربے کئے جا سکتے ہیں مگر تجربہ کرنے والے بھی شعرا ہونے چاہیے۔جیسے دین میں اجتہاد کوئی حافظ وقاری نہیں فقیہ کرتا ہے، اسی طرح مشاعروں کے معاملات میں بھی مقامی اور دیگر تجربہ کارشعرا سے مشورے لینا اور انہیں اپنے ساتھ شامل رکھنا آئندہ مشاعروں کے معیار کو بڑھانے اور شعری اور ادبی خدمت کا حق ادا کرنے کے لئے اتناہی ناگزیر ہے جتنا گاڑی میں ڈالنے کیلئے صحیح ایندھن کا انتخاب۔
شکریہ

مہتاب قدر
Mahtab Qadr

میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں
میرا  اصلی   وطن   مدینہ

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں