اوسلو میں پاکستانی دوکان دار پر انسانی اسمگلنگ کا الزام

گزشتہ دنوںپولیس آپریشن کے نتیجے میںاوسلو میں واقع پاکستانی دوکانوں کی چین کے مالک کے والدین کو بھی پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔پولیس کو خدشہ ہے کہ دوکان کے مالک کے والدین نے بھی ناجائز رقم کو خرد برد کیا ہے۔دوکان کے مالک سجاد پر غیر قانونی کام کرنے کے کئی سنگین الزامات ہیں ۔جن میں سب سے سنگین الزام انسانی اسمگلنگ کا ہے۔مذکورہ بالا شخص پاکستان سے دو تااڑہائی لاکھ روپئے لے کر لوگوں کو ناروے سیٹ ہونے کا جھانسہ دے کر لاتا تھا۔ جب کہ مقامی کاغذات میں یہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ وہ لوگ اس کی دوکانوں پر کام کرتے ہیں ۔اس لیے وہ شخص حکومت کو ٹیکس بھی جمع کراتا تھا۔تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ لوگ اس کی دوکانوں میں ملازم ہیں۔ایک محطاط اندازے کے مطابق یہ شخص اب تک سو سے ذائد افراد کو ناروے بلا چکا ہے۔جن میں سے اکثر غائب ہو چکے ہیں۔پولیس اس بارے میں لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
دوسرا سنگین الزام کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بینکوں سے رقوم کی چوری ہے۔ دوکان پر آنے والے گاہکوں کے کریڈٹ کارڈ ز کی کاپی کر لی جاتی تھی اور گاہکوں کے اکائونٹ سے بیرون ملک سے رقوم نکلوا لی جاتی تھیں۔پولیس تمام الزامات کی تحقیق میں مصروف ہے۔پولیس کو مزید انکشافات کی بھی توقع ہے۔
NTB/UFN

اپنا تبصرہ لکھیں