— اگر پی ٹی آئی نہ ہوتی ””’ حسن نثار 

 میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان تحریک انصاف میں جان نہ پڑتی اور اس پٹی ہوئی بری طرح فلاپ ہو چکی سیاسی پارٹی کا معجزانہ ٹیک ا ٓف نہ ہوتا تو ملکی حالات یا یوں کہہ لیجئے کہ ملک کا سیاسی منظر کیسا ہوتا؟پولیو زدہ پیپلز پارٹی کے بعد ن لیگ کی مکمل مناپلی ہوتی اور دور دور تک انہیں چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہوتا۔ پاکستان ہوتا، ”برادران“ ہوتے اور ان کے بچے لیکن قدرت کو پاکستان اور پاکستانیوں پر رحم ا ٓگیا۔ اندھیر سویر میں تبدیل ہوگیا اور بے ا ٓواز لاٹھی حرکت میں ا ٓگئی۔ عام پاکستانی تو اپنی جگہ خود ن لیگ والوں کو بھی شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کے سیاسی ا ٓقاﺅں کی اجارہ داری قائم نہ ہوسکی ورنہ ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا، اس کا انہیں بھی تھوڑا بہت اندازہ تو ضرور ہوگا۔گزشتہ اتوار پھر تصدیق کر گئی کہ لاہور کا سیاسی قلعہ مسمار ہو رہا ہے اور تخت لہور کے پائے دیمک کا شکار ہوچکے لیکن ”ا ٓخری ا ٓدمی اورا ٓخری گولی“ تک مزاحمت منطقی ہے اورمجبوری بھی کہ لوگ تو ایک مرلہ زمین پر کٹ مرتے ہیں جبکہ یہاں تو سرزمین اور اس سلطنت کا سوال ہے جس کے جانشین بھی کمریں کسے تیار بیٹھے ہیں۔ یہاں مجھے پنجاب کا اک طاقتور ترین خاندان یاد ا ٓتا ہے جس کا ا ٓج ڈھونڈے سے بھی نام و نشان نہیں ملتا اور یہ خاندان تھا مہاراجہ رنجیت سنگھ کا جس کی تین نسلوں کی سمادھیاں اسی لاہور میں چپ چاپ ساتھ ساتھ کھڑی ہیں جو کبھی ان کا دارالحکومت تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ، کھڑک سنگھ اور شہزادہ نونہال سنگھ سے تخت نشین ہونا نصیب نہ ہوا۔رہے نام اللہ کامٹے نامیوںکے نشاں کیسے کیسےایسے عروج سے پناہ مانگنی چاہئے جس کے بعد زوال لکھ دیا جائے۔
Warm regards,
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786

اپنا تبصرہ بھیجیں