اپریل فول ڈے

اپریل فول ڈے

(علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال )
سوال:عرض ہے کہ یکم اپریل کے دن عموماً لوگ ایک دوسرے کو پریشان کرنے کے لئے جھوٹی افواہیں اڑا دیتے ہیں کسی شخص کو حیران کرنے کے لئے ایسی بات  پھیلا دیتے ہیں جو بالکل جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے ۔ اس طرح سے دوسرے کو پریشانی و حیرانی میں مبتلا ء کر کے خود خوش ہوتے ہیں ۔اس دن عام لوگو ں کے اس معمول کی وجہ سے یکم اپریل کو ”فول ڈے ” (بے وقوف بنانے کا دن) کہا جاتا ہے ۔اس دن کیا ایسا کرنا کسی بھی صورت میں جائز ہے ؟نیز یہ بات فرنگی معاشرے کا ایک اہم جز وبھی ہے یا ان کی ایک رسم ہے جس کا تاریخی پس منظر ہے کہ انگریز اس دن طرح طرح کے چکر چلا کر مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں ۔جس کی کسی بھی مذہب میں مثال نہیں ملتی ۔براہ ِ کرم ! قرآن و سنت کے مطابق جواب ارشاد فرمائیں۔۔۔  الجواب :
جھوٹ بولنا، جھوٹی افواہ پھیلانا ،کسی کو حیران و پریشان کرنے کے لئے جھوٹی خبر اڑانا ،لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹی باتیں سنانا یا جھوٹ بولنا ،ہنسی مذاق میں جھوٹ بولنا یا جھوٹا وعدہ کرنا یہ سب باتیں شرعاً حرام اور گناہ کبیرہ ہیں ۔چونکہ سوال میں پیش کی ہوئی باتیں بھی جھوٹ کی انہی اقسام سے ہیں اس لئے یکم اپریل کے دن ”فول ڈے” منانا قطعاً حرام ہو گا۔ اللہ تعالیٰ غیر مسلم کی اس طرح کی ناجائز رسموں پر چلنے سے ہمارے مسلمانوں کو بچائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
دور حاضر میں جھوٹ کی کثرت ہے : حضرت مولانا محمد افضل کوٹلوی (جامعہ قادریہ رضویہ ۔محلہ مصطفےٰۖ آباد فیصل آباد) اپنے مضمون ”جھوٹ ” میں رقمطراز ہیں ۔”انسان کے اخلاق ذمیمہ میں سب سے بری اور مذموم عادت جھوٹ بولنا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ جھوٹ جتنا مذموم عمل ہے اتنا ہی آج کل عام بھی ہے ۔ہماری معاشرتی برائیوں میں جھوٹ ایک ایسی براہ ئی ہے جو ہر جگہ نظر آتی ہے ۔گھر ہو یا بازار ، دفتر ہو یا دوکان ،سیاست ہو یا صحافت کوئی گوشہ زندگی ایسا نظر نہیں آتا جہاں جھوٹ ڈیرے ڈالے نظر نہ آتا ہو۔گوئبلز نے کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ رفتہ رفتہ وہ سچ معلوم ہونے لگے ۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ پوری دنیا گوئبلز کے اسی مقولہ پر عمل پیرا ہے ۔آج زندگی کی کامیابی کا راز جھوٹ میں پوشیدہ سمجھا جاتا ہے اور یہ بات بھی عام سننے میں آتی ہے کہ اس دور میں دیانتد اراور سچے انسان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔یہ سب باتیں محض اس لئے سننے میں آتی ہیں کہ ہم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔اگر ہم نے اسلام کی تعلیمات کو اپنایا ہو تا تو آج ہمارے معاشرہ میں جھوٹوں کے لئے کوئی جگہ نہ ہوتی۔
اسلام کی لغت میں لعنت سخت ترین لفظ ہے ۔اس کے معنے ہیں رحمت سے دوری اور محرومی ۔قرآن  پاک نے اس لفظ (لعنت)کا مستحق شیطان کو ٹھہرایا ہے ۔اس کے بعد یہودیوں ، کافروں اور منافقوں کولعنت کی وعید سنائی ہے لیکن کسی مسلمان کے لئے لعنت کا لفظ سوائے جھوٹے کے استعمال نہیں کیا گیا ۔اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ہے ۔رسول اللہ ۖ نے جھوٹ کو منافقوں کی نشانی فرمایا ہے ۔بلکہ قرآن پاک نے یہاں تک فرمایا ہے ۔”جھوٹی باتیں وہی بناتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے ۔” رسول اللہ ۖ نے فرمایا ”ہر خصلت مسلمان میں ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے ۔(الحدیقة الندیہ جلد دوم صفحہ202)
تو گویاجھوٹ اور خیانت ایمان کی ضد ہیں ۔جہاں ایمان ہو گا وہاں جھوٹ اور خیانت کا ہونا ناممکن ہے ۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج کل مسلمان کہلانے والے ہی جھوٹ اور خیانت کے عادی ہوگئے ہیں ۔معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنے والوں اور خیانت کرنے والوں کا دعویٰ اسلام محض زبانی ہے ۔
صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:” جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ”اور ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نبی کریم ۖ کی بارگا اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ۖ جنت میں لے جانے والا کام کیا ہے ؟ فرمایا سچ بولنا ۔جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کا کام کرتا ہے اور جو نیکی کا کام کرتا ہے وہ ایمان سے بھر پور ہوتا ہے اور جو ایمان سے بھر پور ہوتا ہے وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔اس شخص نے پھر عرض کیا ۔یا رسول اللہ ۖ دوزخ میں لے جانے والا عمل کیا ہے ؟ فرمایا جھوٹ بولنا ۔جب بندہ جھوٹ بولے گا تو گناہ کے کام کرے گا اور جب گناہ کے کام کرے گا تو کفر کرے گا اور جو کفر کر ے گا وہ دوزخ میںجائے گا۔” اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حد سے بڑ ھ جائے تو وہ کفر بن سکتا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ شب معراج رسول اللہ ۖ نے دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے ۔ایک اور شخص بیٹھا ہوا ہے ۔کھڑا شخص لوہے کا آنکڑا بیٹھے ہوئے شخص کے منہ میں ڈال کر اس کا ایک طرف کاکلہ چیرتا ہے یہاں تک کہ وہ پشت تک چر جاتا ہے پھر دوسرے کلے کو بھی اسی طرح چیرتا ہے ۔آپ نے جبرائیل سے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے ؟ جبرائیل نے عرض کیا ۔یہ کذاب (بڑا جھوٹا) ہے ۔یہ اتنا جھوٹ بولتا ہے کہ ساری دنیا میں مشہور ہوجاتا ہے اس کو قیامت تک ایسا ہی عذاب ملتا رہے گا۔
آج ہم ذرا ذر اسی بات پر جھوٹ بولنے کے عادی ہو گئے ہیں ۔جھوٹ ہمارے معمولات زندگی میں اس طرح شامل ہو چکا ہے کہ جھوٹ بولتے ہوئے ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں ۔مثلاً ایک ملازم اپنے محکمہ سے چھٹی لینا چاہتا ہے تو وہ چھٹی لینے کے لئے علالت کا عذر پیش کرتا ہے حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتا تو اس کا جھوٹا عذر پیش کرنا ہی جھوٹ ہے ۔عام طور پر والدین بچوں سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں تو یہ بھی جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی صاحب کو باہر دروازہ پر کوئی صاحب آواز دیتے ہیں تو صاحب خانہ اپنے بچے کو بھیج کر کہلوادیتا ہے کہ ابا جان گھر میں نہیں ۔ایسا کرنے سے ایک طرف تو اس شخص نے خود جھوٹ بولا اور دوسری طرف اپنے بچے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی۔ بچوں کو یہ کہہ کر ڈرانا کہ بلی آگئی ۔یہ بھی جھوٹ میں شامل ہے ۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی سے ملنے جائیں اور صاحب خانہ ان سے کچھ کھانے پینے کے لئے کہے تو وہ تصنع اور بناوٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ مجھے خواہش نہیں یا میں کھا کے آیا ہوں حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے ۔تو ان کا ایسا کرنا بھی جھوٹ میں شامل ہے ۔ایک دفعہ ایک عورت نے رسول اللہۖ سے دریافت کیا ۔یا رسول اللہ ۖ میری ایک پڑوسن ہے اگر میں اس کے سامنے یہ ظاہر کروں کہ مجھے شوہر نے یہ کچھ دیا ہے اور حقیقت میں ایسا نہ ہو ۔تو کیا یہ بھی گناہ ہے ۔فرمایا جتنا کسی کو نہیںدیا گیا اس سے بڑھا کر بتا نے والا جھوٹ کے دو جامے پہننے والے کی طرح ہے ۔جھوٹ کے دوجاموں سے  مراد یہ ہے کہ ایک جھوٹ یہ ہوا کہ جو چیز اس کو ملی نہیں اس کا ملنا بتا رہا ہے اور دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ دینے والے نے اس کو جو کچھ دیا نہیں وہ اس کا دینا بتا رہا ہے ۔
عالم نہ ہو اور خودکو عالم باور کرائے ۔دولت مند نہ ہواور خود کو دولت مند ظاہر کرے ۔کوئی چیز اس کے پاس نہیں وہ چیز اپنے پاس ظاہر کرے یہ سب جھوٹ ہے اور دوسروں کو دھوکا دینا ہے ۔بعض لوگ لطف اٹھانے کے لئے محفل میں خوش گپیوں کے دوران جھوٹے لطیفے گھڑ گھڑ کر سنانے کے عادی ہوتے ہیں حالانکہ اس سے کسی کا نقصان نہں ہوتا لیکن اسلام نے اس کی ممانعت بھی کر دی ہے ۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے ۔ اس پر افسوس ۔اس پر افسوس۔
اسی طرح محض سنی سنائی باتیں بلا تحقیق دوسروں کو بتا تے پھرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔اس سے انسان کا سوسائٹی میں اعتبار نہیں رہتا ۔رسول اللہ ۖ نے فرمایا آدمی کو یہ جھوٹ بس کافی ہے کہ جو سنے وہ کہتا پھرے ۔ہمیں اللہ جل شانہ اور اس کے پیارے رسول اللہ ۖ کی تعلیمات کو ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہیے اگر ہم ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں گے تو جھوٹ بولنا چھوڑ دیں گے اس سے ہمارے معاشرہ کی بہت سی برائیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔(کتاب ”جنت کی ضمانت ،صفحہ15)
اپریل فول ڈے منانے کی قباحت و شناعت:حضرت مولانا محمد افضل کوٹلوی کے مندرجہ بالا مضمون سے اپریل ”فول ڈے” منانے کی قباحت و شناعت بخوبی واضح ہو جاتی ہے ۔تاہم اس بارہ میں مزید وضاحت کے لئے چند ارشادات نبویہ بھی پیش کئے جاتے ہیں ۔
1) محدث ابو یعلی اپنی اسناد کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا۔”بندہ ایمان خالص تک نہیں پہنچتا جب تک کہ وہ مذاق جھوٹ اور جھگڑے کو نہ چھوڑ دے اگر چہ جھگڑا کرنے میں وہ بر حق ہو۔(الحدیقہ الندیة جلد دوم صفحہ202)
2)  امام احمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا”بندہ پورا مومن نہیں ہوتا جب تک کہ مذاق میں بھی جھوٹ نہ چھوڑ دے اور جھگڑا کرنا نہ چھوڑ دے اگر چہ سچا ہو۔”(بہار شریعت جلد شاز دھم صفحہ135)
3)  طبرانی معجم اوسط میں اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :”بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں نہ کرے۔”(جامع صغیر جلد دوم صفحہ204)
4) محدث ابن حبان اپنی اسناد کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ۖ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” جھوٹ (جھوٹے شخص کے )چہرہ کو (دنیا و آخرت میں ) سیاہ کر تا ہے اور چغل خوری قبر کا عذاب ہے یعنی عذاب کا باعث ہے ۔
5) اما م ترمذی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا ”جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو سے فرشتہ (یعنی کراماً کاتبین ) ایک میل دور ہو جاتا ہے ۔(ترمذی جلد دوم صفحہ27)
امام عبد الغنی نابلسی اس کی شرح میں لکھتے ہیں :یعنی جب بندہ اپنے کلام میں ایک چھوٹا سا جھوٹ بولتا ہے تو ایک میل تک اس کا کاتب اعمال فرشتہ بھاگ جاتا ہے ۔پھر فورا واپس لوٹ آتا ہے (الحدیقہ الندیہ جلد دوم صفحہ203)
6) ابو دائود حضرت سفیان بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ۖ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”بڑی خیانت کی یہ بات ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں سچا جان رہا ہو اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے ۔ (مشکوٰة جلد دوم صفحہ129)
یکم اپریل کے دن فول ڈے منانے والے مسلمان اس حدیث شریف پر غور کریں اور سوچیں کہ ان کا یہ عمل تعلیمات نبویہ کے کس قدر خلاف ہے ۔اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے آمین !
7) امام احمد و ترمذی و ابو دائود و دارمی نے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:”ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جوبات کرتا ہے اور لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے اس کے لئے ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ہے ۔”(مشکوٰة جلد دوم صفحہ 127)
8) امام بیہقی شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :”بندہ بات کرتا ہے اور وہ محض اس لئے بات کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے وہ (جہنم کی اتنی گہرائی میں ) گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی قدم سے لغزش ہوتی ہے ۔” (مشکوٰة  جلد دوم صفحہ 127)
9) امام احمد اور بخاری حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا :” بندہ اللہ کی رضا مندی کا کوئی کلمہ بولتا ہے حالانکہ وہ اس میں کوئی وقعت نہیں دیکھتا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند کردیتا ہے اور بندہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ بولتا ہے حالانکہ وہ اس میں حرج نہیں سمجھتا تو اللہ اس کی وجہ سے اسے جہنم میں ڈال دیتا ہے ۔(جامع صغیر حصہ اول صفحہ82)
10) شیخین حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا :”صدق  کو لازم کر لو سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ  فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔ (بخاری و مسلم)
11) امام احمد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا ::جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ ایمان کا مخالف ہے ۔”(بہار شریعت )
12) امام احمد حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا :”بندہ کوئی بات کہتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ لوگوں کو ہنسا ئے تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں آسمان سے زیادہ فاصلہ تک کی مسافت سے گزتا ہے ۔ (مرقاة شرح مشکوٰة جلد نہم صفحہ149)
13) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا :جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ جھوٹ بولنا ناجائز کام ہے اس کے لئے جنت کی حوالی میں مکان بنایا جائے گا اور جو شخص جھگڑا چھوڑ دے حالانکہ وہ حق پر ہوتو اس کے لئے جنت کے وسط میں مکان بنایا جائے گا ۔(مشکوٰة شریف جلد دوم صفحہ نمبر 127)
دعوت غور و فکر:ہم نے یہ 13 احادیث باحوالہ نقل کی ہیں تاکہ یکم اپریل کے دن فول ڈے (Fool Day)منانے والے مسلمانوں کو ہدایت کا ذریعہ نصیب ہو ۔ اب اس قسم کے مسلمانوں کو ان احادیث مبارکہ پر غور فکر کرنی چاہئے یکم اپریل کے دن لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے غلط بات پھیلانے سے بچنا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ اس بدعت سیّئہ سے بچنے کی توفیق بخشے آمین!
نصاریٰ کی رسم پر چلنا گمراہی ہے :اپریل فول ڈے منانا انگریزوں کی ایک رسم ہے جیسا کہ سوال میںلکھا گیا ہے تو پھر اس میں دوہرا گناہ ہے ۔ ایک تو جھوٹ بولنا ،غلط افواہیں اڑانا جو کہ کبیرہ گناہ ہے اور دوسرا انصاریٰ کی بری رسم پر چلنا اور اسے مسلمانوں کے ملک میں رواج دینا۔
آج مسلمانوں کی حالت قابل صد افسوس ہے ۔کیونکہ وہ جو کام بھی انگریزوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اسے فوراً اپنا لیتے ہیں ۔صورت سیرت لباس اخلاق کردار میں آج کل کا فیشن ایبل مسلمان فرنگی تہذیب سے رنگا ہوا نظر آتا ہے ۔علامہ اقبال نے اپنے وقت میں اسی قسم کے مسلمانوں سے کہا تھا ۔
وضع میں تم نصاریٰ ہو تو تمدن میں ہنود   یہ مسلماں ہیں کہ جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
آج اقبال کو دنیا سے پردہ کیے ہوئے ساٹھ سال گزرگئے ہیں اس لئے اس دور میں مسلمانوں کی حالت اقبال کے دور کے مسلمانوں کی حالت سے بہت ہی گئی گذری ہے ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت دے اور وہ تعلیمات اسلامی پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت میں سر خروئی حاصل کریں ۔
بے وقوف بنانے کے لئے جھوٹ بولنا منافقین کا طریقہ تھا:رسول اللہ ۖ کے دور میں منافقین مدینہ کا وطیرہ تھا کہ وہ اہل ایمان کو جھوٹ اور جھوٹی قسموں سے بے وقوف بنانے کی کوششیں کیا کرتے تھے ۔پھر اپنی مجالس میں استہزاء کیا کرتے تھے ۔بطور تمثیل ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے کہ غزوہ مریسیع میں جہجاہ غفاری اور سنان جہنی آپس میں لڑ پڑے سنان عبد اللہ بن ابی سلول منافق کا حلیف تھا ۔جہجاہ نے مہاجرین کو اپنی مدد کے لئے پکارا اور سنان نے انصار کو ۔ابن ابی سلول نے اس موقع پر حضور ۖ اور مہاجرین مومنین کی شان میں بہت گستاخانہ بکواسات بکے  اور اپنی قوم سے بولا کہ اگر تم لوگ ان مہاجرین کو اپنا جو ٹھا کھانا نہ دو تو یہ لوگ تمہاری گردنوں پر سوارنہ ہوں ۔اب تم انہیں کچھ نہ دو اور بولا کہ مدینہ پہنچنے پر ہم عزت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے ۔حضرت زید بن ارقم اس کی اس بکواسات سے بے تاب ہو گئے اور فرمایا کہ تو ہی ذلیل ہے ۔حضورۖ کے سر پر معراج کا تاج ہے ۔ابن ابی بولا کہ میں تو ہنسی دل لگی کر رہا تھا ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ خبر حضورۖ کی خدمت میں پہنچائی ۔ حضور ۖنے ابن ابی کو بلا کر در یافت کیا تو وہ جھوٹی قسم کھا گیا اس کے ساتھی بولے کہ ابن ابی سچا ہے ۔زید رضی اللہ عنہ کو دھو کا ہو گیا ہو گا تو اس موقع پر یہ آیات اتریں۔:”یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو رسول کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہو جائیں اور اللہ کے لئے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں کہتے ہیں کہ ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں ۔
کالج فول ڈے:انگریزی تہذیب کے دلدادہ مسلمان یکم اپریل کے دن فول ڈے مناتے ہیں اس کا علم ہمیں راجہ محمد اکمل خاں صاحب کی زبانی ہی ہو الیکن آج سے کئی سال قبل 1961ء میں جب ہم نے گورنمنٹ ڈگری کالج میر پور میں ایف اے کی پہلی کلاس میں داخلہ لیا تو کالج کے دن فول ڈے منائے جانے کا ہمیں بھی مشاہدہ ہواتھا اس دن ہر نو وارد طالب علم کو پرانے طالب علم جھوٹ بول بول کر بے وقوف بناتے ہوئے دیکھے گئے تھے ۔ہماری ایک کلاس فیلو گرل مس طاہرہ شاہین اسی دن میں اپنی آپ بیتی اپنے مضمون ”کبھی خود پر کبھی حالات پر رونا آیا” میں لکھتی ہیں۔
”اب ہمیں رول نمبر کا انتظار تھا ۔تقریباً ایک ہفتہ کے بعد ہمیں رول نمبر کی چٹ دی گئی ۔بے تابی سے رول نمبر پڑھا تو وہ کم بخت بھی وہی نکلا اب جس گھنٹی میں ذرا سی دیر سے گئے غیر حاضری لگ جائے گی ۔بہر کیف ہم نے فیصلہ کیا کہ کل سے باقاعدہ کلاسوں میں جائیں گے ۔دوسرے دن جلدی جلدی کالج پہنچے منتخب مضامین کے مطابق کلاسوں میں جانا تھا اس لئے محتاط ہو گئے ۔ مشکل تو یہ تھی کہ اپنی کلاس کی پہچان نہ تھی ۔کچھ پتہ نہیں تھا کہ کس کمرے میں جانا ہے ۔ جب گھنٹی بجی تو اپنے تو کان کھڑے ہو گئے۔ دروازے کی چک کے ساتھ جونک کی طرح چمٹ گئے ۔ نگاہیں چپٹ اسی کو ادھر ادھر ڈھونڈ نے لگیں ۔دل میں دعا مانگ رہے تھے یا خدا چپڑاسی آجائے ورنہ کبھی پتہ نہ چلے گا کہ کونسی کلاس کہاں ہو گی ۔ہم اسی پریشانی کے عالم میں تھے کہ سیکنڈا ئیر کی ایک طالبہ آگئیں اور ہمدردانہ لہجے میں بولیں ۔یہ فرسٹ ائیر کی انگریزی کی گھنٹی ہے اور تم یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو؟ ہم ابھی کچھ جواب نہ دینے پائے تھے کہ انہوں نے اپنی کتاب اور کاپی میز پر رکھ کر فرمایا۔ انگریزی کی کلاس کمرہ نمبر دو میں ہوتی ہے چلو میں تمہیں وہاں تک پہنچا آئوں۔پروفیسر صاحب تو اب کمرے میں آگئے ہوں گے ۔ہم ان کی شفقت سے بہت متاثر ہوئے اور ساتھ ہو لئے۔کمرے کے دروازے کے قریب پہنچ کر وہ تو کھڑی ہو گئیںاور ہمیں اندر جانے کا اشارہ کیا ۔ہم جلدی میں تھے نہ پروفیسر صاحب کو دیکھا اور نہ طلبہ کو ۔نگاہیں زمین پر گاڑے ہوئے ڈائس کے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے ۔پروفیسر صاحب لیکچر دیتے دیتے ٹھہر گئے اور فرمایا آپ کونسی کلاس میں ہیں کچھ گھبرائے یہ بی ،اے سیکنڈائیر کی کلاس ہے ۔ اب ہمیں معاملے کی سنگینی کا علم ہوا اور فوراً اٹھ کر دروازے کی طرف لپکے ۔ چوکھٹ پار کرتے ہوئے طلبہ کی ہنسی کی آواز ہمارے کانوں میں زہر گھول رہی تھی ۔
ہماری محسنہ گرلز روم میں خیر مقدم کے لئے موجود تھیں۔اپنے دو پٹے کے آنچل سے ہمارے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا ۔جب ہم فرسٹ ائیر میں آئے تو ہمارے ساتھ بھی یہی حرکت کی گئی تھی ۔ہم نے صرف اس واقعہ کی یاد تازہ کی ہے ۔”(مجلہ ”سروش”بابت ستمبر 1962صفحہ نمبر53)
یہ ہے اپریل فول ڈے ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیروں کی رسموں سے نجات دے اور جھوٹ جیسے مہلک مرض سے شفا دے ۔ آمین!
شائع فرماکر شکریہ کا موقعہ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں