ایک دوست کی کہانی ۔

یہ ایک دوست کی کہانی ہے جس نے مجھے بیان کی۔

تحریر۔۔۔۔فرحان بخاری
#لازمی_پڑھیں

14 سال کی عمر تک میری زندگی میں سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا پڑھائی میں نمبر 1 تھا جسامت اور حسن میں بھی ٹھیک تھا کرکٹ کا بیسٹ پلیئر تھا اور کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق بھی تھا finacialy بھی کوئی مشکل نہیں تھی سارے ضروریات گھر والے پورے کرتے تھے عراق میں ایکسٹرا پیسوں کی ضرورت پڑتی تو اپنے بھائی سے بے دریغ مانگ لیا کرتا تھا چھوٹی سی عمر میں بہت سی کامیابی حاصل کی تھی ذہن میں بڑے بڑے خواب تھے اور خود پر یقین بھی تھا کہ یہ سب کچھ میں آسانی سے حاصل كرلونگا اس لئے جو بھی ملتا تھا کہتا تھا تم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کرو گے اور بہت آگے جاؤ گے پانچ وقت کی نماز پڑھنا اور قرآن پاک کی تلاوت کرنا معمول تھا 14 سال کی عمر میں ہی قرآن کو ترجمہ کے ساتھ ختم کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سی دینی کتب جس میں قدوری ،مفید الطالبین ،نفحۃ العرب ،صرف بہائی اور میزان الصرف سمیت مختلف کتابیں پڑھ لیے تھے لیکن پھر کیا ہوا
اپنے گھر والوں سے ضد کر کے میں نے اپنا ذاتی موبائل خرید لیا شروع شروع میں اپنے اسکول کے ایک لڑکی سے چپ چپ کر باتیں کرنے لگا اور آہستہ آہستہ p”o:rn اومش تزن ی کی طرف آ گیا اور آج میری عمر بیس سال ہے پڑھائی میں سفر ہو گیا ہوں پڑھنے میں بالکل بھی دل نہیں لگتا اگر پڑھنے بیٹھ بھی جاؤں تو عجیب عجیب خیالات آتے ہیں will power سفر ہوگی کونفیڈنس لیول زیرو ہوگیا اگر کسی سے ملتا ہوں تو ٹھیک سے بات بھی نہیں کر سکتا دل اندر سے ڈر اور گھبراہٹ سے بھرا ہوا ہے نماز تو پڑھتا ہوں لیکن اس طرح سے نہیں جس طرح نماز قائم کرنے کا حکم ہے نماز میں بھی غلط غلط خیالات آتے ہیں جو لوگ پہلے میرے بارے میں پوزیٹو باتیں کرتے تھے اور مجھے حوصلہ دلاتے تھے اب جب وه لوگ ملتے ہیں تو میرا مذاق اڑاتے ہیں یہ تمہیں کیا ہوگیا ،تمہاری شکل پر لعنت پڑھ رہی ہے ,بالکل بڈھے نظر آ رہے ہو اس طرح کی بہت ساری باتیں سننے کو ملتی ہے اور میں تسلیم بھی کرتا ہوں کہ یہ سب کچھ میں نے اپنے ہاتھوں سے خود برباد کر دیا کرکٹ کھیلنے کا تو پہلے دل نہیں کرتا اور اگر کھیلنے جاؤ تو اس میں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ جیب میں ایک روپے نہیں ہوتا اور اب گھر والوں سے مانگتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اگر کوئی کام شروع کروں تو اس میں بھی دل نہیں لگتا چیلنج شروع کر دیا ہے لیکن وہ بھی ایک ہفتے سے زیادہ نہیں جاتا اور اس طرح اور بھی بہت ساری باتیں ہیں جو اس بورے عمل میں میری زندگی سے چھین لیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پانچ چھ سال کیسے گزرے کوئی پتہ نہیں چلا ۔ لیکن بس اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جو ہوا سو ہوا اب اور نہیں میں نے اپنی پوری زندگی کا چیلنج کیا ہے اور ان شاء اللہ اس دنیا میں اور اللہ تعالی کے ہاں اپنا وہ مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے آپ سب بھائیوں کی خصوصی دعاؤں کی ضرورت ہے اللہ تعالی ہم سب کو اپنے مقصد میں کامیاب کرے

(ایک اور بات اگر آپ کے گھر میں بھی دس سال سے اوپر کے بچے ہیں تو ان پر خصوصی نظر رکھے موبائل جیسی بیماری سے تو نہیں دور رکھے یا اللہ صاحب صاحب سمجھاے کہ ان چیزوں کی طرف ہرگز نہیں جانا ورنہ پھر وہ بھی ہماری طرح افسوس کے سوا کچھ نہیں کر پائیں گے اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین )

اپنا تبصرہ بھیجیں