ایک معزول صدر کی بے چینی

ایک معزول صدر کی بے چینی

 

 

مالدیپ کے معزول صدر محمد نشید اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بہت بے چین ہیں، چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو جلد از جلد ہٹاکر ان کی حکومت قائم کردی جائے اور اس سلسلے میں عالمی برادری خصوصا انڈیا ان کی مدد کرے۔ اگر ایسا نہ کیاگیا تو مالدیپ پر غلط عناصر قبضہ کرلیں گے۔ اس مقصد کے لیے وہ غیرملکوں کے دوروں پر نکلے ہیں۔اپریل کے تیسرے ہفتے میں نئی دہلی میں تھے۔ یہ محمد نشید وہی ہیں جنھوں نے ایک مسئلے پر عوامی بے چینی کو دیکھتے ہوئے /فروری کو اقتدار بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے نائب محمد وحیدحسن کے حوالے کردیاتھا اور اِس موقع پر ایک معقول بیان جاری کرکے سب کے دل جیت لیے تھے۔ کہاتھا میں نہیں چاہتاکہ میری وجہ سے میرے ملک میں کوئی بحران پیدا ہو۔ نشید کے اس بیان کی تحسین ہندوستان سمیت ابھی دنیا بھر میں ہوہی رہی تھی اور خود مالدیپ کے عوام کے دلوں میںنرم گوشہ بن ہی رہاتھا کہ بیان کے محض  گھنٹے بعد نشید سراپا احتجاج بن کر میدان میں آگئے، کہا یہ میرے خلاف بغاوت ہے۔ اس کے بعد ان کی مہم تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ اب نئی دہلی میں بیٹھ کر شکایت کررہے ہیں کہ پڑوسی ملکوں نے اتنے بڑے واقعے کانوٹس نہیں لیا، انڈیا نے بھی، جس پر کہ وہ سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں، ان کی کوئی مدد نہیں کی۔

اسلامک فنڈامنٹلزم سب سے بڑا خطرہ

مالدیپ بحرہند میں متعدد جزائر پرمشتمل ایک چھوٹا سا مسلم ملک ہے۔ وہاں اقتدار کی تبدیلی مسلم نقطہ نظر سے اس لیے بھی اطمینان بخش اور خوش آئند تھی کہ پرامن طریقے سے ہوئی تھی ورنہ اس معاملے میں تشدد اور خوں ریزی کے لیے مسلم دنیا بدنام ہے _____محمد نشید اپنے حق میں عالمی قیادت کو ہموار کرنے کی جو کوشش کررہے ہیں، ضرور کریں، کوئی برائی نہیں۔ لیکن اس سلسلے میں جو مسائل وہ اٹھارہے ہیں ان میں سب سے اوپر اسلامک فنڈامنٹلزم ہے۔ ان کے نزدیک ان کے ملک کو سب سے بڑا خطرہ اِسی چیز سے ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مالدیپ میں سخت گیر اسلامی عناصر بہت مضبوط ہورہے ہیں، سرکاری ایجنسیوں پر ان کی بڑی سخت گرفت ہے۔ یہ عناصر ماڈرن اسلام اور صوفی ازم کے خلاف ہیں اور ملک میں سخت شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں؛ اگر انھیں ابھی روکا نہ گیا تو بعد میں یہ کام بہت مشکل ہوجائے گا۔ نئی دہلی میں ٹائمس آف انڈیا اور ہندو کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھی انھوںنے یہ بات کہی مالدیپ کے اندر ریڈیکل اسلامسٹوںکی قوت بہت بڑھ رہی ہے، درحقیقت مالدیپ اب دوسرا پاکستان بن چکا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا /اپریل اور دی ہندو /اپریل ظاہر ہے کہ حکومتِ ہند ، اس کی ایجنسیوں، سیاسی دانشوروں اور میڈیا کے لیے یہ مرغوب غذا ہے۔

یہ بے صبری مہنگی پڑے گی

غالبا محمد نشید نے وہ شور وغوغا اچھی طرح سن رکھا ہے جو /فروری کی تبدیلی پر ہندوستان میں بلند ہواتھا۔ کچھ تو وہ خود بھی اِسی ذہن کے ہیں اور کچھ یہاں کی رولنگ کلاس کے مزاج اور اس کی پسند یا کمزوری سے واقف ہیں۔ انھیں امید ہے کہ اس حوالے سے وہ حکومتِ ہند کو بہ آسانی ورغلا سکیں گے، پھر امریکہ کی حمایت بھی مل سکے گی۔ حکومت ہند واشنگٹن کے سامنے دہائی دے گی کہ ہمارے پڑوس میں وہ اسلامی بنیادپرستی جس سے تم ساری دنیا میں برسرپیکار ہو، اپنی جڑیں مضبوط کررہی ہے، اس لیے ہماری مدد کرو۔ یہ حکومت اپنے جگری دوست اسرائیل کو بھی جدید اسلحے وآلات اور ماہرین کی فراہمی کے لیے آواز دے گی پھر اس یلغار کے سامنے مالدیپ کے اسلام پسند حلقے ٹِک نہیں سکیں گے _____اگرمحمد نشید نے اسلامی شریعت اور امت مسلمہ سے تعلق بالکل ہی ختم کرلیا ہوتو اور بات ہے ورنہ انھیں اِس حساس اور نازک مسئلے پر بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔ اقتدار کے لیے یہ صبری خود انھیں بھی بہت مہنگی پڑے گی۔ اس دنیا میں ، ہر ملک ، ہر قوم کا اپنا ایجنڈا ہے۔ اور ہر ملک دوسرے ملک کی حمایت یا مخالفت اپنے ایجنڈے کے تحت کرتا ہے۔  پ ر

اپنا تبصرہ بھیجیں