ایک کن کا سوال ہے

ایک کن کا سوال

ہےاللہ میاں جی

مسرت افتخار ناروے

دعا مانگنے میں دیر لگ جاتی ہے۔مگر اللہ میاں جی آپ کو کن کہنے میں وقت نہیں لگتا۔ساری دنیا ایک کن بول کر بنا دی ربّ العالمین۔اب اسی دنیا کو ذرا ری نیو کر دیجیے۔چونکہ زندگی بھر آپ سے صرف دعائیں مانگی ہیں۔آپ سے مخاطب ہو کر گفتگو کیسے کی جاتی ہے؟اسکا نہ مجھے طریقہ آتا ہے نہ سلیقہ آتا ہے نہ ہی پریکٹس ہے۔اس لیے سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے اور کیسے آغاز گفتگو کروں۔برا نہ منایئے گا اللہ میاں آپکی بنائی ہوئی دنیا ہے تو شکائیت بھی آپ ہی سے کرنی ہے،بلکہ شکائیتیں لگانی ہیں۔علامہ اقبال کو شاعری آتی تھی  الفاظ کا خزانہ بھی تھا۔آپ سے اللہ میاں جواب شکوہ جواب بھی کر ڈالا۔میں اس قابل کہاں کہ آپ سے مخاطب ہوئوں۔اور پھر شکائیتیں بھی کر ڈالوں۔گناھگار ہوں بس اس وقت ایک بات ذہن میں آ رہی ہے  وہ ہے اپنے گناہوں کا اعتراف  اور شرمندگی کی بھی جتنی   capacity   ہے وہ بھی plus      پلس کر کے آپکو شکائیتیں لگانے لگی ہوں۔اللہ میاں کوئی سننے والا ہی نہیں رہا تو ہی سمیع و علیم ہے  اور مجیب الدعا بھی ہے۔سنانے اور جواب لینے کی تسلی بھی آپ سے ہی ہو گی آ پ خالق بھی ہیں اور مالک بھی تو بتانے کا حق بھی آپکو ہی ہے۔آپ نے ہی دنیا بنائی ہے اور آپ کی ہی ساری مخلوق ہے۔کائنات اور جیالوں کا سسٹم بھی آپکا ہی ہے۔یا غفورالرّرحیم انتہائی ادب کے ساتھ وہ ادب جتنامیں نے ساری عمر سیکھا سبھی آپ کے لیے ہی ہے۔مودبانہ عرض و شکائیت ہے۔کہ دنیا کا تمام سسٹم خراب ہو گیا ہے اور  خرابی بھی ایک نہیںبلکہ خرابی اس طرح سے ہوئی ہے کہ اب ایک بھی ٹھیک نہیں رہا۔اور اب اسکو ٹھیک کرنا کسی انسان کے بس میں بھی نہیں رہا۔کوئی نظام کوئی سسٹم کوئی قانو ن نہیں رہا۔ہم جیسے عام انسان تو فریاد کا بھی حق گنوا بیٹھے ہیں۔سوچا تھا لوگ آپ سے ڈر کر آپ کے سامنے کا سوچ کر حساب کتاب کے ڈر سے سنبھل جائیں گے۔مگر مولا کریم معاف کیجیے گا لوگوں نے تو آپکو ہی ماننا چھوڑ دیا ہے۔غیر مسلموں کی تو ذرا سمجھ آتی ہے ان لوگوں کا تو مذہب ہی نہیں ہے جس نے آپکی بڑائی انکو سمجھائی ہو۔یا آپکا تعارف اس طرح سے کروایا ہو۔جتنی تفصیل سے اسلام نے آپکا بتایا ہے۔دنیائے عالم نے اب ایک نیا مذہب ہی سمجھیں بنا لیا ہے۔وہ ہے انسانیت ۔ وہ کہتے ہپں انسانیت انسان کو حسن سلوک سکھاتی ہے۔حالانکہ اللہ میاں جی قرآن میں آپ نے حسن سلوک کو اس طرح انسانوں کے ساتھ لازم و ملزوم بنا دیا ہے کہ آپکی عبادت میں کمی ہو جائے آپ سے معافی مل سکتی ہے۔مگر آپکی مخلوق کے ساتھ ذیادتی ہو جائے تو آپ نے معافی کا اختیار اپنے پاس نہیں رکھا۔بلکہ جس کے ساتھ ذیادتی ہو اسکو معاف کرنے کا اختیار دے دیا ہے  اور صاف بتا دیاکہ جب تک وہ انسان معاف نہ کرے اس شخص کو معافی نہیں مل سکتی جو ذیادتی کا مرتکب ہواہے۔اللہ میاں جی یہ مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے ان کو تو قرآن پاک کے ذریعے سسٹم آف لائف اور قانون زندگی واضع طور پربتایا ہے جو مسلمان اس لیے کہلاتے ہیںیہاں وہ آپ کو اور آپ کے سسٹم اور قانون کو مانتے ہیں۔پر اللہ میاں سسٹم تو ہے اور قانون بھی ہے پر اب وہ ماننے والے نہیں رہے۔وہ مسلمان جو کھاتے پیتے ہیں جن پر آپ مہربان بھی ہیں وہی سب سے ذیادہ بگڑ چکے ہیں۔اللہ میاں جی آپ ن بھی ایسے لوگوں کی ذیادہ ہی فیور دی ہے  وہی جو سب کو ذیادہ نمایاں نظر آتے ہیں معاف کیجیے گا وہ اب آپ سے نہیں ڈرتے۔اور آپکو تو معلوم ہے ساری خرابیء سسٹم صرف آپکو نہ ماننے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ساری برائیاں ظلم زیادتیاںکوتاہیاں غفلتیںآپکا سسٹم حضرت محمدۖکی پیروی نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔اور وہ غریب جو آپکو ماننے کے سوا کچھ نہیں جانتے نکی حالت آج یہ ہو گئی ہے کہ بقول اقبال برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پرفلسطین ہو،کشمیر، عراق یا  افغانستان ہو نام کے ہی رہ جانے والے ملک ہو کے رہ گئے ہیں۔پاکستان خاکن بدہن ان میں شامل نہیں۔لیکن کشمیر بھی کوئی نہیں چھوڑ رہا۔عالمی قوتوں سے بچتے ہیں تو آپ سیلاب بھیج دیتے ہیں۔ایسا لگتا ہے آپ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ امریکہ کو تو سپر پاور بنا دیا ہے ۔آپ کی بھی حمائیت اسی کو حاصل ہوتی ہے۔ آپ نے بھی سب کچھ اسی کو ہی دے ڈالا ہے۔دولت طاقت وسائل مقام حیثیت دنیا پر حکمرانی اور اسکا صدقہ ایشیا ء پر آفتیں،مصیبتیں سیلاب اور سونامی بھیج کر دیا ہے۔اب اللہ میاں جی سچ تو یہ ہے کہ جس کو آپ دکھ دیں اسے کون سکھ دے سکتا ہے۔ہمارا تو ایمان بھی آپ نے ہی بتا دیا ہے کہ آپکی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔سکھ کہاں سے حاصل ہو گا۔یا للہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام ہی دنیا کا سب سے آسان اور فطری مذہب ہے۔اور چونکہ فطری ہے اس لیے دنیا میں پھیل بھی تیزی سے رہا ہے۔مگر اللہ میاں جی اس وقت مسلمان ہی دنیا میں سب سے ذیادہ کیوں آفت زدہ ہو کے رہ گئے ہیں۔دنیا کا ظاہری  کنٹرول سارا غیر مسلموں کے ہاتھ میں آ چکاہے۔اور انہوں نے مسلمانوں کا بھی جینا حرام کر دیا ہے۔یا اللہ ہمارے بس میں جو کھانا  ہے وہ ہم حلال کھاتے ہیںمگر زندگی غیر مسلموں نے حرام کر دی ہے۔اور وہ بہت کامیاب ہیں خوشحالی کی تمام قوتیں اور وسائل بھی ان کو ہی میسر ہیں۔دنیا میں کامیاب حکمران طاقتیں بن چکی ہیں جن کا مشن ہی اسلام کو زیر کرنا ہے۔اب پاکستان کی بات کرنی ہے اور گزارش بھی اور عرض بھی آپ ہی سے کرنی ہے۔یا اللہ پاکستان کو اسلام کے نام پر بنایا۔اب آپ ہی دیکھ لیجیے پاکستان میں نہ آٹا ہے نہ چینی نہ بجلی۔ ابھی یہ مسائل جاری و ساری تھے کہ آپ نے سیلاب بھیج کر پاکستانیوں کے بے گھر بھی کر دیا جس میں انہوں نے بجلی آن کر کے آٹا اور چینی سے کھانے بنا کر کھانے تھے۔یا اللہ آپ، یا علیم یا خبیر، ہیں اپنی قوتوں سے خوب باخبر ہیںساری دنیا مل کربھی امداد کرے تب بھی پاکستانیوں کے مسائل ختم نہیں ہونے والے ۔ اس بار سیلاب زدگان کو جو امداد مل رہی ہے  وہ زلزلہ زدگان سے بھی کم ہے۔آپ سے تو کچھ ڈھکا چھپا نہیںناروے کی ہی مثال دیتی ہوںاعدادو شمار تو تمام آپ کے  پاس ہیں صرف یاد دہانی کے طور پر بیان کر رہی ہوںکہ ناروے نے چھ سو ملین کرونے کی امداد بھیجی جبکہ تباہی کا شمار دس فیصد تھا۔اب جبکہ سیلاب نے ساٹھ فیصد پاکستان میں تباہی مچادی تو ناروے نے اس بار تیس ملین کرونے کی امداد بھیجی۔ہم نے سوچا شائید ناروے کو غلطی لگ گ ئی ذیادہ تباہی پر تیس ملین کیسے ہو سکتے ہیں۔لہٰذا جب نارویجن حکام سے با ادب ہو کر پوچھا گیا کہ حضور آپ سے کہیں غلطی تو نہیں ہوئی تو نارویجن حکام نے انتہائی کھردرے پن سے کہا کہ پہلے پہلی زلزلہ زدگان کی امدا کا حساب دیںکہ زلزلہ زدگان تو ویسے ہی پڑے ہیںامداد کدھر گئی ہے؟آپ کے حکمران تو امداد لے کر امریکہ اور یورپ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔پہلے اپنے حکمرانوں کو بدلیں۔یارب العالمین حکمرانوں کی اگر ہمیں سمجھ ہوتی تو ایسے حکمران چنتے  جنہوں نے جمہوریت کے نام پر ملکی خزانوں کو اپنا سمجھ لیا۔جو عوام کو خوشحال کرنے کے بجائے خود ہی خوشحال ہو کر غیر ممالک کو پیارے ہو جاتے ہیں۔امریکہ۔یورپ اور فرانس میں تو اللہ میاں انکی دولت ایسے پھیل گئی ہے جیسے حکمرانوں نے جمہوریت کی قیمت قوم و ملک سے وصول کر لی ہو۔ذرا انصاف سے دیکھیں کہ امدا دکا حقدار کون ہوتا ہ ے زلزلہ زدگان؟سیلاب زدگان؟ یا حکومت زدگان؟اب تو لوگوں نے امدادیں دینی بھی بند کر دیں ہیں۔یا اللہ اب آپ ہی نظر کرم کیجیے ملک میں گھر بستیاں،ملیں فیکٹریاںکارخانے دوکانیںسب سیلاب نے چھین لیے۔جو رہ گئے ہیں وہ خود کش دھماکے چھین رہے ہیں۔خود کش دھماکے تو اب ایسے لگتا ہے کہ جیسے مثل پاکستان کے ہو کے رہ گئے ہیں۔جو زلزلہ اور سیلابوں سے بچ گیا وہ ختم کرنے آگئے ہیں۔یا اللہ حکمران کھا کھا کر مست ہو گئے ہیں۔لوگوں کی مت زلزلہ سیلاب خود کش دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ نے مار دی ہے۔سارا پاکستان نیم بے ہوش ہو چکا ہے دونوں طبقے ہوش گنوا بیٹھے ہیں۔حکمران طبقہ بک کر مدہوش ہے اور عوام بھوک سے بے ہوش ہیں۔اب پاکستان کو کس نے چلانا ہے؟؟قائد اعظم کو جنت کا اعلیٰ مقام عطا کیجیے گا۔پاکستان دے گئے۔مگر اب پاکستان باقی کیسے رہے گا؟اللہ میاں جی آپ ہی ایکشن لیجیے قاعداعظم جیسا ایک لیڈر اور دیجیے۔اک قائد اعظم نے پاکستان بنایا تھا دوسرا قاعد اعظم پاکستان بچا دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں