اک سکون کے واسطے ہم نے دنیا تیاگ دی!

صائمہ چوہدری

”اک سکون کے واسطے ہم نے دنیا تیاگ دی”
“قبر میں جا کر دیکھا وہاں پر بھی نہ نجات تھی”
✍️ صائمہ چوہدری
۲۴_۶_۲۰۲۲
سنا تھا کی دنیا انسان کو قبر میں پہنچا کر ہی دم لیتی ہے اور زندہ لوگوں کو یہ جہان چین سے جینے نہیں دیتا مگر اب اندازہ ہو رہا ہے کہ مر جانے کہ بعد بھی سکون قسمت والوں کو ہی ملتا ہے اور عامر لیاقت ایسی قسمت نہیں رکھتا تھا-

کیونکہ دنیا نے انکی زندگی میں بھی ان کے ہر ذاتی عمل پر وہ ہاہاکار مچائی کہ رب کی پناہ۔۔۔۔!
اور اس ہاہاکار سے گھبرا کر عامر لیاقت نے زمین کی گود میں پناہ لے لی مگر دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد بھی تشویش کاروں کی تشویش کم نہ ہوئی اور ان کی قبر کشائی کی باتیں میڈیا کی زینت بننے لگیں-

بہت سے سوالات نے عامر لیاقت کی قبر پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ دیے جن میں سے کچھ رقم کر رہی ہوں –

ان کی پراپرٹی کا اصل حق دار کون ہے ؟؟
کونسی بیوی کو ان کی جائیداد میں سے کتنا حصہ ملے گا؟؟
عامر لیاقت کی کس بیوی نے عدت پوری کرنی ہے ؟؟
کونسی بیوی عدت میں بیٹھنے کے اہل نہیں اور کس پر عدت واجب ہے ؟؟؟
کس کی طلاق ہو گئی ؟؟
کونسی نکاح میں ہے ؟؟؟
کس بیوی نے ظلم کے پہاڑ توڑے ؟؟؟
کس نے تنہا چھوڑا؟؟؟؟؟؟

آخر ہم عامر صاحب کے معاملے کو اللہ کی سپرد کیوں نہیں کر دیتے؟؟؟؟؟؟
یہ ان سب میں سے بہت ہی اہم سوال ہے، تو بات یہ تھی “عامر لیاقت کو ہمیشہ خبروں میں رہنے کا شوق تھا مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ 9 جون کے بعد عامر لیاقت “صرف خبروں میں رہ جائیں گے”-

عامر لیاقت کی اچانک موت نے سوگوار کر دیا مگر ہمیں سوگ منانے کا طریقہ نہیں آیا- کافر ہمارے دین سے تعزیت کا طریقہ سیکھ گئے مگر ہمیں اپنوں کا غم منانا نہ آیا-
میں جب کبھی ہالی وڈ کے سیزن دیکھتی اوراس میں کسی قریبی دوست رشتہ دار کے مرنے پر فیونرل میں مرحوم کے دوست ‘ اس کے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر چرچ میں جمع ہوتےاور سب ایک ایک کر کے ڈائس پر آتے اور مرحوم کے زندگی بھر میں کیے اچھے کام ایک دوسرے سے بیان کرتے- اگر مرنے والے نے کسی پر احسان کیا ہوتا تو وہ اس کا ذکر کرتا- کئی لوگ مرحوم کی پسند کے کھانے اپنے گھر سے بنوا کر لاتے اور لواحقین کی دلجوئی کرکے مرنے والے کو یاد کیا جاتا ہے-
ہمارے دین میں یہ شامل تھا کہ مرنے والوں کو اچھے لفظوں میں یاد کیا کرو-
لیکن ہم ڈھونڈ کر مرحوم کی برائیوں پر تبصرہ کرتے ہیں- اگر سوئم چہلم کروائیں تو اس میں بھی کونوں کھدروں میں بیٹھ کر لواحقین کے مرحوم پر کیے گئےمظالم سب کو گنوا کر خود کو مرنے والا کا سچا خیر خواہ ثابت کیا جاتا ہے- دنیا داری کی باتیں کرکے اپنی برائیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے-
عامر لیاقت کی موت ہمارے واسطے لمحۂ فکریہ ہے – اس سے ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ سوشل میڈیا کتنا مہلک اور خطرناک ہو سکتا ہے اور یہ بھی کہ قلم کا جھوٹ بک تو جاتا ہے مگر وہ بہتان کسی کو برباد بھی کر دیتا ہے-
کسی کی ذاتی زندگی پر مبنی بریکنگ نیوز بریک کرنے سے رینکنگ تو بڑھ جاتی ہے مگر کسی کی جان بھی لے جاتی ہے۔۔۔۔۔
گزشتہ دنوں پاکستانی میڈیا جو غم میں ڈوبا رہا، میں ان سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہوں گی۔۔۔۔۔۔۔کہ جن چینلز کو پروان چڑھانے میں عامر لیاقت کی محنت بھی برابر شامل تھی ان کو زندہ درگور کرنے کے بعد جب وہ موت سے پہلے ہی تنہائی سے مر گئے تو اب ان کے منوں مٹی تلے جانے پر ماتم منانے کا کیا فائدہ؟؟؟؟
یہ میڈیا ان کو اتنا بدنام نہ کرتا تو شاید آج عامر بھائی زندہ ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ان چھپے ہوئے مجرموں کی یہاں نشاندہی کرنا چاہتی جو تاک تاک کر وار کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔پبلک فیگر پر میمز بنانے والے ہی وہ ٹارگٹ کلر ہیں جنہوں نےعامر لیاقت کی جان لی۔
مگر یہ ظالم اب یہاں بس نہیں کرنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے پیٹ ایک آدھ موت سے نہیں بھرنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عامر بھائی کے بعد یہ ٹارگٹ کلر کل کسی اور کو اپنا ہدف بنا لیں گے- چند پیسوں اور شہرت کی خاطر یہ کسی کی جان سے کھیل جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کسی کی بےبسی پر ٹھٹھے لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ وہ مجرم ہیں
جو آستینوں میں چھپے بیٹھے ہی جن کو ہم خود پناہ فراہم کرتے ہیں۔۔۔۔۔
یہ وہ نقب زن ہیں جن کے ہاتھوں سے بڑے بڑے علم دان قلم دان راہ حق پر چلنے کی تلقین کرنے والے محفوظ نہیں رہ پاتے-
یہ وہ ظالم ہیں جنہوں نے “فاطمہ جناح پر الزام دھرے۔۔۔۔۔
یہ وہ باغی ہیں جو کسی “دینی تنظیم” کی بھلائی پرمبنی سیاست دان سے ملاقات کو بھی متنازع بنا دیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کا بس چلے تو مردوں کو قبروں سے نکلوا کر من پسند رائے قائم کروا لیں- ان ظالموں کے لیے بہت آسان ہے کسی کو تخت پر بٹھا دینا۔۔۔۔۔
کسی عالم سےدوسرے عالم پر کفر کا فتوی دلوا دینا-
یہ مشہور ہستیوں سے ایسے ایسے بیان دلوا دیں جس سے ان کی اپنی شخصیت متنازعہ بن کر رہ جائے۔
اور سیاست تو وہ قیامت ہے جس میں ماں بچوں کو اور بچے باپ کی پہچان بھول کر بس نفسی نفسی پکارتے ہوئے صرف اپنی ذات کی فکر میں ڈوبے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔۔۔۔۔۔عامر لیاقت مرے نہیں سنگسار کیے گئے ہیں اور ہم لوگ پہلے پتھر مارنے والوں میں شامل تھے- جبکہ ہم جانتے ہیں کہ پہلا پتھر وہی مار سکتا ہے جس نے خود کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو!
آخرہم کسی کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے اپنے گریبانوں میں کیوں نہیں جھانکتے ؟؟
اور تو اور پتھر مارنے والوں میں جب اپنوں کے ہاتھ نظر آجائیں تو پتھر کھا کر نہیں، انسان وہ ہاتھ پہچان کرمر جاتا ہے- غیروں کے ساتھ ان کے اپنے بھی مل گئے اور عامر بھائی کو تنہائیوں کے سپرد کرکے اب کس منہ سے وارث بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

بےشرم انسان کو اس کی بے شرمی زندہ رکھتی ہے اور غیرت مند انسان غیرت سے مر جاتا ہے- اب بھی ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ کئی مفتی جو فتوی دینے پر قادر تھے، جن کو اللہ پاک نے عزت دی ، مگر ان کو اس عزت کی پاسداری کرنا نہ آسکی۔
لیکن وہیں پر کئی گلوکاروں، اداکاروں، فلمسازوں، سیاست دانوں اور کرکٹرز کو ہم نے راہ راست پر آتے بھی دیکھا اور اب تک وہ اس راہ پر گامزن ہیں-
راہ حق ہی وہ راستہ ہے جس پر چلنا بظاہر مشکل ہے لیکن—
یہاں ہے منزل قدم قدم پر!

آخر میں عرض یہ ہے کہ اللہ پاک سے ایمان کی سلامتی کی دعا مانگتے ہوئے عامر بھائی کی بخشش کی دعا کریں کیونکہ ایک دن ہمیں بھی اسی قبر کے اندھیروں میں جانا ہے-
ہم ان اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کا اہتمام صرف دنیا میں کر سکتے ہیں کیونکہ قبر میں جانے کے بعد ہمیں یہ سہولت ہر گز میسر نہیں ہو گی۔۔۔۔۔!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں